السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3530. -- باب: الضمان على البهائم
-- باب: جانوروں کے نقصان پر تاوان (ضمان) عائد ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17683
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا لِقَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَفْسَدَتْ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى" أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ" وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ: أَنَّهُ كَانَ يَضْمَنُ مَا أَفْسَدَتِ الْغَنَمُ بِاللَّيْلِ، وَلَا يَضْمَنُ مَا أَفْسَدَتْ بِالنَّهَارِ، وَيَتَأَوَّلُ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ}، وَكَانَ يَقُولُ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ.
سعید بن مسیب اور حرام بن سعد بن محیصہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی انصار کے کچھ لوگوں کے باغ میں داخل ہو گئی اور اسے خراب کر دیا، وہ اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”کہ دن کے وقت باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے، اور مویشی رات کو جو نقصان کریں وہ مویشیوں کے مالکوں پر ہے۔“
اور ہمیں شعبی کے واسطے سے شریح رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ وہ بکریوں کے رات کو کیے گئے نقصان کا ضامن ٹھہراتے تھے اور دن کو کیے گئے نقصان کا ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور اس آیت کی یہی تفسیر کرتے تھے: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] اور فرماتے تھے: «نَفْشٌ» رات کے وقت ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17683]
اور ہمیں شعبی کے واسطے سے شریح رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ وہ بکریوں کے رات کو کیے گئے نقصان کا ضامن ٹھہراتے تھے اور دن کو کیے گئے نقصان کا ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور اس آیت کی یہی تفسیر کرتے تھے: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] اور فرماتے تھے: «نَفْشٌ» رات کے وقت ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17683]
حدیث نمبر: 17684
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَزْهَرُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ: {إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبياء: ٧٨] ، قَالَ: كَانَ النَّفْشُ بِاللَّيْلِ.
شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ شریح رحمہ اللہ نے اس آیت: ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے بارے میں فرمایا: «نَفْشٌ» ”رات کے وقت ہوتا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17684]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17685
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أُتِيَ شُرَيْحٌ بِشَاةٍ أَكَلَتْ عَجِينًا، فَقَالَ: نَهَارًا أَوْ لَيْلًا؟ قَالُوا: نَهَارًا، فَأَبْطَلَهُ وَقَرَأَ: {إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبياء: ٧٨] ، وَقَالَ: إِنَّمَا النَّفْشُ بِاللَّيْلِ وَفِي رِوَايَةِ قَتَادَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ شُرَيْحًا رُفِعَتْ إِلَيْهِ شَاةٌ أَصَابَتْ غَزْلًا، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: أَبْصِرُوهُ، فَإِنَّهُ سَيَسْأَلُهُمْ: أَبِلَيْلٍ كَانَ أَمْ بِنَهَارٍ؟ فَسَأَلَهُمْ فَقَالَ: إِنْ كَانَ بِلَيْلٍ فَقَدْ ضَمَنْتُمْ، وَإِنْ كَانَ بِنَهَارٍ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْكُمْ، قَالَ: وَقَالَ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ، وَالْهَمَلُ بِالنَّهَارِ وَرَوَى مُرَّةُ عَنْ مَسْرُوقٍ: {إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبياء: ٧٨] ، قَالَ: كَانَ كَرْمًا فَدَخَلَتْ فِيهِ لَيْلًا، فَمَا تَرَكَتْ فِيهِ خَضِرًا.
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک بکری لائی گئی جس نے آٹا کھایا تھا، تو انہوں نے پوچھا: دن میں یا رات میں؟ کہا: دن میں، تو اسے باطل قرار دے دیا اور یہ آیت پڑھی: ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] اور فرمایا: «نَفْشٌ» ”تو رات کے وقت ہی ہوتا ہے۔“
اور قتادہ کی شعبی سے روایت میں ہے کہ شریح کے پاس ایک بکری کا معاملہ لایا گیا جس نے سوت خراب کر دیا تھا، تو شعبی نے کہا: انہیں دیکھو، یہ ان سے پوچھیں گے کہ رات کو ہوا یا دن کو؟ چنانچہ انہوں نے پوچھا اور فرمایا: اگر رات کو ہوا ہے تو تم ضامن ہو اور اگر دن کو ہوا ہے تو تم پر کوئی ضمان نہیں۔ اور فرمایا: نفش رات کو ہوتا ہے اور ہمل (بغیر چرواہے کے چرنا) دن کو۔
اور مرہ نے مسروق سے ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے بارے میں روایت کیا کہ وہ انگور کا باغ تھا، بکریاں رات کو اس میں گھس گئیں اور اس میں کوئی ہری چیز نہ چھوڑی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17685]
اور قتادہ کی شعبی سے روایت میں ہے کہ شریح کے پاس ایک بکری کا معاملہ لایا گیا جس نے سوت خراب کر دیا تھا، تو شعبی نے کہا: انہیں دیکھو، یہ ان سے پوچھیں گے کہ رات کو ہوا یا دن کو؟ چنانچہ انہوں نے پوچھا اور فرمایا: اگر رات کو ہوا ہے تو تم ضامن ہو اور اگر دن کو ہوا ہے تو تم پر کوئی ضمان نہیں۔ اور فرمایا: نفش رات کو ہوتا ہے اور ہمل (بغیر چرواہے کے چرنا) دن کو۔
اور مرہ نے مسروق سے ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے بارے میں روایت کیا کہ وہ انگور کا باغ تھا، بکریاں رات کو اس میں گھس گئیں اور اس میں کوئی ہری چیز نہ چھوڑی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17685]
3531. -- باب: جرح العجماء جبار إذا أرسلت بالنهار أو كانت منفلتة استدلالا بما مضى من حديث ابن عازب
-- باب: ”جانور کا زخم رائیگاں ہے“ جب اسے دن کے وقت چھوڑا گیا ہو یا وہ خود چھوٹ گیا ہو، اس استدلال کی بنا پر جو ابن عازب رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث میں گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 17686
وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جَرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا، کنویں میں اور معدنیات نکالتے ہوئے زخمی ہونا رائیگاں ہے اور رکاز میں خمس ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17686]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17687
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيى بْنِ يَحْيى وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کان رائیگاں ہے، کنواں رائیگاں ہے اور رکاز میں خمس ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17687]
3532. -- باب: الدابة تنفح برجله
-- باب: جانور کے اپنے پاؤں سے لات (دولتی) مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q17688
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُضَمَّنُ قَائِدُهَا وَسَائِقُهَا وَرَاكِبُهَا مَا أَصَابَتْ بِيَدٍ أَوْ فَمٍ أَوْ رِجْلٍ أَوْ ذَنَبٍ، وَاحْتَجَّ فِي ذَلِكَ بِحَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جانور کو آگے سے کھینچنے والا، پیچھے سے ہانکنے والا اور اس پر سوار ہونے والا، اس نقصان کا ضامن ہو گا جو وہ جانور اپنے ہاتھ (اگلے پاؤں)، منہ، پاؤں یا دم سے پہنچائے۔“ اور انہوں نے اس بارے میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: Q17688]
حدیث نمبر: 17688
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرِّجْلُ جُبَارٌ" ⦗٥٩٦⦘ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ:" الرِّجْلُ جُبَارٌ"، فَهُوَ غَلَطٌ وَاللهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ الْحُفَّاظَ لَمْ يَحْفَظُوا هَكذَا قَالَ الشَّيْخُ: هَذِهِ الزِّيَادَةُ يَنْفَرِدُ بِهَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدً وَابْنُ جُرَيْجٍ وَمَعْمَرٌ وَعَقِيلٌ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِيهِ الرِّجْلَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ”پاؤں کا زخم رائیگاں ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو یہ روایت کیا گیا ہے کہ ”پاؤں رائیگاں ہے“ تو یہ غلطی ہے، واللہ اعلم، کیونکہ حفاظ نے اسے اس طرح یاد نہیں رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس اضافے کو زہری سے صرف سفیان بن حسین نے بیان کیا ہے، جبکہ مالک بن انس، لیث بن سعد، ابن جریج، معمر، عقیل، سفیان بن عیینہ اور دیگر نے اسے زہری سے روایت کیا اور ان میں سے کسی نے اس میں پاؤں کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17688]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو یہ روایت کیا گیا ہے کہ ”پاؤں رائیگاں ہے“ تو یہ غلطی ہے، واللہ اعلم، کیونکہ حفاظ نے اسے اس طرح یاد نہیں رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس اضافے کو زہری سے صرف سفیان بن حسین نے بیان کیا ہے، جبکہ مالک بن انس، لیث بن سعد، ابن جریج، معمر، عقیل، سفیان بن عیینہ اور دیگر نے اسے زہری سے روایت کیا اور ان میں سے کسی نے اس میں پاؤں کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17688]
حدیث نمبر: 17689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: لَمْ يُتَابِعْ سُفْيَانَ بْنَ حُسَيْنٍ عَلَى قَوْلِهِ: الرِّجْلُ جُبَارٌ وَاحِدٌ، وَهُوَ وَهَمَ لِأَنَّ الثِّقَاتَ خَالَفُوهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا ذَلِكَ.
امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان بن حسین کی پاؤں کے زخم کے رائیگاں ہونے کے بارے میں کسی نے متابعت نہیں کی۔ یہ ان کا وہم ہے، کیونکہ ثقہ راویوں نے ان کی مخالفت کی ہے اور یہ بات ذکر نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17689]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للدارقطني»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17690
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، فَقَالَ: ثِقَةٌ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سفیان بن حسین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ثقہ تو ہیں لیکن زہری سے روایت میں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17690]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن معين»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17691
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الدَّابَّةُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالرِّجْلُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" فَقَدْ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: كَذَا قَالَ، وَهُوَ وَهَمَ، وَلَمْ يُتَابِعْهُ عَلَيْهِ أَحَدٌ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، وَهُوَ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ وَغَيْرُهُمْ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، پاؤں رائیگاں ہے، کنویں اور معدنیات نکالتے وقت زخمی ہونا رائیگاں ہے اور رکاز میں خمس ہے۔“
امام ابو الحسن دارقطنی فرماتے ہیں: انہوں نے اسی طرح بیان کیا ہے اور یہ وہم ہے، شعبہ سے کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث شعبہ سے محمد بن جعفر غندر نے، جو شعبہ کی حدیث میں حَکَم (معیار) ہیں، اور معاذ بن معاذ عنبری، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی وغیرہ نے اس اضافے کے بغیر روایت کی ہے، اور اسی طرح ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے اس اضافے کے بغیر روایت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17691]
امام ابو الحسن دارقطنی فرماتے ہیں: انہوں نے اسی طرح بیان کیا ہے اور یہ وہم ہے، شعبہ سے کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث شعبہ سے محمد بن جعفر غندر نے، جو شعبہ کی حدیث میں حَکَم (معیار) ہیں، اور معاذ بن معاذ عنبری، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی وغیرہ نے اس اضافے کے بغیر روایت کی ہے، اور اسی طرح ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے اس اضافے کے بغیر روایت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17691]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح