السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3604. -- باب: قطع الشجر وحرق المنازل
-- باب: درخت کاٹنے اور مکانات جلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ:" كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ أُمَرَاءَهُ حِينَ كَانَ يَبْعَثُهُمْ فِي الرِّدَّةِ:" إِذَا غَشِيتُمْ دَارًا" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ:" فَشُنُّوهَا غَارَةً فَاقْتُلُوا، وَأَحْرِقُوا، وَانْهَكُوا فِي الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ، لَا يُرَى بِكُمْ وَهَنٌ لِمَوْتِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب ارتداد کے خلاف لشکر روانہ فرماتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم کسی علاقہ پر حملہ کرو تو ہر طرف سے حملہ کرو، قتل کرو، جلاؤ اور قتل و زخمی کرنے میں مبالغہ کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی وجہ سے تمہارے اندر کمزوری ظاہر نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18124]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3605. -- باب: من اختار الكف عن القطع والتحريق إذا كان الأغلب أنها ستصير دار إسلام أو دار عهد
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے درخت کاٹنے اور مکانات جلانے سے رکنے کو اس صورت میں اختیار کیا جب غالب گمان یہ ہو کہ وہ علاقہ دار الاسلام یا دار العہد (معاہدہ والا علاقہ) بن جائے گا۔
حدیث نمبر: 18125
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ الْكَرَابِيسِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا بَعَثَ الْجُنُودَ نَحْوَ الشَّامِ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَشُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ، قَالَ: لَمَّا رَكِبُوا مَشَى أَبُو بَكْرٍ مَعَ أُمَرَاءِ جُنُودِهِ يُوَدِّعُهُمْ حَتَّى بَلَغَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، فَقَالُوا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ، أَتَمْشِي وَنَحْنُ رُكْبَانٌ؟ فَقَالَ:" إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ". ثُمَّ جَعَلَ يُوصِيهِمْ، فَقَالَ:" أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ، فَإِنَّ اللهَ نَاصِرٌ دِينَهُ، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَجْبُنُوا، وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ، وَلَا تَعْصُوا مَا تُؤْمَرُونَ، فَإِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنْ شَاءَ اللهُ فَادْعُوهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلُوا مِنْهُمْ وَكُفُّوا عَنْهُمْ، ادْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلُوا مِنْهُمْ وَكُفُّوا عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُوهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ هُمْ فَعَلُوا فَأَخْبِرُوهُمْ ⦗١٤٦⦘ أَنَّ لَهُمْ مِثْلَ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ هُمْ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ عَلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي فَرَضَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنَائِمِ شَيْءٌ حَتَّى يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَادْعُوهُمْ إِلَى الْجِزْيَةِ، فَإِنْ هُمْ فَعَلُوا فَاقْبَلُوا مِنْهُمْ وَكُفُّوا عَنْهُمْ، وَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِينُوا بِاللهِ عَلَيْهِمْ فَقَاتِلُوهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَلَا تُغْرِقُنَّ نَخْلًا وَلَا تَحْرِقُنَّهَا، وَلَا تَعْقِرُوا بَهِيمَةً، وَلَا شَجَرَةً تُثْمِرُ، وَلَا تَهْدِمُوا بَيْعَةً، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا الشُّيُوخَ وَلَا النِّسَاءَ، وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ فِي الصَّوَامِعِ فَدَعُوهُمْ وَمَا حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ، وَسَتَجِدُونَ آخَرِينَ اتَّخَذَ الشَّيْطَانُ فِي رُءُوسِهِمْ أَفْحَاصًا، فَإِذَا وَجَدْتُمْ أُولَئِكَ فَاضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ"..
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی جانب لشکر (یزید بن ابی سفیان، عمرو بن عاص اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم کو) روانہ فرمائے، تو جب وہ سوار ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لشکر کو الوداع کہنے کے لیے ثنیۃ الوداع تک پیدل ان کے ساتھ گئے، انہوں نے کہا: ”اے خلیفۂ رسول اللہ! ہم سوار اور آپ پیدل؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت سے اٹھاتا ہوں۔“ پھر امراء کو وصیت فرماتے ہوئے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ کے راستے میں غزوہ کرو، جو اللہ کے ساتھ کفر کرے ان سے جہاد کرو۔ اللہ اپنے دین کی مدد کرنے والا ہے۔ خیانت نہ کرو، دھوکا نہ دو، بزدلی نہ دکھاؤ، زمین پر فساد نہ کرو، دیے گئے احکام کی نافرمانی نہ کرو۔ اگر اللہ چاہے تمہاری ملاقات دشمن سے ہو جائے تو ان کو تین چیزوں کی طرف دعوت دو۔ اگر وہ قبول کر لیں تو تم ان سے اپنے ہاتھ روک لو: 1 انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر اسلام قبول کر لیں تو اپنے ہاتھ ان سے روک لو، پھر انہیں اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں میں منتقل ہونے کا کہا جائے۔ اگر وہ یہ کام کر لیں تو انہیں بتا دیں، ان کے لیے وہی ہے جو مہاجرین کے لیے ہے یا ان کے ذمہ بھی وہی ہے جو مہاجرین کے ذمہ ہے، اگر وہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مہاجرین کے گھروں پر اپنے گھروں کو ترجیح دیں تو ان کو بتا دینا کہ وہ عام دیہاتی مسلمانوں کی مانند ہیں، جو مومنوں پر احکام جاری ہوتے ہیں وہی ان کے اوپر ہوں گے اور مالِ فے اور غنیمت سے اس وقت تک حصہ نہ ملے گا جب تک مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں گے۔ 2 اگر اسلام میں داخل ہونے سے انکار کر دیں تو جزیہ کی دعوت دو، اگر یہ کام کریں تو جزیہ قبول کر لو اور اپنے ہاتھ روک لو۔ 3 اگر وہ اس سے انکار کریں تو ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرو اور اگر اللہ چاہے تو ان سے قتال کرو۔ اور تم کھجور کے درختوں کو پانی میں مت ڈبوؤ اور نہ ہی ان کو جلاؤ، چوپائے اور پھل دار درخت نہ کاٹو اور گرجا گھر مت گراؤ، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو مت قتل کرو۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو چرچوں کے اندر روک رکھا ہوگا، ان کو اور جس کام کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے اسے چھوڑ دو، اور عنقریب تم ایسے لوگ پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں کے درمیان گھونسلا بنا رکھا ہوگا، جب تم ایسے افراد سے ملو تو ان کی گردنیں اتار دو اگر اللہ چاہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18125]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ مَا أَظُنُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا، هَذَا كَلَامُ أَهْلِ الشَّامِ، أَنْكَرَهُ أَبِي عَلَى يُونُسَ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، كَأَنَّهُ عِنْدَهُ مِنْ يُونُسَ، عَنْ غَيْرِ الزُّهْرِيِّ.
عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ حدیث منکر ہے، میرا خیال نہیں کہ اس میں سے کچھ بھی (ثابت) ہو، یہ اہل شام کا کلام ہے۔“ میرے والد نے یونس کی اس روایت کو زہری کی حدیث کے طور پر منکر قرار دیا، گویا ان کے نزدیک یونس نے اسے زہری کے علاوہ کسی اور سے لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18126]
حدیث نمبر: 18127
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَعَلَّ أَمْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَنْ يَكُفُّوا عَنْ أَنْ يَقْطَعُوا شَجَرًا مُثْمِرًا؛ إِنَّمَا هُوَ لِأَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ أَنَّ بِلَادَ الشَّامِ تُفْتَحُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ"، فَلَمَّا كَانَ مُبَاحًا لَهُ أَنْ يَقْطَعَ وَيَتْرُكَ اخْتَارَ التَّرْكَ نَظَرًا لِلْمُسْلِمِينَ، لَا لِأَنَّهُ رَآهُ مُحَرَّمًا؛ لِأَنَّهُ قَدْ حَضَرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْرِيقَهُ بِالنَّضِيرِ، وَخَيْبَرَ، وَالطَّائِفِ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شاید سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پھل دار درختوں کو کاٹنے سے اس لیے منع فرمایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ”شام کے شہر مسلمان فتح کریں گے۔“ پھل دار درخت کو کاٹنا اور چھوڑ دینا دونوں طرح جائز ہے، تو انہوں نے مسلمانوں کی وجہ سے چھوڑ دینے کو اختیار کیا اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس کو حرام خیال کرتے تھے؛ کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب بنو نضیر، خیبر اور طائف کے پھل دار درختوں کو جلایا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18127]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3606. -- باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل
-- باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18128
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ⦗١٤٧⦘ مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللهُ عَنْ قَتْلِهِ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا، وَلَا تَقْطَعَ رَأْسَهَا فَتَرْمِيَ بِهَا". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَصْبُورَةِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے پرندے کو ناحق قتل کیا تو اللہ رب العزت اس کے قتل کے بارے میں سوال کریں گے۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”آپ ذبح کر کے اس کو کھائیں، اس کا سر کاٹ کر پھینک نہ دیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصبورہ (یعنی باندھ کر نشانہ بنائے گئے جانور) سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18128]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصبورہ (یعنی باندھ کر نشانہ بنائے گئے جانور) سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18128]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18129
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَرَأَى غِلْمَانًا أَوْ فِتْيَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصْبَرَ الْبَهَائِمُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
ہشام بن زید کہتے ہیں: میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس آیا، انہوں نے بچوں یا نوجوانوں کو دیکھا کہ وہ ایک مرغی کو نصب کر کے نشانہ بازی کر رہے ہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چوپایوں کو باندھنے سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18130
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الْبَهَائِمِ صَبْرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى.
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کسی چوپائے کو باندھ کر قتل کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18130]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٥٩»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18131
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ، إِلَى أَنْ قَالَ:" وَلَا تَعْقِرُنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر بھیجے۔ ان کی وصیت کے بارے میں حدیث کو ذکر کیا، جس کے آخر میں ہے کہ ”بکری اور اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18131]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18132
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ، فَمَشَى مَعَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ:" وَلَا تَذْبَحُوا بَعِيرًا وَلَا بَقَرًا إِلَّا لِمَأْكَلٍ".
ابو عمران جونی فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف بھیجا، انہوں نے حدیث ذکر کی جس کے آخر میں ہے کہ ”تم اونٹ اور گائے کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18132]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18133
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: حَدَّثَنَا بَعْضُ أَشْيَاخِنَا، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الرُّومَ يَأْخُذُونَ مَا حُسِرَ مِنْ خَيْلِنَا فَيَسْتَعْجِلُونَهَا وَيُقَاتِلُونَ عَلَيْهَا أَفْنَعْقِرُ مَا حُسِرَ مِنْ خَيْلِنَا؟ فَقَالَ: لَا، لَيْسُوا بِأَهْلٍ أَنْ يَنْتَقِصُوا مِنْكُمْ، إِنَّمَا هُمْ غَدًا رَقِيقُكُمْ وَأَهْلُ ذِمَّتِكُمْ"" زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَوْصَى ابْنَهُ:" لَا يَعْقِرُ جَسَدًا"، وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّهُ" نَهَى عَنْ عَقْرِ الدَّابَّةِ إِذَا هِيَ قَامَتْ"، وَعَنْ قَبِيصَةَ" أَنَّ فَرَسَهُ قَامَ عَلَيْهِ بِأَرْضِ الرُّومِ فَتَرَكَهُ وَنَهَى عَنْ عَقْرِهِ"، أَخْبَرَنَا مَنْ سَمِعَ هِشَامَ بْنَ الْغَازِ، وَيَرْوِي عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْهَا فَنَهَاهُ وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہمارے جو گھوڑے تھک کر رہ جاتے ہیں، رومی انہیں پکڑ لیتے ہیں اور جلدی سے کام میں لا کر ان پر لڑائی کرتے ہیں، کیا ہم اپنے تھکے ہوئے گھوڑوں کی کونچیں کاٹ دیا کریں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، وہ اس لائق نہیں کہ تمہارا کچھ نقصان کر سکیں، کل وہ تمہارے غلام ہوں گے یا اہل ذمہ۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو وصیت کی: ”کسی جاندار کی کونچیں نہ کاٹنا۔“ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہ انہوں نے سواری کے تھک کر رک جانے پر اس کی کونچیں کاٹنے سے منع فرمایا۔ اور قبیصہ سے کہ روم کی سرزمین میں ان کا گھوڑا تھک کر رک گیا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کی کونچیں کاٹنے سے منع کیا۔ اور ہمیں اس شخص نے خبر دی جس نے ہشام بن غاز سے سنا، وہ مکحول سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے منع کیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مثلہ سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18133]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو وصیت کی: ”کسی جاندار کی کونچیں نہ کاٹنا۔“ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہ انہوں نے سواری کے تھک کر رک جانے پر اس کی کونچیں کاٹنے سے منع فرمایا۔ اور قبیصہ سے کہ روم کی سرزمین میں ان کا گھوڑا تھک کر رک گیا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کی کونچیں کاٹنے سے منع کیا۔ اور ہمیں اس شخص نے خبر دی جس نے ہشام بن غاز سے سنا، وہ مکحول سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے منع کیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مثلہ سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18133]