🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3691. -- باب: الرجلين يقتل أحدهما صاحبه فيدخلان الجنة
-- باب: ان دو آدمیوں کا بیان جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے پھر دونوں جنت میں داخل ہو جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18532
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَضْحَكُ اللهُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ". قَالُوا: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: يُقْتَلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَتُوبُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيُسْتَشْهَدُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان دو لوگوں پر مسکراتا ہے جو ایک دوسرے کو قتل کر دینے کے باوجود جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔“ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتول جنت میں داخل ہو جاتا ہے، پھر قاتل کو اللہ اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشتا ہے، پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18532]
تخریج الحدیث: «متفق عليه»

الحكم على الحديث: متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَضْحَكُ اللهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُقَاتِلُ فَيُسْتَشْهَدُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو انسانوں پر مسکراتے ہیں جو ایک دوسرے کو قتل کرنے کے باوجود جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایک اللہ کے راستے میں لڑتا ہوا شہید ہوا، جبکہ دوسرے کی اللہ نے توبہ قبول کر لی، پھر وہ بھی راہِ خدا میں شہادت حاصل کر لیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18533]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3692. -- باب: فضل من مات في سبيل الله
-- باب: اللہ کی راہ میں وفات پانے والے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18534
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ،، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالُوا: أنبأ ⦗٢٧٩⦘ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَت: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ"، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، يَشُكُّ أَيُّهُمَا. قَالَ: قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ"، كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ". فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس کھانے کے لیے تشریف لائے اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ کھانا کھلانے کے بعد سر سے جوئیں نکالنے بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کس بات نے ہنسا دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے۔ وہ سمندر کے درمیان سواری کرتے ہیں، جیسے بادشاہ تختوں پر۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دعا کر دیں کہ میں بھی ان میں سے ہو جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ وہ فرماتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے پہلی مرتبہ تھے۔“ انہوں نے دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کر دی کہ انہیں ان میں شمار کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے سمندر کا سفر کیا، جب وہ سمندر سے نکلیں تو چوپائے کی سواری سے گرنے کی وجہ سے وفات پا گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18534]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18535
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَيْتِهَا يَوْمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ:" عُرِضَ عَلَيَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ". قُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ". فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَغَزَا بِهَا فِي الْبَحْرِ، فَلَمَّا رَجَعُوا قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا، فَصَرَعَتْهَا فَدُقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ.
ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے گھر قیلولہ فرما رہے تھے تو بیدار ہونے کے بعد مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ کو کس چیز نے مسکرا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ سمندر پر سواری کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔“ میں نے کہا: دعا کریں اللہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر کے دوبارہ لیٹ گئے۔ پھر بیدار ہونے کے بعد اسی طرح ہی فرمایا، میں نے دوبارہ دعا کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔“ تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا اور انہیں سمندری سفر میں لے گئے۔ جب واپس آنے لگے تو خچر سے گرنے کی وجہ سے گردن ٹوٹ گئی، یہ ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18535]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتِيكٍ أَخِي بَنِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ ⦗٢٨٠⦘ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ"، قَالَ: ثُمَّ ضَمَّ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ،" وَأَيْنَ الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِهِ فَمَاتَ، فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَإِنْ لَدَغَتْهُ دَابَّةٌ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ"، قَالَ: وَإِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوَّلَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي بِحَتْفِ أَنْفِهِ عَلَى فِرَاشِهِ،" فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ قُتِلَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْجَنَّةَ".
بنو سلمہ کے محمد بن عبداللہ بن عتیک اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو جہاد فی سبیل اللہ کی نیت سے گھر سے نکلا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیاں ملائیں اور فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کہاں ہیں؟ جو شخص اللہ کے راستے میں اپنی سواری سے گر کر فوت ہو جائے تو اس کا معاملہ اللہ کے ذمے ہے اور اگر کسی چیز کے ڈسنے کی وجہ سے فوت ہو جائے تو اس کو مکمل اجر ملے گا اور جو انسان اپنی طبعی موت فوت ہو گیا۔“ راوی کہتے ہیں: یہ کلمہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی عرب سے نہ سنا تھا، یعنی جو اپنے بستر پر فوت ہو گیا: ”اس کا اجر بھی اللہ کے ذمے ہے اور جو انسان موقع پر ہی قتل کر دیا گیا اس نے جنت کو واجب کر لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18536]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18537
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا عُتْبَةُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، يَرُدُّهُ إِلَى مَكْحُولٍ إِلَى ابْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنِ انْتَدَبَ خَارِجًا فِي سَبِيلِ اللهِ ابْتِغَاءَ وَجْهِهِ، وَتَصْدِيقَ وَعْدِهِ، وَإِيمَانًا بِرِسَالِاتِهِ عَلَى اللهِ ضَامِنٌ، فَإِمَّا يَتَوَفَّاهُ اللهُ فِي الْجَيْشِ بِأِيِّ حَتْفٍ شَاءَ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، وَإِمَّا يَسِيحُ فِي ضَمَانِ اللهِ وَإِنْ طَالَتْ غَيْبَتُهُ، ثُمَّ يَرُدُّهُ إِلَى أَهْلِهِ سَالِمًا مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ". قَالَ:" وَمَنْ فَصَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ"، يَعْنِي" فَهُوَ شَهِيدٌ،" أَوْ وَقَصَهُ فَرَسُهُ، أَوْ بَعِيرُهُ، أَوْ لَدَغَتْهُ هَامَةٌ، أَوْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ بِأِيِّ حَتْفٍ شَاءَ اللهُ فَإِنَّهُ شَهِيدٌ وَلَهُ الْجَنَّةُ".
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اللہ کی رضامندی کی تلاش، اس کے وعدے کی تصدیق اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی وجہ سے، تو اللہ رب العزت اس بندے کا ضامن ہے کہ اللہ اس کو لشکر میں جس طرح بھی موت دے، اس کو جنت میں داخل کرلے گا۔ وہ اللہ کی ضمانت میں ہی رہے گا، اگرچہ وہ زیادہ دیر غائب رہے۔ پھر اللہ رب العزت اس کو اس کے گھر صحیح سلامت اور اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔“ راوی کہتے ہیں: ”جو اللہ کے راستے میں فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے یا اس کا گھوڑا یا اونٹ گرا دے یا کوئی زہریلی چیز ڈس لے یا اپنے بستر پر ہی فوت ہوجائے، یہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18537]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ الْغَسَّانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: رَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ".
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”تین شخصوں کا اللہ ضامن ہے: ایسا شخص جو جہاد کے لیے نکلتا ہے تو اللہ اس کی ضمانت دیتے ہیں کہ اسے فوت کرکے جنت میں داخل کرلے یا ایسے شخص کو ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے، اور ایسا شخص جو مسجد جاتا ہے تو اللہ کے ذمے ہے کہ موت کے بعد اس کو جنت میں داخل کرے یا ثواب یا مال غنیمت دے کر واپس کرے، اور وہ آدمی جو اپنے گھر میں سلام کہہ کر داخل ہوتا ہے، اس کا بھی اللہ ضامن ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18538]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18539
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَيْسِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى بَابِهِ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ نَفْسَكَ؟ قَالَ: وَمَا لِي يُرِيدُ عَدُوُّ اللهِ أَنْ يُلْهِيَنِي عَنْ كَلَامٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: مُكَابِدٌ دَهْرَكَ الْآنَ فِي بَيْتِكَ أَلَا تَخْرُجُ إِلَى الْمَجْلِسِ فَتَحَدَّثُ، وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ، وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ لَا يَغْتَابُ أَحَدًا بِسُوءٍ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ، وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا كَانَ ⦗٢٨١⦘ ضَامِنًا عَلَى اللهِ، وَمَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُعَزِّرُهُ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللهِ"، فَيُرِيدُ عَدُوُّ اللهِ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ بَيْتِي إِلَى الْمَجْلِسِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ اپنے گھر کے دروازے کے سامنے بیٹھے ہاتھوں سے اشارے کر رہے تھے، گویا آپ سے باتیں کر رہے ہوں، تو عبداللہ نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اپنے نفس سے باتیں کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کے دشمن مجھے اس کلام سے غافل کر دینا چاہتے ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ عبداللہ نے کہا: تم اب اپنے گھر میں زمانے کی سختیاں جھیل رہے ہو، مجلس کی طرف کیوں نہیں نکلتے کہ باتیں کرو؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے، اللہ اس کا ضامن ہے، اور جو انسان اپنے گھر میں کسی کی برائی بیان نہیں کرتا، یعنی چغلی نہیں کرتا، اللہ اس کا بھی ضامن ہے، اور جو بیمار کی تیمارداری کر لے، صبح یا شام مسجد کی طرف جائے، ان کا بھی اللہ ضامن ہے، اور جو شخص امام کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کا بھی ضامن ہے“۔ اللہ کے دشمن کا ارادہ تھا کہ مجھے میرے گھر سے مجلس کی طرف نکال دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18539]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3693. -- باب: من أتاه سهم غرب فقتله
-- باب: اس شخص کا بیان جسے کوئی انجان تیر آ کر لگے اور اسے شہید کر دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18540
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ أُمَّ الرُّبَيِّعِ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بِنْتُ سُرَاقَةَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَلَا تُخْبِرُنِي عَنْ حَارِثَةَ؟ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ الْبُكَاءَ. قَالَ:" يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى". قَالَ قَتَادَةُ: الْفِرْدَوْسُ: رَبْوَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَأَفْضَلُهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدہ ام ربیع بنت براء رضی اللہ عنہا (یہ ام حارثہ بن سرقہ ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: ”آپ مجھے حارثہ کے بارے میں خبر دیں جو بدر کے دن نامعلوم تیر کی وجہ سے فوت ہوئے، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں اور اگر کسی اور جگہ ہے تو جی بھر کر رو لوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام حارثہ! وہ جنت کے باغوں میں ہے اور تیرا بیٹا تو جنت الفردوس میں ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”فردوس جنت میں اونچی جگہ ہے، جنت کے درمیان اور افضل جگہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18540]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٨٠٩۔ ٢٩٨٣»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3694. -- باب: من يسلم فيقتل مكانه في سبيل الله
-- باب: اس شخص کا بیان جو اسلام لائے اور اسی وقت اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18541
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النِّيسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا، وَأُجِرَ كَثِيرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَنَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر میدانِ جہاد میں لڑتا ہوا شہید ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل تو اس نے تھوڑا کیا ہے لیکن اجر زیادہ پایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18541]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں