السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3704. -- باب: الاستئذان في القفول بعد النهي
-- باب: جہاد سے واپسی کی ممانعت کے بعد اجازت طلب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18582
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: {عَفَا اللهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَاللهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ} [التوبة: ٤٤] ، نَسَخَتْهَا الَّتِي فِي النُّورِ: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: ٦٢] . وَكَذَلِكَ ⦗٢٩٣⦘ رَوَاهُ عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَبِمَعْنَاهُ قَالَ قَتَادَةُ: قَالَ: رَخَّصَ لَهُ هَهُنَا بَعْدَمَا قَالَ لَهُ: {عَفَا اللهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ} [التوبة: ٤٣] .
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ﴾ [سورة التوبة: 43] ”اللہ نے آپ کو معاف کر دیا، آپ نے ان کو اجازت کیوں دی؟ یہاں تک کہ وہ آپ کے لیے واضح ہو جاتے جنہوں نے سچ کہا یا جھوٹ بولتے ہیں“ اور ﴿لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ بِالْمُتَّقِيْنَ﴾ [سورة التوبة: 44] ”آپ سے اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اجازت طلب نہیں کرتے کہ وہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد نہیں کرتے اور اللہ متقین کو جاننے والا ہے“ اور ﴿اِنَّمَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِيْ رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُوْنَ﴾ [سورة التوبة: 45] ”صرف آپ سے اجازت وہ لوگ طلب کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ متردد ہیں۔“ ان آیات کو سورہ نور کی آیت نے منسوخ کر دیا، یعنی: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوْا حَتّٰى يَسْتَاْذِنُوْهُ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾ [سورة النور: 62] ۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہاں رخصت دے دی، اس کے بعد جب یہ کہا: ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ﴾ [سورة التوبة: 43] ”اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا ہے۔ آپ نے ان کو اجازت کیوں دی؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18582]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3705. -- باب: الإذن بالقفول وكراهية الطرق
-- باب: واپسی کی اجازت اور رات کے وقت اچانک گھر لوٹنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18583
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مِنْ غَزْوَةٍ قَالَ:" لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ" وَأَرْسَلَ مَنْ يُؤْذِنُ النَّاسَ أَنَّهُ قَادِمٌ الْغَدَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ سے واپس آتے تو فرماتے: ”تم رات کے وقت اپنے گھر عورتوں کے پاس واپس پلٹ کر نہ آؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اطلاع دی کہ ”میں کل آنے والا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18583]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3706. -- باب: البشارة في الفتوح
-- باب: فتوحات کی خوشخبری دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18584
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ". وَكَانُوا يُسَمُّونَهَا كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي فَقَالَ:" اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا". قَالَ: فَانْطَلَقَ فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، ثُمَّ بَعَثَ حُصَيْنَ بْنَ رَبِيعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا مِثْلَ الْجَمَلِ الْأَجْرَبِ. فَبَارَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت نہیں دو گے؟“ وہ اس کا نام کعبہ یمانیہ رکھتے تھے۔ ہم قبیلہ احمس کے ایک سو پچاس شہسوار لے کر گئے لیکن میں گھڑ سواری نہیں کر سکتا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نشانات میرے سینے پر موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! اس کو ثابت رکھ اور اس کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اسے توڑ کر آگ سے جلا ڈالا، پھر سیدنا حصین بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں آپ کے پاس اس وقت آیا ہوں جب ہم نے اسے خارشی اونٹ کی مانند چھوڑ دیا“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے شہسواروں اور پیادہ پر پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18584]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18585
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السِّقَاءِ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِيُّ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَّفَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَلَى رُقَيَّةَ ابْنَةِ ⦗٢٩٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ بَدْرٍ، فَجَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبِشَارَةِ، قَالَ أُسَامَةُ: فَسَمِعْتُ الْهَيْعَةَ فَخَرَجْتُ، فَإِذَا زَيْدٌ قَدْ جَاءَ بِالْبِشَارَةِ، فَوَاللهِ مَا صَدَّقْتُ حَتَّى رَأَيْنَا الْأُسَارَى، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِسَهْمِهِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کے لیے بدر سے پیچھے چھوڑا تو زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی «الْعَضْبَاءُ» ”عضباء“ پر فتح کی خوش خبری لے کر آئے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے گھبراہٹ والی آواز سنی تو میں باہر آیا، وہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے جو فتح کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے قیدی دیکھ کر اس کی تصدیق کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے بدر کا حصہ مقرر فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18585]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3707. -- باب: ما جاء في إعطاء البشراء
-- باب: خوشخبری لانے والوں کو انعام دینے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18586
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ مِنْ بَنِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي تَوْبَتِهِ وَإِيذَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيْهِ وَعَلَى صَاحِبَيْهِ قَالَ:" سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ: يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ، قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ ثَوْبِيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبُشْرَاهُ، وَوَاللهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن کعب رحمہ اللہ جو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے بیٹوں میں سے ان کا ہاتھ پکڑ کر لے جانے والے تھے، کہتے ہیں: میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے اور ان کی توبہ کا قصہ سنا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے دو ساتھیوں کو توبہ کی قبولیت کی خبر دی۔ کہتے ہیں: میں نے سلع پہاڑ پر بلند آواز سے پکارنے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا: اے کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ۔ کہتے ہیں: میں سجدہ میں گر پڑا اور جان گیا کہ خوشحالی کے دن آ گئے۔ جب آواز دینے والا میرے قریب آیا، وہ مجھے خوشخبری دے رہا تھا تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے دے دیے کیونکہ اس کے علاوہ میں اس دن کسی اور چیز کا مالک نہ تھا اور دو کپڑے ادھار لے کر زیب تن کیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18586]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3708. -- باب: استقبال الغزاة
-- باب: غازیوں (مجاہدین) کا استقبال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18587
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ خَرَجَ النَّاسُ يَتَلَقَّوْنَهُ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ وَأَنَا غُلَامٌ فَتَلَقَّيْنَاهُ.
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو لوگوں نے ثنیۃ الوداع جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ گیا جبکہ میں اس وقت بچہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18587]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٤٤٢٠٠»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18588
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَذْكُرُ مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مِنْ تَبُوكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ثنیۃ الوداع جا کر استقبال کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور سفیان بھی کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے بارے میں بیان کرتا ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس پلٹے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18588]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
3709. -- باب: الصلاة إذا قدم من سفر
-- باب: جب کوئی سفر سے واپس آئے تو نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18589
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ لِي:" ادْخُلِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ وَقَدْ مَضَى سَائِرُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي رُوِيَتْ فِي آدَابِ السَّفَرِ فِي آخِرِ كِتَابِ الْحَجِّ، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي رُوِيَتْ فِي الْإِعْدَادِ لِلْجِهَادِ فِي كِتَابِ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے مدینہ واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”پہلے مسجد جا کر دو رکعت نماز ادا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18589]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3710. -- باب: قتال اليهود
-- باب: یہودیوں سے جنگ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18590
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِسْحَاقِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُقَاتِلُونَ الْيَهُودَ حَتَّى يَخْتَبِئَ أَحَدُهُمْ وَرَاءَ الْحَجَرِ فَيَقُولُ: يَا عَبْدَ اللهِ الْمُسْلِمَ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہود کے ساتھ قتال کرو گے، جب کوئی یہودی پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو پتھر آواز دے کر کہے گا: اے مسلمان بندے! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، اس کو قتل کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18590]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3711. -- باب: ما جاء في فضل قتال الروم وقتال اليهود
-- باب: روم اور یہودیوں سے جنگ کرنے کی فضیلت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18591
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلَّادٍ وَهِيَ مُتَنَقِّبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنٍ لَهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِِبَةٌ؟ فَقَالَتْ: إِنْ أُرْزَأِ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ". قَالَتْ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لِأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ".
عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کو ام خلاد رضی اللہ عنہا کہا جاتا تھا، وہ پردہ کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”باپردہ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی ہے؟“ اس عورت نے کہا: ”میرا بیٹا قتل ہوا۔ میری حیا تو ختم نہ ہوئی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے بیٹے کو دو شہیدوں کا اجر ملے گا۔“ اس عورت نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ اس کو اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18591]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف