السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3716. -- باب: من لا تؤخذ منه الجزية من أهل الأوثان
-- باب: بت پرستوں میں سے کن لوگوں سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18623
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں حتٰی کہ وہ کہہ دیں کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“، جس شخص نے یہ کہہ دیا کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ تو اس نے اپنا مال اور جان مجھ سے بچا لیا، البتہ اسلام کے حقوق قائم رہیں گے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18623]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18624
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
سیدنا جابر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ کہہ دیں۔ جب انہوں نے یہ کہہ دیا تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جانیں مجھ سے بچا لیں، البتہ اسلام کے حقوق قائم رہیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18624]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18625
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عِصَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا أَوْ رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا".
ابنِ عصام اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چھوٹا لشکر بھیجتے تو فرماتے: ”جب تم کسی مؤذن کی آواز سنو یا تم کسی مسجد کو دیکھو تو کسی کو قتل نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18625]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ"؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ. قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ..
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو بعض عرب نے کفر کر دیا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑائی کریں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ کہہ دیں کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ’اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں‘، جس نے یہ کہہ دیا کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ’اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں‘ تو اس نے اپنا مال اور جان مجھ سے بچا لیے، البتہ اسلام کے حقوق قائم رہیں گے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا میں اس سے لڑائی کروں گا، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کی جانے والی رسی بھی مجھ سے روکیں گے تو میں اس کے اسی روکنے کی وجہ سے ان سے لڑائی کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں پہچان گیا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو لڑائی کے لیے کھول دیا ہے اور میں جان گیا کہ یہ حق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18626]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18627
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا مِثْلُ الْحَدِيثَيْنِ قَبْلَهُ فِي الْمُشْرِكِينَ مُطْلَقًا، وَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ مُشْرِكُو أَهْلِ الْأَوْثَانِ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَضْرَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا قُرْبَهُ أَحَدٌ مِنْ مُشْرِكِي أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا يَهُودُ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا حُلَفَاءَ الْأَنْصَارِ، وَلَمْ تَكُنِ الْأَنْصَارُ اسْتَجْمَعَتْ أَوَّلَ مَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِسْلَامًا، فَوَادَعَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَخْرُجْ إِلَى شَيْءٍ مِنْ عَدَاوَتِهِ بِقَوْلٍ يَظْهَرُ وَلَا فِعْلٍ، حَتَّى كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ فَتَكَلَّمَ بَعْضُهَا بِعَدَاوَتِهِ وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ بِالْحِجَازِ عَلِمْتُهُ إِلَّا يَهُودُ أَوْ نَصَارَى قَلِيلٌ بِنَجْرَانَ، وَكَانَتِ الْمَجُوسُ بِهَجَرَ وَبِبِلَادِ الْبَرْبَرِ وَفَارِسَ نَائِينَ عَنِ الْحِجَازِ، دُونَهُمْ مُشْرِكُونَ أَهْلُ الْأَوْثَانِ كَثِيرٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بھی پہلی دو احادیث کی طرح مطلق مشرکین کے بارے میں ہے، اور اس سے مراد، واللہ اعلم، بتوں کے پجاری مشرکین ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اور آپ کے قریب اہل کتاب کے مشرکین میں سے کوئی بھی نہ تھا سوائے مدینہ کے یہودیوں کے جو انصار کے حلیف تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی طور پر تشریف لانے کے وقت انصار سب کے سب اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے، چنانچہ یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کر لی اور واقعہ بدر تک ان کی طرف سے آپ کی دشمنی قول اور فعل کے ذریعے ظاہر نہ ہوئی، لیکن اس موقع پر ان میں سے بعض نے آپ سے دشمنی اور آپ کے خلاف ابھارنے کی باتیں کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بعض کو قتل کیا۔ حجاز میں میرے علم کے مطابق صرف یہودی یا نجران کے تھوڑے سے عیسائی تھے، اور مجوسی ہجر، بربر کے علاقوں اور فارس میں تھے جو حجاز سے دور تھے، اور ان کے علاوہ بتوں کے پجاری مشرکین بہت زیادہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18627]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18628
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ ابْنُ أَحَدِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ الْيَهُودِيَّ كَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ يَهْجُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فِي شِعْرِهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَهْلُهَا أَخْلَاطٌ، مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ الَّذِينَ تَجْمَعُهُمْ دَعْوَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْهُمُ الْمُشْرِكُونَ الَّذِينَ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَمِنْهُمُ الْيَهُودُ وَهُمْ أَهْلُ الْحَلْقَةِ وَالْحُصُونِ وَهُمْ حُلَفَاءُ لِلْحَيَّيْنِ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ اسْتِصْلَاحَهُمْ كُلَّهُمْ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَبُوهُ مُشْرِكٌ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَخُوهُ مُشْرِكٌ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٠٩⦘ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ أَشَدَّ الْأَذَى، فَأَمَرَ اللهُ رَسُولَهُ وَالْمُسْلِمِينَ بِالصَّبِرِ عَلَى ذَلِكَ وَالْعَفْوِ عَنْهُمْ، فَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا} [آل عمران: ١٨٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا} [البقرة: ١٠٩] ، فَلَمَّا أَبَى كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ أَنْ يَنْزِعَ عَنْ أَذَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَذَى الْمُسْلِمِينَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَبْعَثَ رَهْطًا لِيَقْتُلُوهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ، وَأَبَا عَبْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَالْحَارِثَ ابْنَ أَخِي سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي خَمْسَةِ رَهْطٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِهِ. قَالَ: فَلَمَّا قَتَلُوهُ فَزِعَتِ الْيَهُودُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحُوا فَقَالُوا: إِنَّهُ طُرِقَ صَاحِبُنَا اللَّيْلَةَ وَهُوَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَتِنَا فَقُتِلَ فَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ فِي أَشْعَارِهِ وَيَنْهَاهُمْ بِهِ، وَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ كِتَابًا يَنْتَهُوا إِلَى مَا فِيهِ، فَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَامًّا صَحِيفَةً كَتَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الْعَذْقِ الَّذِي فِي دَارِ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَكَانَتْ تِلْكَ الصَّحِيفَةُ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک، میرا گمان ہے کہ وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، یہ ان تینوں میں سے ایک کے بیٹے ہیں جن کی اللہ رب العزت نے توبہ قبول فرمائی، کعب بن اشرف یہودی شاعر تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت کرتا اور کفارِ قریش کو آپ کے خلاف ابھارا کرتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے رہنے والے ملے جلے ادیان والے تھے، بعض مسلمان تھے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا تھا، بعض بتوں کے پجاری مشرکین تھے، بعض یہود تھے جو ہتھیاروں اور قلعوں والے تھے اور اوس و خزرج کے دونوں قبیلوں کے حلیف تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان سب کی اصلاح کرنا چاہی، حالانکہ اگر کوئی مسلمان تھا تو اس کا باپ مشرک تھا اور کوئی مسلمان تھا تو اس کا بھائی مشرک تھا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مدینہ کے مشرکین و یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو سخت تکلیف دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ان کی تکالیف پر صبر کرنے اور معاف کرنے کی تلقین فرمائی، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا﴾ [سورة آل عمران: 186] ”اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، بہت زیادہ تکلیف دہ باتیں سنو گے۔“ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا﴾ [سورة البقرة: 109]
”بہت سارے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر کی حالت میں واپس لوٹا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے، پس تم انہیں معاف کرو اور درگزر کرو۔“ جب کعب بن اشرف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آنے کا اظہار کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کے لیے ایک گروہ ترتیب دینے کا حکم فرمایا، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ، ابوعبس انصاری رضی اللہ عنہ اور اپنے بھتیجے حارث کو پانچ لوگوں کے گروہ میں روانہ کیا اور انہوں نے اس کے قتل کے بارے میں حدیث بیان کی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے قتل کے بعد یہود اور مشرکین گھبرا گئے اور صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: رات کے وقت ہمارے ایک سردار کو قتل کر دیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ باتیں بتائیں جو وہ اپنے اشعار میں کہا کرتا تھا اور انہیں بتایا کہ اسے روکا بھی گیا تھا کہ یہ کام نہ کرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت دی کہ آپ اپنے، ان کے اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدہ تحریر کر دیں جس کی وہ پابندی کریں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے، ان کے اور تمام مسلمانوں کے درمیان ایک کھجور کے نیچے، جو بنت حارث کے گھر میں تھی، بیٹھ کر معاہدہ تحریر کروایا، بعد میں یہ تحریر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18628]
”بہت سارے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر کی حالت میں واپس لوٹا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے، پس تم انہیں معاف کرو اور درگزر کرو۔“ جب کعب بن اشرف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آنے کا اظہار کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کے لیے ایک گروہ ترتیب دینے کا حکم فرمایا، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ، ابوعبس انصاری رضی اللہ عنہ اور اپنے بھتیجے حارث کو پانچ لوگوں کے گروہ میں روانہ کیا اور انہوں نے اس کے قتل کے بارے میں حدیث بیان کی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے قتل کے بعد یہود اور مشرکین گھبرا گئے اور صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: رات کے وقت ہمارے ایک سردار کو قتل کر دیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ باتیں بتائیں جو وہ اپنے اشعار میں کہا کرتا تھا اور انہیں بتایا کہ اسے روکا بھی گیا تھا کہ یہ کام نہ کرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت دی کہ آپ اپنے، ان کے اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدہ تحریر کر دیں جس کی وہ پابندی کریں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے، ان کے اور تمام مسلمانوں کے درمیان ایک کھجور کے نیچے، جو بنت حارث کے گھر میں تھی، بیٹھ کر معاہدہ تحریر کروایا، بعد میں یہ تحریر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18628]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18629
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَوْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا يَوْمَ بَدْرٍ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، جَمَعَ الْيَهُودَ فِي سُوقِ قَيْنُقَاعَ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قُرَيْشًا". فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ لَا يَغُرَّنَّكَ مِنْ نَفْسِكَ أَنَّكَ قَتَلْتَ نَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا أَغْمَارًا لَا يَعْرِفُونَ الْقِتَالَ، إِنَّكَ لَوْ قَاتَلْتَنَا لَعَرَفْتَ أَنَّا نَحْنُ النَّاسُ، وَأَنَّكَ لَمْ تَلْقَ مِثْلَنَا. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِمْ: {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ} [آل عمران: ١٣] : أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ، {وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ} [آل عمران: ١٣] إِلَى قَوْلِهِ: {لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ} [آل عمران: ١٣] .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن قریشیوں کو قتل کیا اور جب مدینہ واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو قینقاع بازار میں جمع کیا اور فرمایا: ”اے یہود کا گروہ! اسلام قبول کرلو، اس سے پہلے کہ تمہیں وہ مصیبت پہنچے جو قریش کو پہنچی ہے۔“ انہوں نے کہا: اے محمد! آپ اپنے بارے میں دھوکے میں نہ رہیے کہ آپ نے قریش کے ایک گروہ کو قتل کیا ہے جو جنگ سے ناواقف تھے، اگر آپ نے ہم سے لڑائی کی تو آپ پہچان لیں گے کہ ہم بھی جنگجو ہیں، آپ کی ملاقات یعنی لڑائی ہمارے جیسے لوگوں سے نہیں ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾ [سورة آل عمران: 12] ﴿قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ﴾ [سورة آل عمران: 13] ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے کفر کیا، عنقریب تم مغلوب کیے جاؤ گے اور تمہیں جہنم میں جمع کیا جائے گا جو بدترین ٹھکانا ہے، تمہارے لیے تو دو جماعتوں کے ملنے میں نشانی ہے، ایک جماعت اللہ کے راستے میں لڑتی ہے تو دوسری کافر تھی، وہ کافر مسلمانوں کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے، عقل والوں کے لیے عبرت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18629]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18630
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَا: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ بَشِيرَيْنِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ، زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، ⦗٣١٠⦘ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ قَالَ: وَيْلَكَ أَحَقٌّ هَذَا؟ هَؤُلَاءِ مُلُوكُ الْعَرَبِ وَسَادَةُ النَّاسِ، يَعْنِي قَتْلَى قُرَيْشٍ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَجَعَلَ يَبْكِي عَلَى قَتْلَى قُرَيْشٍ وَيُحَرِّضُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم اور صالح بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر سے فارغ ہوئے تو مدینہ والوں کو خوشخبری دینے کے لیے زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ جب کعب بن اشرف کو یہ خبر ملی تو اس نے کہا: تمہارے اوپر افسوس! کیا یہ خبر سچ ہے؟ یہ عرب کے بادشاہ اور لوگوں کے سردار یعنی قریش مارے گئے؟ پھر وہ مکہ کی جانب قریش کے مقتولوں پر روتا ہوا گیا اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھار رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18630]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3717. -- باب: من يؤخذ منه الجزية من أهل الكتاب، وهم اليهود والنصارى
-- باب: اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ میں سے جن سے جزیہ لیا جائے گا ان کا بیان۔
حدیث نمبر: Q18631
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: 29] ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ ’اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر، اور نہ اس چیز کو حرام سمجھتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، اور نہ دین حق کو اپناتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔‘ [سورة التوبة: 29] “... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: Q18631]
حدیث نمبر: 18631
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، قَالَ:" إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ مِثْلَ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي كَانَ يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا قَاتَلْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ، وَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللهُ فِيهِمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ". ⦗٣١١⦘ قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَلْقَمَةُ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ هُوَ ابْنُ هَيْصَمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ.
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چھوٹے یا بڑے لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اس کو اپنے معاملات میں اللہ سے ڈرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت فرماتے، نیز فرماتے کہ: ”جب تمہارا مشرک دشمنوں سے آمنا سامنا ہو تو انہیں تین باتوں کی دعوت دو، ان میں سے وہ جس بات کو تسلیم کر لیں مان لو اور ان سے رک جاؤ۔ پھر اسلام کی دعوت دو اگر قبول کر لیں تو ان پر حملہ نہ کرو۔ پھر انہیں دار الحرب چھوڑ کر دار الہجرت آنے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ اگر وہ چلے آئیں گے تو انہیں مہاجرین کے حقوق میسر ہوں گے اور ان پر مہاجرین کی سی ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔ اگر وہ دار الہجرت کی طرف منتقل ہونے سے انکار کریں اور اپنے گھروں کا انتخاب کریں تو انہیں بتلائیں کہ ان کا معاملہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوگا کہ ان پر دیگر ایمان داروں کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ ہوں گے۔ لیکن انہیں غنیمت اور مالِ فے سے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کیے بغیر کچھ نہیں ملے گا۔ اگر وہ اس بات کو تسلیم نہ کریں تو ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو۔ اگر وہ مان لیں تو ان سے جزیہ لے لو اور ان سے کچھ نہ کہو اور اگر وہ جزیہ سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے ان کے خلاف برسرِ پیکار ہو جاؤ۔ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے اللہ کے حکم پر اتارے جانے کا مطالبہ کریں تو انہیں اللہ کے حکم پر نہ اتارنا کیونکہ تمہیں علم نہیں کہ اللہ ان کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائے گا، بلکہ انہیں اپنے فیصلے پر اتارنا، پھر اس کے بعد ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم۔ ١٧٣٧»
الحكم على الحديث: صحيح