🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3757. -- باب: نزول سورة الفتح على رسول الله صلى الله عليه وسلم مرجعه من الحديبية
-- باب: حدیبیہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ پر سورۃ الفتح کے نزول کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18815
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فِينَا فَتْحًا، وَنَعُدُّ نَحْنُ الْفَتْحَ ⦗٣٧٤⦘ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، نَزَلْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَهِيَ بِئْرٌ، فَوَجَدْنَا النَّاسَ قَدْ نَزَحُوهَا فَلَمْ يَدَعُوا فِيهَا قَطْرَةً، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِدَلْوٍ فَنَزَعَ مِنْهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ بِفِيهِ فَمَجَّهُ فِيهَا، وَدَعَا اللهَ فَكَثُرَ مَاؤُهَا حَتَّى صَدَرْنَا وَرَكَائِبُنَا، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم فتحِ مکہ کو عظیم فتح شمار کرتے ہو، جبکہ ہمارے نزدیک فتحِ مکہ عام فتح ہے، لیکن صلح حدیبیہ کی فتح عظیم تھی؛ حدیبیہ کے مقام پر ایک کنواں تھا جس کا لوگوں نے پانی نکال کر ختم کر دیا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے کنارے پر آئے، پانی کا ڈول نکالا، پھر کچھ پانی لے کر کنویں میں کلی کر دی اور اللہ سے دعا کی تو پانی اتنا زیادہ ہو گیا کہ ہم نے سیر ہو کر پیا اور سواریوں کو پلایا اور ہماری تعداد چودہ سو تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18815]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٤١٥٠»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3758. -- باب: مهادنة الأئمة بعد رسول رب العزة إذا نزلت بالمسلمين نازلة
-- باب: رب العزت کے رسول ﷺ کے بعد مسلمانوں پر کوئی مصیبت آنے پر ائمہ (حکمرانوں) کا جنگ بندی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18816
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ بِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ڈھال ہے جس کے ذریعے جہاد کیا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18816]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ لِي:" يَا عَوْفُ اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: مَوْتِي ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ فِيكُمْ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلَّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا تُبْقِي بَيْتًا مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا". قَالَ الْوَلِيدُ: فَذَاكَرْنَا هَذَا الْحَدِيثَ شَيْخًا مِنْ شُيُوخِ الْمَدِينَةِ فِي قَوْلِهِ:" ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ" فَقَالَ الشَّيْخُ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ مَكَانَ فَتْحِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ: عِمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ دُونَ إِسْنَادِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ تبوک میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیوں کو شمار کرو: میری وفات، بیت المقدس کی فتح، بے شمار اموات جیسے بکریاں اچانک مر جاتی ہیں، مال کا زیادہ ہونا یہاں تک کہ ایک شخص کو سو دینار دیا جائے گا لیکن وہ ناراض ہو جائے گا، ایک فتنہ رونما ہوگا جو عرب کے تمام گھروں میں داخل ہو جائے گا، تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح ہو جائے گی لیکن وہ عہد شکنی کریں گے، وہ تمہارے پاس اسی (80) جھنڈوں تلے آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار ہوں گے۔“
(ب) ولید کہتے ہیں: ہم نے مدینہ کے ایک شیخ سے اس حدیث کے الفاظ ”پھر بیت المقدس کی فتح“ کا مذاکرہ کیا تو شیخ نے کہا: مجھے سعید نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ وہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے اور ”بیت المقدس کی فتح“ کی جگہ ”بیت المقدس کی آبادی“ کہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18817]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السَّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ أَبِي، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ فَمِلْتُ مَعَهُمْ. قَالَ: ⦗٣٧٥⦘ فَحَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مَخْبَرٍ، رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَيُصَالِحُكُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ فَتَنْزِلُونَ بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْضَبُ الرُّومُ وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ.
خالد حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چلو ہمیں صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر چلو، کہتے ہیں: ہم ان کے پاس آئے تو انہوں نے رضی اللہ عنہ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارے ساتھ رومی صلح کر لیں گے، پھر تم مل کر دشمنوں سے لڑائی کر کے مالِ غنیمت حاصل کرو گے، واپس صحیح سلامت پلٹو گے اور ذی تلول نامی جگہ پر قیام کرو گے، وہاں ایک عیسائی شخص صلیب کو بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آ گئی، تو ایک مسلمان صلیب کو پکڑ کر توڑ ڈالے گا، جس کی بنا پر رومی غصے میں آ کر لڑائی کے لیے جمع ہو جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18818]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3759. -- باب: المهادنة إلى غير مدة
-- باب: غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18819
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوهُ عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا"، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَإِسْحَاقِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ:" نُقِرُّكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ:" أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا". وَفِي رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ:" مَا بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ". وَكَذَلِكَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا:" أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ". وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْصُولًا. وَقَدْ مَضَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتُ بِأَسَانِيدِهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ قِيلَ فَلِمَ لَا تَقُولُ أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ، يَعْنِي كُلَّ إِمَامٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: الْفَرْقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنَّ أَمْرَ اللهِ كَانَ يَأْتِي رَسُولَهُ بِالْوَحْيِ وَلَا يَأْتِي أَحَدًا غَيْرَهُ بِوَحْيٍ.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو ارض حجاز سے جلا وطن کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تھا تو یہود کو وہاں سے جلا وطن کرنا چاہا، کیونکہ یہ زمین اللہ، رسول اور مسلمانوں کی تھی، جب آپ نے یہود کو نکالنے کا ارادہ کر لیا تو یہود نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر آپ ہمیں زمینوں پر کام کرنے دیں اور تو آدھا پھل آپ کا ہوگا۔ آپ نے فرمایا: ”جتنی دیر ہم چاہیں گے تمہیں برقرار رکھیں گے“، آپ نے تو برقرار رکھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء بستیوں کی جانب جلا وطن کر دیا۔
(ب) موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک ہم چاہیں گے برقرار رکھیں گے۔“
(ج) اسامہ بن زید رحمہ اللہ حضرت نافع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں اس پر برقرار رکھوں گا، جتنی دیر چاہوں گا۔“
(د) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہم تمہیں اتنی دیر برقرار رکھیں گے جتنی دیر اللہ رب العزت برقرار رکھیں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کہا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر امام یہ کیوں نہیں کہہ سکتا: «أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ» ”میں تمہیں برقرار رکھوں گا جب تک اللہ تمہیں برقرار رکھے گا“؟ تو جواب یہ ہے کہ امام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ فرق ہے کہ رسول کے پاس اللہ کا حکم وحی کے ذریعے آتا تھا جبکہ کسی دوسرے کے پاس وحی نہیں آتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18819]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3760. -- باب: مهادنة من يقوى على قتاله
-- باب: جس سے قتال کرنے کی طاقت ہو اس سے بھی جنگ بندی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18820
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَعْدَوَيْهِ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمَوْسِمِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، قَالَ: فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ نَازِلٌ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَصْوَاءِ، فَخَرَجَ فَزِعًا وَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى عَلَى الْمَوْسِمِ وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، فَانْطَلَقَا فَحَجَّا، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَادَى فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ: إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ، فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللهِ، لَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ. كَانَ يُنَادِي بِهَذَا، فَإِذَا بُحَّ قَامَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَادَى بِهَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج بنا کر روانہ کیا اور ان باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے راستے میں کسی جگہ پڑاؤ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصواء کی آواز سنی، وہ گھبرا کر نکلے، جبکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا، جس میں تھا کہ ان باتوں کا اعلان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کرنے دیا جائے۔ جب سیدنا ابوبکر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے حج کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایامِ تشریق کے دوران ان باتوں کا اعلان کر دیا کہ اللہ اور رسول ہر مشرک سے بری ہیں۔ ﴿فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 2] ”تم زمین پر چار ماہ چلو پھرو، جان لو تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔“ 1: ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے“، 2: ”کپڑے اتار کر بیت اللہ کا طواف نہ کیا جائے“، 3: ”جنت میں صرف مومن داخل ہو گا“، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کی آواز آگے پہنچاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18820]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي، فَقِيلَ لَهُ: بِأِيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تُنَادِي؟ فَقَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نُنَادِيَ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَشْهُرُ فَإِنَّ اللهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ. وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَمَنْ كَانَ لَهُ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ تَسْيِيرَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ مَضَى هَذَا فِي حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ.
محرر بن ابوہریرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں براءت کے ساتھ اہل مکہ کی طرف بھیجا، (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی، تو ان سے پوچھا گیا: ”آپ کس بات کا اعلان کرتے تھے؟“ تو انہوں نے کہا: ”ہمیں ان باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تھا: (1) جنت میں صرف مومن داخل ہوگا۔ (2) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس سے عہد تھا، اس کی مدت چار ماہ ہے۔ (3) جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری ہیں۔ (4) ننگے بدن بیت اللہ کا طواف نہ کیا جائے۔ (5) اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے۔“
(ب) زید بن یثیع رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کا معاہدہ تھا اسے پورا کیا جائے گا اور جس کا معاہدہ نہیں اس کی مدت چار ماہ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو فتح مکہ کے بعد چار ماہ مہلت دی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18821]
تخریج الحدیث: «صحيح تقدم برقم ١٧٩٤٨»

الحكم على الحديث: صحيح تقدم برقم ١٧٩٤٨
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3761. -- باب: لا خير في أن يعطيهم المسلمون شيئا على أن يكفوا عنهم
-- باب: مسلمانوں کا دشمنوں کو کوئی چیز اس شرط پر دینا کہ وہ ان سے رک جائیں (جنگ نہ کریں)، اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q18822
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ الْقَتْلَ لِلْمُسْلِمِينَ شَهَادَةٌ، وَأَنَّ الْإِسْلَامَ أَعَزُّ مِنْ أَنْ يُعْطَى مُشْرِكٌ عَلَى أَنْ يَكُفَّ عَنْ أَهْلِهِ؛ لِأَنَّ أَهْلَهُ قَاتِلِينَ وَمَقْتُولِينَ ظَاهِرُونَ عَلَى الْحَقِّ. ⦗377⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فِي قِصَّةِ الْأَهْوَازِ أَنَّهُ قَالَ: فَأَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى جَنَّةٍ وَنَعِيمٍ لَمْ يُرَ مِثْلَهُ قَطُّ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ مسلمانوں کے لیے قتل ہونا شہادت ہے، اور اسلام اس سے کہیں زیادہ باعزت ہے کہ کسی مشرک کو اس شرط پر (مال) دیا جائے کہ وہ اہل اسلام سے (جنگ کرنے سے) باز رہے، کیونکہ اہل اسلام خواہ قتل کرنے والے ہوں یا قتل ہونے والے، (ہر حال میں) حق پر غالب ہیں۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اہواز کے قصے کے بارے میں روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: ’ہمارے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمیں ہمارے رب کے پیغام سے آگاہ فرمایا کہ ہم میں سے جو قتل ہو گا وہ ایسی جنت اور نعمتوں کی طرف جائے گا جن کی مثل کبھی دیکھی نہیں گئی، اور ہم میں سے جو باقی رہے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک بنے گا۔‘“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: Q18822]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالَهُ وَكَانَ اسْمُهُ حَرَامًا أَخَا أُمِّ سَلِيمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا فَقُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، وَكَانَ رَئِيسُ الْمُشْرِكِينَ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ، وَكَانَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أُخَيِّرُكَ بَيْنَ ثَلَاثِ خِصَالٍ: أَنْ يَكُونَ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ وَلِي أَهْلُ الْمَدَرِ، وَأَكُونَ خَلِيفَتَكَ مِنْ بَعْدِكَ أَوْ أَغْزُوَكَ بِغَطَفَانَ بِأَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ. قَالَ: فَطُعِنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ فَقَالَ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَكْرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، ائْتُونِي بِفَرَسِي، فَرَكِبَهُ فَمَاتَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَهُ رَجُلٌ أَعْرَجُ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ: كُونَا، يَعْنِي قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ، فَإِنْ أَمَّنُونِي كُنْتُ كَذَا، وَإِنْ قَتَلُونِي أَتَيْتُمْ أَصْحَابَكُمْ، فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ فَقَالَ: أَتُؤَمِّنُونَنِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ، وَأَوْمَوْا إِلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنْهُ. قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: فَأَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ، فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ فَقَتَلَ كُلَّهُمْ إِلَّا الْأَعْرَجَ كَانَ فِي رَأْسِ الْجَبَلِ. قَالَ إِسْحَاقُ: فَحَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مِنَ الْمَنْسُوخِ:" إِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنْا وَأَرْضَانَا"، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں سیدنا حرام رضی اللہ عنہ کو، جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے، ان ستر آدمیوں میں روانہ کیا جو بئر معونہ پر شہید کر دیے گئے۔ مشرکین کا سردار عامر بن طفیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”میں آپ کو تین باتوں میں اختیار دیتا ہوں: (پہلی یہ کہ) دیہاتی (میدانی علاقوں کے) لوگ آپ کے لیے ہوں اور شہر والے لوگ ( «المَدَر») میرے لیے، (دوسری یہ کہ) میں آپ کے بعد خلیفہ ہوں گا، یا (تیسری یہ کہ) میں غطفان کو ساتھ لے کر ایک ہزار سرخ گھوڑوں اور ایک ہزار سرخ گھوڑیوں کے ساتھ آپ کے خلاف جنگ کروں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ بنو فلاں کی ایک عورت کے گھر میں اسے طاعون کی بیماری لاحق ہو گئی، اس نے اپنا گھوڑا منگوایا اور وہ عامر بن طفیل اپنے گھوڑے پر سوار ہی فوت ہو گیا۔ (ادھر) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی سیدنا حرام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ دو شخص اور بھی چلے، ایک لنگڑا اور ایک بنو فلاں قبیلے کا شخص۔ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم دونوں میرے قریب رہو، میں ان کے پاس جاتا ہوں، اگر انہوں نے مجھے پناہ دے دی تو (بہتر ہے) اور اگر انہوں نے مجھے قتل کر دیا تو تم اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔“ جب سیدنا حرام رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ”کیا تم مجھے امان دیتے ہو تاکہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچاؤں؟“ انہوں نے (بظاہر) حامی بھری تو سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے انہیں وعظ کرنا شروع کر دیا، اسی دوران انہوں نے ایک شخص کو پیچھے سے بھیجا جس نے نیزہ مار کر سیدنا حرام رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ ہمام کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ جب انہیں نیزہ لگا تو انہوں نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔“ پھر اس شخص نے باقی افراد کو بھی قتل کر ڈالا سوائے اس لنگڑے شخص کے، کیونکہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر (پہنچ گیا) تھا۔
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ان شہداء کے بارے میں یہ پیغام) ہمارے پاس لایا گیا، پھر یہ عبارت منسوخ ہو گئی کہ: «أَن قد لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا» ”ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں، وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر دن تک رعل، ذکوان اور بنو لحیان کے قبیلوں پر بددعا کی کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18822]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٤٠٩١»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَعْمَرٌ، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ - وَكَانَ خَالَهُ - يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ فَقَالَ بِالدَّمِ هَكَذَا يَنْضَحُهُ عَلَى وَجْهِهِ وَرَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَبَّانَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو، جو ان کے ماموں تھے، بئر معونہ کے دن نیزہ مارا گیا تو انہوں نے خون نکلتے وقت اسے اپنے چہرے اور سر پر ملتے ہوئے کہا: «فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18823]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٤٠٩٢»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں