السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3865. -- باب: ما جاء في الفرع والعتيرة
-- باب: فرع (اونٹنی کا پہلا بچہ) اور عتیرہ (رجب کی قربانی) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19348
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَوَانَةَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ سَمِعْتُهُ ⦗٥٢٦⦘ يَقُولُ: هُوَ شَيْءٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَطْلُبُونَ بِهِ الْبَرَكَةَ فِي أَمْوَالِهِمْ، فَكَانَ أَحَدُهُمْ يَذْبَحُ بِكْرَ نَاقَتِهِ أَوْ شَاتِهِ فَلَا يَغْذُوهُ رَجَاءَ الْبَرَكَةِ فِيمَا يَأْتِي بَعْدَهُ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ:" فَرِّعُوْا إِنْ شِتْئَمْ"، أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ، وَكَانُوا يَسْأَلُونَهُ عَمَّا كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خَوْفًا أَنْ يُكْرَهَ فِي الْإِسْلَامِ فَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ لَا مَكْرُوهَ عَلَيْهِمْ فِيهِ، وَأَمَرَهُمُ اخْتِيَارًا أَنْ يَغْذُوهُ ثُمَّ يَحْمِلُوا عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ فَقَالَ:" الْفَرَعَةُ حَقٌّ، وَأَنْ تَغْذُوهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ، وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ، وَتَأْكُلَهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُهُ: الْفَرَعَةُ حَقٌّ، مَعْنَاهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ، وَلَكِنَّهُ كَلَامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَابِ السَّائِلِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ:" لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ"، وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلَافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ، إِنَّمَا هَذَا لَا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلَا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ، وَالْحَدِيثُ الْآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً، أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجَبِيَّةُ، وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَتِيرَةَ"، عَلَى مَعْنَى لَا عَتِيرَةَ لَازِمَةٌ، وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَيْثُ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ عَلَى مَعْنَى اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أِيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبْحَ لِلَّهِ لَا لِغَيْرِهِ فِي أِيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لَا أَنَّهَا فِي رَجَبٍ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ.
مزنی فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت والے اپنے مالوں کو بابرکت بنانے کے لیے اپنی اونٹنی یا بکری کے بچے کو بغیر دودھ پلائے ذبح کر دیتے تھے۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ذبح کرنا چاہو تو کر لو۔“ اور انہوں نے پوچھا کہ وہ یہ کام جاہلیت میں کیا کرتے تھے، کہیں اسلام اس کو مکروہ تو نہیں سمجھتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ یہ حرام نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بچے کو غذا دی جائے، پھر اللہ کے راستہ میں اس پر سواری کی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْفَرَعُ» (فرع) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْفَرَعُ» حق ہے اور تم اس بچے کو غذا دو یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا مکمل اونٹ بن جائے تو کسی بیوہ کو دے دیا جائے یا اللہ کے راستے میں اس پر سواری کی جائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنے برتنوں کو انڈیل دیں، اپنی اونٹنی سے بچے کو چھین لیں اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چپک جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْفَرَعُ» حق ہے، اس کا یہ معنیٰ ہے کہ باطل نہیں، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ” «الْفَرَعُ» اور «الْعَتِيرَةُ» (عتیرہ) نہیں ہے۔“ اس کا مقصد ہے کہ واجب نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیث اس معنیٰ پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ کو دینے یا اس پر فی سبیل اللہ سواری کی اجازت دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ” «الْعَتِيرَةُ» جس مہینہ میں تم ذبح کرنا چاہو کر سکتے ہو۔“ کیونکہ اسے اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، کسی دوسرے کے نام کا ذبح نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19348]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْفَرَعُ» (فرع) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْفَرَعُ» حق ہے اور تم اس بچے کو غذا دو یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا مکمل اونٹ بن جائے تو کسی بیوہ کو دے دیا جائے یا اللہ کے راستے میں اس پر سواری کی جائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنے برتنوں کو انڈیل دیں، اپنی اونٹنی سے بچے کو چھین لیں اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چپک جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْفَرَعُ» حق ہے، اس کا یہ معنیٰ ہے کہ باطل نہیں، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ” «الْفَرَعُ» اور «الْعَتِيرَةُ» (عتیرہ) نہیں ہے۔“ اس کا مقصد ہے کہ واجب نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیث اس معنیٰ پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ کو دینے یا اس پر فی سبیل اللہ سواری کی اجازت دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ” «الْعَتِيرَةُ» جس مہینہ میں تم ذبح کرنا چاہو کر سکتے ہو۔“ کیونکہ اسے اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، کسی دوسرے کے نام کا ذبح نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19348]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْفَرَعُ أَوَّلُ شَيْءٍ تُنْتِجُهُ النَّاقَةُ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ حِينَ يُولَدُ، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَقَالَ:" دَعُوهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَيَصِيرَ لَهُ طَعْمٌ. وَالزُّخْرُبُّ: هُوَ الَّذِي قَدْ غَلُظَ جِسْمُهُ وَاشْتَدَّ لَحْمُهُ، وَقَوْلُهُ:" خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ"، يَقُولُ: إِذَا ذَبَحْتَهُ حِينَ تَضَعُهُ أُمُّهُ بَقِيَتِ الْأُمُّ بِلَا وَلَدٍ تُرْضِعُهُ فَانْقَطَعَ لِذَلِكَ لَبَنُهَا، يَقُولُ: فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَأْتَ إِنَاءَكَ وَهَرَقْتَهُ، وَقَوْلُهُ:" تُوَلِّهَ نَاقَتَكَ" فَهُوَ ذَبْحُهُ وَلَدَهَا، وَكُلُّ أُنْثَى فَقَدَتْ وَلَدَهَا فَهِيَ وَالِهٌ.
علی بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبید رحمہ اللہ نے کہا: فرع اونٹنی کا وہ پہلا بچہ جسے وہ ذبح کر دیا کرتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”اس کو دو یا تین سال کا مکمل اونٹ بننے تک چھوڑے رکھو کہ یہ کھانے کے قابل ہو جائے۔“ اور «الزُّخْرُبُّ» ایسا جانور ہے جس کا جسم موٹا اور گوشت سخت ہو جائے۔ «خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ» ”(یہ اس سے) بہتر ہے کہ تم اپنا برتن الٹ دو،“ جب آپ اونٹنی کے بچے کو ذبح کر دیں گے تو اونٹنی بغیر بچے کے رہ جائے گی اس کا دودھ ختم ہو جائے گا۔ «تُوَلِّهَ نَاقَتَكَ» ”اپنی اونٹنی کو بے قرار کر دو“ سے مراد اس کے بچے کو ذبح کرنا ہے، پس وہ مونث جو اپنے بچے کو گم پائے وہ والہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19349]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3866. -- باب: ما جاء في معاقرة الأعراب وذبائح الجن
-- باب: بدوؤں کی فخریہ قربانیوں اور جنوں کے لیے کیے گئے ذبیحوں کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُعَاقَرَةِ الْأَعْرَابِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: غُنْدَرٌ أَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: اسْمُ أَبِي رَيْحَانَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَطَرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”غیر اللہ کے نام پر ذبح کر کے لوگوں کو کھلانے سے“ منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19350]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19351
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّوزَنِيُّ، أنبا أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ". قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا: الْعَقْرُ يَعْنِي الْأَعْرَابَ عِنْدَ الْمَاءِ يَعْقِرُ هَذَا وَيَعْقِرُ هَذَا، فَيَأْكُلُونَ لِغَيْرِ اللهِ وَرَسُولِهِ. وَقَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: مُعَاقَرَةُ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَبَارَى الرَّجُلَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُجَادِلُ صَاحِبَهُ، فَيَعْقِرُ هَذَا عَدَدًا مِنْ إِبِلِهِ، وَيَعْقِرُ صَاحِبُهُ، فَأَيُّهُمَا كَانَ أَكْثَرَ عَقْرًا غَلَبَ صَاحِبَهُ، وَكَرِهَ لُحُومَهَا لِئَلَّا يَكُونَ مِمَّا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا نہیں ہے۔“ ابو سلمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کئی اشخاص مقابلہ بازی کے لیے اونٹ ذبح کر کے لوگوں کو کھلاتے اور جو شخص اونٹ ذبح کرنے میں دوسرے پر غلبہ پا لیتا وہ مقابلہ جیت جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ غیر اللہ کے نام پر کیا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19351]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19352
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَبَائِحِ الْجِنِّ، قَالَ: وَأَمَّا ذَبَائِحُ الْجِنِّ أَنْ تَشْتَرِيَ الدَّارَ وَتَسْتَخْرِجَ الْعَيْنَ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، فَتَذْبَحَ لَهَا ذَبِيحَةً لِلطِّيَرَةِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَهَذَا التَّفْسِيرُ فِي الْحَدِيثِ مَعْنَاهُ أَنَّهُمْ يَتَطَيَّرُونَ إِلَى هَذَا الْفِعْلِ مَخَافَةَ أَنَّهُمْ إِنْ لَمْ يَذْبَحُوا فَيُطْعِمُوا أَنْ يُصِيبَهُمْ فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْجِنِّ يُؤْذِيهِمْ، فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا وَنَهَى عَنْهُ.
زہری رحمہ اللہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جنوں کے نام پر جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا“؛ فرماتے ہیں کہ گھر خریدا جاتا یا چشمہ نکالا جاتا یا اس کے مشابہ (کوئی کام ہوتا) تو یہ بدشگونی کی وجہ سے اس کے لیے جانور ذبح کرتے تھے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ صرف اس لیے ذبح کرتے تھے کہ اگر انہوں نے ایسا کام نہ کیا تو جن انہیں نقصان پہنچائیں گے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دیا اور اس سے منع فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19352]
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ صرف اس لیے ذبح کرتے تھے کہ اگر انہوں نے ایسا کام نہ کیا تو جن انہیں نقصان پہنچائیں گے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دیا اور اس سے منع فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19352]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3867. جماع أبواب ما يحل ويحرم من الحيوانات -- باب: ما يحرم من جهة ما لا تأكل العرب
0حلال اور حرام جانوروں کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: ان جانوروں کی حرمت کا بیان جنہیں اہلِ عرب ناپسندیدگی کی بنا پر نہیں کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: Q19353
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ} [الأعراف: 157] . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا تَكُونُ الطَّيِّبَاتُ ⦗528⦘ وَالْخَبَائِثُ عِنْدَ الْآكِلِينَ كَانُوا لَهَا وَهُمُ الْعَرَبُ الَّذِينَ سَأَلُوا عَنْ هَذَا، وَنَزَلَتْ فِيهِمُ الْأَحْكَامُ. قَالَ: وَسَمِعْتُ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلِيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ} [الأنعام: 145] يَعْنِي: مِمَّا كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً وَمَا ذَكَرَ بَعْدَهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا أَوْلَى مَعَانِيهِ اسْتِدْلَالًا بِالسُّنَّةِ..
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ ”وہ لوگ جو اس رسول، نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جسے وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے۔“ [سورة الأعراف: 157]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پاکیزہ اور ناپاک چیزوں کا تعین انہی لوگوں کے نزدیک ہو گا جو انہیں کھایا کرتے تھے، اور وہ عرب ہیں جنہوں نے اس بارے میں سوال کیا تھا اور انہی کے بارے میں احکام نازل ہوئے۔“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور میں نے بعض اہل علم کو اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلِيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ﴾ ’آپ کہہ دیجیے کہ جو وحی میری طرف کی گئی ہے اس میں میں کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھاتا ہو۔‘ [سورة الأنعام: 145] کے بارے میں یہ کہتے سنا کہ اس سے مراد ہے: ان چیزوں میں سے جنہیں تم کھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، اور وہ چیزیں جو اس کے بعد ذکر کی گئی ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سنت سے استدلال کی بنا پر اس (آیت) کے معانی میں سے یہی معنی سب سے زیادہ مناسب ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19353]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پاکیزہ اور ناپاک چیزوں کا تعین انہی لوگوں کے نزدیک ہو گا جو انہیں کھایا کرتے تھے، اور وہ عرب ہیں جنہوں نے اس بارے میں سوال کیا تھا اور انہی کے بارے میں احکام نازل ہوئے۔“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور میں نے بعض اہل علم کو اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلِيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ﴾ ’آپ کہہ دیجیے کہ جو وحی میری طرف کی گئی ہے اس میں میں کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھاتا ہو۔‘ [سورة الأنعام: 145] کے بارے میں یہ کہتے سنا کہ اس سے مراد ہے: ان چیزوں میں سے جنہیں تم کھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، اور وہ چیزیں جو اس کے بعد ذکر کی گئی ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سنت سے استدلال کی بنا پر اس (آیت) کے معانی میں سے یہی معنی سب سے زیادہ مناسب ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19353]
حدیث نمبر: 19353
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَغَيْرُهُمْ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ قَالَ: وَتَابَعَهُ يُونُسُ وَجَمَاعَةٌ ذَكَرَهُمْ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسَ، وَعَنْ هَارُونَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19353]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19354
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ⦗٥٢٩⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَفِي رِوَايَةِ الْحُمَيْدِيِّ: السَّبْعِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى أَتَيْتُ الشَّامَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وَيُوسُفَ الْمَاجِشُونِ وَصَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19354]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19355
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کچلی والے درندے کا گوشت کھانا حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19355]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٣٣»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19356
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
امام مالک رحمہ اللہ اپنی سند سے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کچلی والے درندے کو کھانا حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19356]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح