السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3871. -- باب: ما جاء في الضب
-- باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19427
أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُهْدِيَ لَنَا ضَبٌّ فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تُطْعِمُهُ السُّؤَّالَ؟ فَقَالَ: إِنَّا لَا نُطْعِمُهُمْ مِمَّا لَا نَأْكُلُ". وَهُوَ إِنْ ثَبَتَ فِي مَعْنَى مَا تَقَدَّمَ مِنَ امْتِنَاعِهِ مِنْ أَكْلِهِ، ثُمَّ فِيهِ أَنَّهُ اسْتَحَبَّ أَنْ لَا يُطْعِمَ الْمَسَاكِينَ مِمَّا لَا يَأْكُلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
ابراہیم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوہ تحفہ میں دی گئی، جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کھائی۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم مانگنے والے کو دے دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خود ہم نہیں کھاتے ان کو بھی نہ کھلائیں گے۔“
نوٹ: انسان جو چیز خود کھانا پسند نہیں کرتا وہ مساکین کو بھی نہ کھلائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19427]
نوٹ: انسان جو چیز خود کھانا پسند نہیں کرتا وہ مساکین کو بھی نہ کھلائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19427]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19428
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ. وَهَذَا يَنْفَرِدُ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ، وَمَا مَضَى فِي إِبَاحَتِهِ أَصَحُّ مِنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گوہ کھانے سے منع فرمایا۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں اسماعیل بن عیاش منفرد ہیں اور وہ حجت نہیں ہیں، اور اس کے مباح ہونے کے بارے میں جو روایات گزر چکی ہیں وہ اس سے زیادہ صحیح ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19428]
اس روایت کو بیان کرنے میں اسماعیل بن عیاش منفرد ہیں اور وہ حجت نہیں ہیں، اور اس کے مباح ہونے کے بارے میں جو روایات گزر چکی ہیں وہ اس سے زیادہ صحیح ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19428]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19429
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرٍّ سَمْرَاءَ مُلَيَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ". فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ، فَسَأَلَهُ فِي أِيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟ قَالَ: كَانَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ. فَقَالَ:" ارْفَعْهُ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس گندم کی سفید روٹی گھی اور دودھ سے تر موجود ہو۔“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پیش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ گھی کہاں رکھا گیا تھا؟“ تو اس نے کہا: گوہ کے بنے ہوئے چمڑے کی تھیلی میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ۔“
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسے سنن میں نقل کیا اور فرمایا: یہ حدیث منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19429]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسے سنن میں نقل کیا اور فرمایا: یہ حدیث منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19429]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19430
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ أُرَاهُ الْقَاسِمَ، قَالَ:" أَصَبْتَ الْيَوْمَ مِنْ حَاجَتِكَ شَيْئًا؟" فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: مَا حَاجَتُهُ؟ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ غُلَامًا آكَلَ لِضَبٍّ مِنْهُ". فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَوَلَيْسَ بِحَرَامٍ؟ فَسَأَلَ قَالَ: وَمَا حَرَّمَهُ؟ قَالَ: أَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُهُ؟ قَالَ: أَوَلَيْسَ الرَّجُلُ يَكْرَهُ الشَّيْءَ وَلَيْسَ بِحَرَامٍ؟ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالِ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ.
ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود رحمہ اللہ کے پاس تھا کہ ان کا ایک بیٹا آیا، میرا خیال ہے کہ وہ قاسم تھے۔ انہوں نے (بیٹے سے) پوچھا: ”کیا آج تم نے اپنی ضرورت کی کوئی چیز پا لی؟“ تو لوگوں میں سے کسی نے پوچھا: ان کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا: ”میں نے اس سے زیادہ گوہ کھانے والا کوئی لڑکا نہیں دیکھا۔“ تو بعض لوگوں نے کہا: کیا یہ حرام نہیں؟ انہوں نے پوچھا: کس چیز نے اس کو حرام کیا؟ کہنے لگے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپسند نہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہوتا کہ انسان کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے لیکن وہ حرام نہیں ہوتی؟ اور کہا: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حلال کو حرام کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے حرام کو حلال کرنے والا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19430]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3872. -- باب: ما روي في القنفذ وحشرات الأرض
-- باب: ساہی اور زمین کے حشرات (کیڑے مکوڑوں) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19431
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَبِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ تُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ، فَتَلَا: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلِيَّ مُحَرَّمًا} [الأنعام: ١٤٥] ، الْآيَةَ، قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ". فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا فَهُوَ كَمَا قَالَ. هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُرْوَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ فِيهِ ضَعْفٌ.
عیسیٰ بن نمیلہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سیہ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی ﴿قُلْ لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [سورة الأنعام: 145] ان کے پاس موجود ایک بزرگ نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ ہوا تو فرمایا: ”یہ خبیث چیزوں میں سے ہے۔“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے، اور اس سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19431]
یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے، اور اس سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19431]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19432
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ⦗٥٤٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِضَبٍّ وَقُنْفُذٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُ وَلَمْ يَأْكُلْ. هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ جَعْفَرٍ أَبِي بِشْرٍ مَوْصُولًا دُونَ ذِكْرِ الْقُنْفُذِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ مَوْصُولًا دُونَ ذِكْرِ الْقُنْفُذِ، ثُمَّ هَذَا إِنْ صَحَّ لَمْ يَدُلَّ عَلَى التَّحْرِيمِ، وَكَأَنَّهُ عَافَهُ كَمَا عَافَ الضَّبَّ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام حفید رضی اللہ عنہا گوہ اور سیہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آگے سے ہٹا دیا، کھایا نہیں۔
یہ روایت مرسل ہے، اور یہ موصول سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں سیہ کا ذکر نہیں۔ اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو حرمت پر دلالت نہیں کرتی، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی ایسے ہی ناپسند کیا جیسے گوہ کو ناپسند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19432]
یہ روایت مرسل ہے، اور یہ موصول سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں سیہ کا ذکر نہیں۔ اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو حرمت پر دلالت نہیں کرتی، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی ایسے ہی ناپسند کیا جیسے گوہ کو ناپسند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19432]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا غَالِبُ بْنُ حُجْرَةَ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ تَلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَةِ الْأَرْضِ تَحْرِيمًا. وَهَذَا إِنْ صَحَّ لَمْ يَدُلَّ عَلَى الْإِبَاحَةِ، وَمَا لَمْ يَسْمَعْهُ وَسَمِعَهُ غَيْرُهُ فَالْحُكْمُ لِلسَّامِعِ دُونَهُ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى تَحْرِيمِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ، فَكَذَلِكَ مَا فِي مَعْنَاهُمَا مِمَّا يَسْتَخْبِثُهُ الْعَرَبُ وَلَا تَأْكُلُهُ فِي غَيْرِ الضَّرُورَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ملقام بن تلب اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حشرات الارض کی حرمت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔ اگر یہ صحیح بھی ہو تب بھی ان کی اباحت پر دلالت نہیں کرتا، لیکن سانپ اور بچھو کی حرمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے اور عرب بھی بغیر ضرورت کے ان کا استعمال نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19433]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3873. -- باب: أكل لحوم الخيل
-- باب: گھوڑوں کا گوشت کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19434
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ. قَالَ: وَلَمْ يَذْكُرْ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ الْأَهْلِيَّةَ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ”گھریلو گدھے کے گوشت سے منع فرمایا“، جبکہ ”گھوڑے کے گوشت کی اجازت دی“، لیکن سلیمان نے گھریلو کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19434]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19435
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گدھے اور خچر“ سے منع کر دیا، لیکن گھوڑے کے گوشت سے منع نہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19435]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19436
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ.
عطاء، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19436]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح