🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3980. -- باب: الوفاء بالنذر
-- باب: نذر پوری کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20087
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں چار چیزیں پائی گئیں، وہ پکا منافق ہے۔ جس میں چار میں سے ایک ہوئی اس میں نفاق کی ایک علامت ہے یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے: (1) جب بات کرے جھوٹ بولے، (2) وعدہ خلافی کرے، (3) جھگڑتے ہوئے گالی گلوچ دے، (4) معاہدے کو توڑے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20087]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20088
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَمْرَةَ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ زَهْدَمٌ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهَ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ بَعْدَهُمْ، يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
ابو جمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہدم رحمہ اللہ میرے پاس آئے، انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین زمانہ میرا ہے، پھر ان کا جو میرے بعد آئیں گے، پھر ان کا جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو خیانت کرے گی اور امانت دار نہ ہوگی، وہ گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہ ہوگا اور وہ نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہ کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20088]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3981. -- باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى
-- باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20089
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، أنبأ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اطاعت کی نذر مانی وہ اسے پوری کرے اور جس نے نافرمانی کی نذر مانی وہ اسے پورا نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20089]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6696۔ 6700»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20090
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ بْنِ وَاقِدٍ الْكِلَابِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى وَفِيهِ قَالَ: وَأُسِرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأُصِيبَتِ الْعَضْبَاءُ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ، وَكَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ أَيْدِي بُيُوتِهِمْ، فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ، فَأَتَتِ الْإِبِلَ، فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُكُهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْعَضْبَاءِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ: وَنَاقَةٌ مَنُوقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا، ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذَرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ قَالَ: وَنَذَرَتْ إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ فَقَالُوا:" الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ نَذَرَتْ إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ بِئْسَ مَا جَزَتْهَا إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
ابو مہلب سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف، قبیلہ بنو عقیل کے حلیف تھے۔ ثقیف نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابہ رضی اللہ عنہما کو قیدی بنا لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک آدمی کو قید کر لیا اور انہوں نے اس کی اونٹنی بھی قبضے میں لے لی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا۔ انصاری عورت قیدی بنائی گئی۔ عضباء اونٹنی چوری کر لی گئی۔ وہ عورت قید میں تھی اور لوگ اپنے جانور اپنے گھروں کے سامنے چراتے تھے۔ وہ عورت ایک رات قید سے نکلی اور کھسک کر اونٹوں کے پاس پہنچ گئی۔ جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عضباء اونٹنی تک پہنچ گئی۔ اس نے آواز نہ نکالی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ نکیل والی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس کی پشت پر بیٹھ گئی، پھر اسے ڈانٹ کر ہانکا تو وہ چل پڑی۔ انہیں اس کا پتہ چل گیا، انہوں نے اس عورت کو تلاش کرنا چاہا تو اس عورت نے ان کو عاجز کر دیا۔ اس نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ جب وہ مدینہ آئی تو لوگوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے کہ عضباء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہے۔ کسی نے کہا: اس عورت نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے اس پر نجات دی تو وہ اسے ذبح کرے گی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس بات کا انہوں نے تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پاک ہے، اگر اللہ نے اس اونٹنی پر اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی، یہ برا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور جس کا بندہ مالک نہیں (اس میں بھی نذر نہیں)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20090]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1641»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20091
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي ذَرٍّ جَاءَتْ عَلَى الْقَصْوَاءِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنَاخَتْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللهِ،" نَذَرْتُ لَئِنْ نَجَّانِي اللهُ عَلَيْهَا لَآكُلَنَّ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا"، قَالَ:" بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا لَيْسَ هَذَا نَذْرًا، إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللهِ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی قصواء اونٹنی پر آئی، اس کو مسجد کے قریب بٹھا دیا گیا۔ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو میں اس کا جگر اور کوہان کا گوشت کھاؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے برا بدلہ دیا ہے۔“ فرمایا: ”یہ نذر نہیں، نذر صرف وہ ہوتی ہے جس میں اللہ کی رضا تلاش کی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20091]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ح ⦗١٣٠⦘ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُومَ وَلَا يُفْطِرَ، فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی دھوپ میں کھڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ ابواسرائیل ہے، اس نے کھڑے رہنے اور نہ بیٹھنے کی نذر مانی ہے اور نہ سائے میں جائے گا اور نہ ہی کلام کرے گا، اور روزے رکھے گا، افطار نہیں کرے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ کلام کرے، سایہ حاصل کرے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20092]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6704»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20093
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ فَقَالَ:" مَا لَهُ؟" فَقَالُوا:" نَذَرَ أَنْ لَا يَسْتَظِلَّ، وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يُكَلِّمَ أَحَدًا، وَيَصُومَ"، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَظِلَّ، وَأَنْ يَقْعُدَ، وَأَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ، وَيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِكَفَّارَةٍ". هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ وَفِيهِ، وَفِيمَا قَبْلَهُ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْ بِكَفَّارَةٍ. وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِهِ، وَفِي آخِرِهِ: وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ" وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَفِيهِ الْأَمْرُ بِالْكَفَّارَةِ" وَمُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ضَعِيفٌ.
طاؤس رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو اسرائیل رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جو دھوپ میں کھڑے تھے، اور فرمایا: ”اس کو کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ نہیں بیٹھے گا اور نہ سایہ حاصل کرے گا اور نہ کسی سے کلام کرے گا اور روزہ رکھے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”وہ سایہ حاصل کرے اور بیٹھ جائے اور لوگوں سے کلام کرے اور روزہ پورا کرے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کفارے کا حکم نہیں دیا۔
یہ عمدہ مرسل روایت ہے۔
یہ روایت محمد بن کریب سے، وہ اپنے والد سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے اور اس میں کفارے کا حکم ہے، لیکن محمد بن کریب ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20093]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20094
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ السَّبَئِيُّ الشَّهِيدُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ أَبُو إِسْرَائِيلَ بْنُ قُشَيْرٍ إِنَّهُ كَانَ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ، وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ، وَلَا يَتَكَلَّمَ"، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْعُدْ، وَاسْتَظِلَّ، وَتَكَلَّمْ، وَكَفِّرْ". كَذَا وَجَدْتُهُ" وَكَفِّرْ" وَعِنْدِي أَنَّ ذَلِكَ تَصْحِيفٌ، إِنَّمَا هُوَ:" وَصُمْ" كَمَا هُوَ فِي سَائِرِ الرِّوَايَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابواسرائیل نے نذر مانی کہ وہ روزہ رکھے گا، نہیں بیٹھے گا، سایہ حاصل نہیں کرے گا اور کلام بھی نہ کرے گا۔ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ، سایہ حاصل کر، کلام کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“ اس طرح میں نے پایا ہے کہ ”قسم کا کفارہ دے“ اور میرے نزدیک یہ تصحیف ہے کہ ”تو روزہ رکھ“ جیسے تمام روایات میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20094]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20095
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَرَّقَهُمَا قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي لَيْلَى امْرَأَةُ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ وَكَانَ اسْمُهُ قَبْلَ ذَلِكَ: زَحْمًا، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَشِيرًا، قَالَتْ: حَدَّثَنِي بَشِيرٌ أَنَّهُ ⦗١٣١⦘ سَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَأَنْ لَا يُكَلِّمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَحَدًا؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ:" لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ كُنْتَ تَصُومُهَا، أَوْ فِي شَهْرٍ، وَأَنْ لَا تُكَلِّمَ أَحَدًا، فَلَعَمْرِي لَأَنْ تَكَلَّمَ فَتَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ".
بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی لیلیٰ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کا پہلا نام زحم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہ اس دن وہ کسی سے کلام بھی نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھ، مگر ان ایام میں جن کے تو روزے رکھتا ہے یا مہینے میں۔ رہا کسی سے کلام نہ کرنا، تو میری عمر کی قسم! تیرا کلام کرنا اور اچھائی کا حکم دینا یا برائی سے منع کرنا، خاموش رہنے سے بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20095]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسند احمد 21447»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ مِنْ أَصْلِهِ قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ:" دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا: زَيْنَبُ، قَالَ: فَرَآهَا لَا تَكَلَّمُ، قَالَ:" مَا لِهَذِهِ لَا تَكَلَّمُ؟"، قَالَ: فَقَالُوا:" حَجَّتْ مُصْمِتَةً فَقَالَ:" تَكَلَّمِي، فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَتَكَلَّمَتْ، فَقَالَتْ:" مَنْ أَنْتَ؟"، قَالَ:" أَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ"، قَالَتْ:" مِنْ أِيِّ الْمُهَاجِرِينَ؟"، قَالَ:" مِنْ قُرَيْشٍ"، قَالَتْ:" مِنْ أِيِّ قُرَيْشٍ؟"، قَالَ:" إِنَّكِ لَسئُولٌ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ"، فَقَالَتْ:" مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟"، قَالَ: فَقَالَ:" بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ أَئِمَّتُكُمْ"، قَالَتْ:" وَمَا الْأَئِمَّةُ؟"، قَالَ:" أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُءُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ وَيُطِيعُونَهُمْ؟"، قَالَتْ:" بَلَى"، قَالَ:" فَهُمْ أَمْثَالُ أُولَئِكَ يَكُونُونَ عَلَى النَّاسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ احمس قبیلہ کی ایک عورت کے پاس آئے، اس کا نام زینب تھا، انہوں نے دیکھا وہ کلام نہیں کرتی، پوچھا: تو کلام کیوں نہیں کرتی؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ اس نے حج خاموشی سے کیا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کلام کر! یہ جائز نہیں ہے، یہ جاہلیت کا کام ہے، کہنے لگی: آپ کون ہیں؟ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں مہاجرین میں سے ہوں، کہنے لگی: کون سے مہاجرین؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریشی، کہنے لگی: کون سے قریش؟ فرمایا: تو بہت سوال کرنے والی ہے، میں ابوبکر ہوں، کہنے لگی: اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعد جو یہ نیک کام (دین) لایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم اس پر کب تک باقی رہیں گے؟ فرمایا: جب تک تمہارے ائمہ سیدھے رہیں گے تم اس پر باقی رہو گے، کہنے لگی: ائمہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: کیا تمہاری قوم کے سردار اور اشراف نہیں جو انہیں حکم دیتے اور وہ ان کی اطاعت کرتے؟ کہنے لگی: کیوں نہیں، فرمایا: اسی طرح لوگوں کے بھی ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20096]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3834»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں