السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4004. -- باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا
-- باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ قَالَ: وَقَالَ رَجُلٌ يَمْدَحُ سُفْيَانَ:.
عبید بن یعیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سفیان رحمہ اللہ کی مدح کر رہا تھا، سفیان رحمہ اللہ نے بچاؤ اختیار کیا اور اپنے دین کو لے کر نکلے اور شریک رحمہ اللہ نے اس کے دراہم پر گھات لگائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20239]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20240
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَ سَمِعْتُ وَالِدِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ، ح، وَأنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْمُفَسِّرُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْأَرْغِيَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى يَقُولُ:" كَتَبَ الْخَلِيفَةُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ فِي قَضَاءِ مِصْرَ فَجَنَّنَ نَفْسَهُ، وَلَزِمَ الْبَيْتَ، وَأَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فِي وَسَطِ الدَّارِ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ السَّطْحِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَلَا تَخْرُجُ إِلَى النَّاسِ، فَتَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَمَرَ اللهُ وَرَسُولُهُ؟ قَدْ جَنَّنْتَ نَفْسَكَ، وَلَزِمْتَ الْبَيْتَ"، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، وَقَالَ:" إِلَى هَهُنَا انْتَهَى عِلْمُكَ؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقُضَاةَ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّلَاطِينَ، وَيُحْشَرُ الْعُلَمَاءُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ؟".
یونس بن عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیفہ نے عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ کو مصر کے عہدۂ قضا کے لیے لکھا تو انہوں نے اپنے آپ کو دیوانہ ظاہر کیا اور اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا۔ ایک دن گھر کے درمیان وضو کرنے لگے تو چھت سے رشدین بن سعد رحمہ اللہ نے دیکھ لیا اور کہا: ”اے ابومحمد! کیا لوگوں کی طرف نکل کر اس کے مطابق فیصلہ نہ کرو گے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے؟ آپ نے اپنے آپ کو دیوانہ ظاہر کیا ہے اور اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا ہے۔“ انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”تیرے علم کی انتہا یہی ہے۔ کیا تو جانتا نہیں ہے کہ قاضی کا حشر قیامت کے دن بادشاہوں کے ساتھ ہوگا اور علماء کا حشر انبیاء اور رسولوں کے ساتھ ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20240]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20241
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ يُوسُفَ السُّلَمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى يُعَاتِبُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ عَلَى دُخُولِهِ فِي الْعَدَالَةِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" أَلَيْسَ حَكَيْتَ أَنْتَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ:" لَا تَكُنْ مُعَدِّلًا، وَلَا مَنْ يَعْرِفُهُ مُعَدِّلٌ"، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى:" إِنَّمَا الْعَدَالَةُ طُبَيْقٌ يُبْعَثُ إِلَى أَحَدِهِمْ".
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ، حسین بن منصور کو عدالت (گواہوں کی تعدیل کے عہدے) میں داخل ہونے کی وجہ سے ڈانٹ رہے تھے، پھر فرمایا: کیا تو نے خود سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے یہ بیان نہیں کیا کہ انہوں نے فرمایا: نہ تو تعدیل کرنے والا بن اور نہ ہی ایسا شخص بن جسے تعدیل کرنے والا جانتا ہو۔ پھر یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: عدالت تو بس ایک چھوٹی سی طشتری ہے جو ان میں سے کسی کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20241]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20242
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ:" دَخَلْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ يَحْيَى فَسَلَّمْتُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلِيَّ، فَجَلَسْتُ نَاحِيَةً، حَتَّى تَفَرَّقَ النَّاسُ فَدَنَوْتُ وَقَبَّلْتُ رَأْسَهُ، فَقُلْتُ:" يَا أُسْتَاذُ، أِيُّ جِنَايَةٍ جَنَيتُهَا؟"، قَالَ:" بَلَى، جَنَيْتَ جِنَايَةً، وَرَكِبْتَ ذَنْبًا عَظِيمًا"، فَقُلْتُ:" مَا هِيَ؟" قَالَ:" أَرَأَيْتَ إِذَا نَادَى الْمُنَادِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاهِرٍ؟ أَلَسْتَ مِمَّنْ يُؤْخَذُ فِي الْعَدَالَةِ؟" قَالَ: فَقُلْتُ:" أَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، قَالَ:" فَدَنَا مِنِّي، وَعَانَقَنِي وَقَالَ:" الْآنَ أَنْتَ أَخِي".
حسین بن منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کے پاس گیا، میں نے سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا ہی نہیں۔ میں ایک کونے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ لوگ بکھر گئے۔ میں نے قریب ہو کر ان کے سر کا بوسہ لیا اور کہا: اے استاد! مجھ سے کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو نے بہت بڑا جرم و گناہ کیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: تیرا کیا خیال ہے جب قیامت کے دن آواز دی جائے گی کہ عبداللہ بن طاہر کے ساتھی کہاں ہیں؟ کیا تو ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں عدالت (کے عہدے) میں لیا گیا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور رجوع کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: وہ میرے قریب ہوئے اور معانقہ کیا اور فرمایا: اب تو میرا بھائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20242]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20243
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ خَلَفَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ رَئِيسَ نَيْسَابُورَ بِبُخَارَى يَقُولُ: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَعُرِضَ عَلَيْهِ قَضَاءُ نَيْسَابُورَ فَاخْتَفَى ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَدَعَا اللهَ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ.
حسین بن منصور رحمہ اللہ پر نیساپور میں قضا کا عہدہ پیش کیا گیا، وہ تین دن تک چھپے رہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور تیسرے دن فوت ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20243]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيَّ، يَقُولُ:" قَدِمْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَجَعَلَ لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلِيَّ، فَقُلْتُ:" يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ إِنَّهُ يُكْتَبُ عَنِّي بِخُرَاسَانَ، وَإِنْ عَامَلْتَنِي بِهَذِهِ الْمُعَامَلَةِ رَمَوْا بِحَدِيثِي"، فَقَالَ لِي:" يَا أَحْمَدُ هَلْ بُدٌّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَنْ يُقَالَ: أَيْنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاهِرٍ وَأَتْبَاعُهُ؟ انْظُرْ أَيْنَ تَكُونُ أَنْتَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ:" يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ إِنَّمَا وَلَّانِي أَمْرَ الرِّبَاطِ، لِذَاكَ دَخَلْتُ فِيهِ"، قَالَ: فَجَعَلَ يُكَرِّرُ عَلَيَّ:" يَا أَحْمَدُ هَلْ بُدٌّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يُقَالَ: أَيْنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاهِرٍ وَأَتْبَاعُهُ؟ انْظُرْ أَيْنَ تَكُونُ أَنْتَ مِنْهُ".
احمد بن سعید رباطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس آیا، وہ میری طرف سر بھی نہیں اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! خراسان میں مجھ سے (احادیث) لکھی گئی ہیں، اگر آپ نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا تو لوگ میری احادیث کو چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے احمد! کیا یہ ضروری ہے کہ قیامت کے دن پکارا جائے کہ عبداللہ بن طاہر اور اس کے ساتھی کہاں ہیں؟ تو دیکھو کہ تم ان میں کہاں ہو؟ میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! انہوں نے مجھے رباط کے معاملات کا والی بنا دیا ہے، پھر میں ان میں داخل ہو گیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ وہ بار بار میرے اوپر یہی بات دہرا رہے تھے: اے احمد! قیامت کے دن یہ ضروری ہے کہ پوچھا جائے کہ عبداللہ بن طاہر کے ساتھی کہاں ہیں؟ دیکھ لو کہ تم ان میں کہاں ہو گے! [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20244]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20245
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ عَشِيَّةً، فَوَرَدَ عَلَيْنَا كِتَابُ السُّلْطَانِ بِتَقْلِيدِهِ الْقَضَاءَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ:" أُشَاوِرُ نَفْسِيَ اللَّيْلَةَ، وَأُخْبِرُكُمْ غَدًا"، فَغَدَوْنَا إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ نَعْشٌ، فَقُلْنَا:" مَا هَذَا؟"، قَالُوا:" مَاتَ نَصْرٌ"، فَسَأَلْنَا أَهْلَهُ عَنْهُ، فَقَالُوا:" بَاتَ لَيْلَةً يُصَلِّي، فَلَمَّا كَانَ فِي السَّحَرِ سَجَدَ فَأَطَالَ، فَحَرَّكْنَاهُ، فَوَجَدْنَاهُ مَيِّتًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ".
علی بن عباس بن ولید بجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم شام کے وقت نصر بن علی جہضمی رحمہ اللہ کے پاس تھے، ہمارے پاس بادشاہ کا خط آیا کہ بصرہ کے قاضی کی تقلید کرو (یعنی قاضی کا عہدہ قبول کرو)۔ انہوں نے کہا: آج رات میں اپنے دل سے مشاورت کر لوں، کل بتاؤں گا۔ کل صبح ہم ان کی طرف گئے، دروازے پر ان کی لاش تھی۔ ہم نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نصر فوت ہو گئے۔ ہم نے ان کے گھر والوں سے پوچھا، انہوں نے کہا: وہ رات کو نماز پڑھتے رہے، جب سحری کا وقت ہوا تو انہوں نے لمبا سجدہ کیا، ہم نے حرکت دی تو انہیں مردہ حالت میں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20245]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4005. -- باب: كراهية طلب الإمارة والقضاء وما يكره من الحرص عليهما والتسرع إليهما، وأنه إذا ابتلي بهما عن غير مسألة كان الأمر أسهل، وإلى النجاة أقرب
-- باب: امارت اور قضاء مانگنے کی کراہت، ان کی حرص کرنے اور ان کی طرف جلد بازی کرنے کی ناپسندیدگی کا بیان، اور یہ کہ اگر اسے مانگے بغیر اس آزمائش میں ڈال دیا جائے تو معاملہ آسان ہوتا ہے اور نجات کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20246
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ ٠ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ثُمَّ قَالَ: تَابَعَهُ أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْحَسَنِ.
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! امارت کا سوال نہ کرنا۔ اگر سوال کی وجہ سے ملی تو اس کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اگر بغیر سوال کے ملی تو مدد کی جائے گی۔ جب تم کسی کام پر قسم اٹھاؤ اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو قسم کا کفارہ دے کر بہتر کام کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20246]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20247
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرَ عَنْ يَمِينِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَعَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! امارت کا سوال نہ کرنا، اگر سوال کی وجہ سے ملی تو تو اس کے سپرد کر دیا جائے گا، اگر بغیر سوال کے مل گئی تو تیری مدد کی جائے گی، اگر تو کسی کام پر قسم اٹھائے اور دوسرا اس سے بہتر ہو تو قسم کا کفارہ دے کر بہتر کام کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20247]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قِرَاءَةً وَأَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُزَاحِمٍ الصَّفَّارُ الْأَدِيبُ لَفْظًا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ:" يَا رَسُولَ اللهِ أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا ⦗١٧٢⦘ وَلَّاكَ اللهُ"، وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّا وَاللهِ لَا نُوَلِّي هَذَا الْعَمَلَ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حِرَصَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے دو چچازاد بھائیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس کا اللہ نے آپ کو والی بنایا ہے ہمیں بھی امیر بناؤ۔ دوسرے نے بھی اسی طرح کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوال کرنے والے اور لالچی انسان کو ہم امیر نہیں بناتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20248]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح