السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4012. -- باب: القاضي يقضي في حال غضبه، فوافق الحق
-- باب: قاضی غصے کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ حق کے موافق ہو جائے۔
حدیث نمبر: 20287
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شَرْجٍ مِنَ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ"، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ الْمَاءُ ⦗١٨٣⦘ إِلَى الْجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ". قَالَ: وَاسْتَوعَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا قَبْلَ ذَلِكَ بِأَمْرٍ كَانَ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ قَالَ الزُّبَيْرُ:" فَمَا أَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] . قَالَ:" فَسَمِعْتُ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ يَقُولُ:" نَظَرْنَا فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ" فَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ مُخْتَصَرًا.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے کے پانی کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ، پھر (باقی) اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری کہنے لگا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے! (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ اور روکے رکھو، یہاں تک کہ منڈیروں تک جا پہنچے، پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑ دو۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دیا جب انصاری نے اعتراض کیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وسعت والا معاملہ کیا تھا۔
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”اللہ کی قسم! وہ ایماندار نہیں ہو سکتے، جب تک آپ کو اپنے فیصلوں میں فیصل نہ مان لیں۔“ کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے علاوہ دوسروں سے سنا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دیکھا کہ ”پانی روک یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے“، یہ ٹخنوں تک تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20287]
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”اللہ کی قسم! وہ ایماندار نہیں ہو سکتے، جب تک آپ کو اپنے فیصلوں میں فیصل نہ مان لیں۔“ کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے علاوہ دوسروں سے سنا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دیکھا کہ ”پانی روک یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے“، یہ ٹخنوں تک تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20287]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
4013. -- باب: ما يكره للقاضي من الشراء والبيع والنظر في النفقة على أهله وفي ضيعته لئلا يشغل فهمه
-- باب: قاضی کے لیے خرید و فروخت، اہلِ خانہ کے اخراجات اور اپنی جائیداد کے معاملات دیکھنے کی کراہت کا بیان تاکہ اس کی توجہ نہ بٹے۔
حدیث نمبر: 20288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" قَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ لِتَعْجَزَ عَنْ مُؤْنَةِ أَهْلِي، وَقَدْ شُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ" وَاحْتَرَفَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے فرمایا: میری قوم جانتی ہے، میں اپنے کاروبار سے اپنے گھر والوں کا خرچہ اٹھاتا تھا، لیکن اب میں مسلمانوں کے کاموں میں مصروف ہوں، اس لیے اب آلِ ابی بکر بیت المال سے خرچ لیں گے اور میں مسلمانوں کے لیے کام کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20288]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20289
قَالَ وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَكَلَ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنَ الْمَالِ، وَاحْتَرَفَ فِي مَالِ نَفْسِهِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ كَمَا مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسَمِ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أَبَا بكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ حِينَ اسْتُخْلِفَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى السُّوقِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيْنَ تُرِيدُ؟"، قَالَ:" السُّوقَ"، قَالَ:" وَقَدْ جَاءَكَ مَا يَشْغَلُكَ عَنِ السُّوقِ؟"، قَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ يَشْغَلُنِي عَنْ عِيَالِي؟ قَالَ:" تَفْرِضُ بِالْمَعْرُوفِ". ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَذَكَرَ فِيهِ وَصِيَّتَهُ بِرَدِّ مَا أُخِذَ مِنْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ".
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ اور ان کے گھر والے بیت المال سے خرچہ لیتے تھے اور اپنے لیے مال بھی کماتے تھے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا جس وقت وہ خلیفہ بنے۔۔۔ جب صبح ہوئی تو وہ بازار کی طرف چل دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: بازار کا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ کے پاس وہ ذمہ داری ہے جو آپ کو بازار سے مشغول رکھے گی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، کیا میرے اہل سے بھی مجھے مصروف کر دے گی؟ فرمایا: (آپ کے لیے) معروف طریقے سے وظیفہ مقرر کیا جائے گا۔ پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا دیا کہ بیت المال کا مال واپس کر دیا جائے جو ہم نے وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20289]
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا جس وقت وہ خلیفہ بنے۔۔۔ جب صبح ہوئی تو وہ بازار کی طرف چل دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: بازار کا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ کے پاس وہ ذمہ داری ہے جو آپ کو بازار سے مشغول رکھے گی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، کیا میرے اہل سے بھی مجھے مصروف کر دے گی؟ فرمایا: (آپ کے لیے) معروف طریقے سے وظیفہ مقرر کیا جائے گا۔ پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا دیا کہ بیت المال کا مال واپس کر دیا جائے جو ہم نے وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20289]
حدیث نمبر: 20290
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ تِجَارَةَ الْأَمِيرِ فِي إِمَارَتِهِ خَسَارَةٌ".
سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ امیر کا اپنی امارت میں تجارت کرنا خسارے کی بات ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20290]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20291
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ، عَنْ جُزِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ زَبَّانَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ رَكِبْتَ فَتَرَوَّحْتَ قَالَ عُمَرُ:" فَمَنْ يَجْزِي عَمَلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ؟"، قَالَ:" تَجِزِيهِ مِنَ الْغَدِ"، قَالَ:" لَقَدْ كَدَحَنِي عَمَلُ يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَكَيْفَ إِذَا اجْتَمَعَ عَلَيَّ عَمَلُ يَوْمَيْنِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ؟".
زبان بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ سوار ہو کر کچھ آرام کر لیں (تو بہتر ہو)، تو عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کہنے لگے: اس دن کام کون کرے گا؟
کہنے لگے: دوسرے دن کر لینا، تو انہوں نے فرمایا: ایک دن کے کام نے مجھے تھکا دیا تو دو دن کا کام ایک دن میں کیسے کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20291]
کہنے لگے: دوسرے دن کر لینا، تو انہوں نے فرمایا: ایک دن کے کام نے مجھے تھکا دیا تو دو دن کا کام ایک دن میں کیسے کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20291]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20292
وأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا. يَعْقُوبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ، قَالَ:" وَلَّى ابْنُ هُبَيْرَةَ الشَّعْبِيَّ الْقَضَاءَ، وَكَلَّفَهُ أَنْ يَسْمُرَ مَعَهُ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ الشَّعْبِيُّ:" لَا أَسْتَطِيعُ هَذَا، أَفْرِدْنِي بِأَحَدِ الْأَمْرَيْنِ، لَا أَسْتَطِيعُ الْقَضَاءَ، وَسَمَرَ اللَّيْلِ".
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن شبرمہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں: ابن ہبیرہ نے شعبی رحمہ اللہ کو قاضی مقرر کیا اور انہیں پابند کیا کہ رات کو ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کیا کریں۔ تو شعبی رحمہ اللہ نے ان سے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا؛ مجھے دونوں میں سے ایک ہی کام کے لیے مخصوص کر دیں، میں قضا اور رات کی بات چیت دونوں کی طاقت نہیں رکھتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20292]
4014. -- باب: ما يستحب للقاضي والوالي من أن يولي الشراء له والبيع رجلا مأمونا، غير مشهور بأنه يبيع له خوف المحاباة وفي معناه أثر، إسناده غير قوي
-- باب: قاضی اور حاکم کے لیے مستحب ہے کہ وہ خرید و فروخت کی ذمہ داری کسی ایسے قابلِ اعتماد شخص کو سونپے جو اس کی طرف سے لین دین میں مشہور نہ ہو تاکہ جانبداری کا اندیشہ نہ رہے اور اس مفہوم میں ایک اثر بھی ہے جس کی سند مضبوط نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20293
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْمُخْتَارُ - وَهُوَ ابْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ مَطَرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَإِذَا رَجُلٌ يُنَادِي مِنْ خَلْفِي:" ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّهُ أَنْقَى لِثَوْبِكَ، وَأَتْقَى لَكَ، وَخُذْ مِنْ رَأْسِكَ إِنْ كُنْتَ مُسْلِمًا"، فَمَشَيْتُ خَلْفَهُ، فَقُلْتُ:" مَنْ هَذَا؟"، فَقَالَ لِي رَجُلٌ:" هَذَا عَلِيٌّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ أَتَى دَارَ فُرَاتٍ وَهُوَ سُوقُ الْكَرَابِيسِ فَقَالَ:" يَا شَيْخُ، أَحْسِنْ بَيْعِي فِي قَمِيصٍ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ"، فَلَمَّا عَرَفَهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا، ثُمَّ أَتَى آخَرَ، فَلَمَّا عَرَفَهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا، فَأَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، وَلَبِسَهُ مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، قَالَ:" فَجَاءَ أَبُو الْغُلَامِ صَاحِبِ الثَّوْبِ، فَقِيلَ:" يَا فُلَانُ، قَدْ بَاعَ ابْنُكَ الْيَوْمَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، قَالَ:" أَفَلَا أَخَذْتَ دِرْهَمَيْنِ"، فَأَخَذَ أَبُوهُ دِرْهَمًا، وَجَاءَ بِهِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ:" أَمْسِكْ هَذَا الدِّرْهَمَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ"، قَالَ:" مَا شَأْنُ هَذَا الدِّرْهَمِ؟"، قَالَ:" كَانَ قَمِيصًا ثَمَنُهُ دِرْهَمَيْنِ"، قَالَ:" بَاعَنِي بِرِضَايَ، وَأَخَذَ بِرِضَاهُ".
ابن نافع، ابن مطر سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مسجد سے نکلا تو پیچھے سے مجھے ایک آدمی نے آواز دی: ”اپنی چادر کو اوپر اٹھاؤ، یہ کپڑے کی صفائی کے لیے بھی بہتر ہے اور آپ کے لیے مناسب بھی ہے اور اپنے سر کے بالوں کو بھی کاٹو اگر مسلمان ہو۔“ میں ان کے پیچھے چلا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو ایک آدمی نے جواب دیا: یہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرات کے گھر آئے، وہ کرابیس کا بازار ہے۔ انہوں نے کہا: ”اے شیخ! تین درہم کے عوض قمیص فروخت کرو۔“ جب اس نے پہچان لیا تو اس نے کچھ نہ بیچا۔ جب دوسرے کے پاس آئے اس نے بھی پہچاننے کے بعد کچھ نہ بیچا۔ پھر ایک نوجوان غلام کے پاس آئے، اس نے تین درہم کے عوض قمیص بیچ دی۔ انہوں نے کلائی سے لے کر ٹخنوں تک پہن لی۔ غلام کا باپ کپڑے والے کے پاس آیا، اسے کہا گیا: اے فلاں! تیرے بیٹے نے آج امیر المؤمنین کو تین درہم کے عوض قمیص بیچی ہے۔ راوی کہتے ہیں: غلام کے باپ نے کہا: آپ نے دو درہم کیوں نہ لیے؟ تو غلام کا باپ ایک درہم لیا اور امیر المؤمنین کے پاس لے کر آیا اور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! اپنا درہم لے لو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ درہم کیا ہے؟“ وہ کہنے لگا کہ قمیص کی قیمت دو درہم تھی۔ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اپنی رضامندی سے خریدی، اس نے رضامندی سے مجھ سے درہم وصول کیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20293]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4015. -- باب:: القاضي يأتي الوليمة إذا دعي لها، ويعود المرضى، ويشهد الجنائز
-- باب: قاضی کو جب ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ شریک ہو، بیماروں کی عیادت کرے اور جنازوں میں حاضر ہو۔
حدیث نمبر: Q20294
قَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ أَجَابَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ایک غلام کی دعوت قبول کی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20294]
حدیث نمبر: 20294
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ:" أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کاموں کا حکم دیا: ”1۔ نمازِ جنازہ پڑھنا، 2۔ بیمار پرسی کرنا، 3۔ چھینک کا جواب دینا، 4۔ مظلوم کی مدد کرنا، 5۔ سلام کو عام کرنا، 6۔ دعوت کو قبول کرنا، 7۔ قسم کا پورا کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20294]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20295
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ" قِيلَ:" مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟"، قَالَ:" إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْ جِنَازَتَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ کہا گیا: وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”1۔ جب تو مسلمان بھائی سے ملے تو سلام کہہ، 2۔ جب وہ تجھے دعوت دے تو قبول کر، 3۔ جب خیر خواہی طلب کرے تو خیر خواہی کر، 4۔ چھینک کا جواب دے، 5۔ جب وہ بیمار ہو اس کی تیمار داری کر، 6۔ جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے نمازِ جنازہ میں شامل ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20295]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح