السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4019. -- باب: من يشاور
-- باب: کن لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20334
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُوعَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ ⦗١٩٤⦘ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِابْنٍ لَهُ بَدِيلًا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رَأْيُ الشَّيْخِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ مَشْهَدِ الشَّابِّ".
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی بدل کے طور پر اپنا بیٹا لے کر ان کے پاس آیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ شیخ کی رائے نوجوان کی موجودگی سے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20334]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4020. -- باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان
-- باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: Q20335
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ} [النساء: 59] يَعْنِي - وَاللهُ أَعْلَمُ: هُمْ وَأُمَرَاؤُهُمُ الَّذِينَ أُمِرُوا بِطَاعَتِهِمْ، {فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ} [النساء: 59] يَعْنِي - وَاللهُ أَعْلَمُ: إِلَى مَا قَالَ اللهُ وَالرَّسُولُ"، وَقَالَ {أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى} [القيامة: 36] قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَلَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ فِيمَا عَلِمْتُ أَنَّ السُّدَى: الَّذِي لَا يُؤْمَرُ وَلَا يُنْهَى، وَمَنْ أَفْتَى أَوْ حَكَمَ بِمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ، فَقَدْ أَجَازَ لِنَفْسِهِ أَنْ يَكُونَ فِي مَعَانِي السُّدَى، قَالَ الشَّيْخُ:" وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ الْآيَتَيْنِ بِنَحْوِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ” ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ﴾ ”پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو“ [سورة النساء: 59] اس کا مطلب ہے، واللہ اعلم: وہ (لوگ) اور ان کے وہ امراء جن کی اطاعت کا انہیں حکم دیا گیا ہے، ﴿فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ﴾ ”تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو“ [سورة النساء: 59] اس کا مطلب ہے، واللہ اعلم: اس بات کی طرف جو اللہ اور رسول نے فرمائی ہے۔“
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى﴾ ”کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے یوں ہی بے کار چھوڑ دیا جائے گا؟“ [سورة القيامة: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میرے علم کے مطابق اہل علم بالقرآن میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ”سُدًى“ وہ ہے جسے نہ کسی بات کا حکم دیا جائے اور نہ کسی بات سے منع کیا جائے، اور جس نے ایسی بات کا فتویٰ دیا یا ایسا فیصلہ کیا جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا، تو اس نے اپنے لیے یہ جائز کر لیا کہ وہ ”سُدًى“ (بے کار چھوڑے ہوئے) کے معنی میں داخل ہو جائے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں امام مجاہد رحمہ اللہ سے ان دونوں آیتوں کی تفسیر میں اسی طرح کی بات روایت پہنچی ہے جیسی امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20335]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى﴾ ”کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے یوں ہی بے کار چھوڑ دیا جائے گا؟“ [سورة القيامة: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میرے علم کے مطابق اہل علم بالقرآن میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ”سُدًى“ وہ ہے جسے نہ کسی بات کا حکم دیا جائے اور نہ کسی بات سے منع کیا جائے، اور جس نے ایسی بات کا فتویٰ دیا یا ایسا فیصلہ کیا جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا، تو اس نے اپنے لیے یہ جائز کر لیا کہ وہ ”سُدًى“ (بے کار چھوڑے ہوئے) کے معنی میں داخل ہو جائے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں امام مجاہد رحمہ اللہ سے ان دونوں آیتوں کی تفسیر میں اسی طرح کی بات روایت پہنچی ہے جیسی امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20335]
حدیث نمبر: 20335
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي: ابْنَ عَوْنٍ، وَيَعْلَى: يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَهُ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ، فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَاسْتَمْسِكُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَخُذُوا بِهِ" فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ، وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" وَأَهْلُ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ تَعَالَى فِي أَهْلِ بَيْتِي"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ.
یزید بن حیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”اے لوگو! میں انسان ہوں۔ قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اس کی بات کو قبول کرلوں (مراد موت)۔ میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں: پہلی اللہ کی کتاب، اس میں ہدایت اور نور ہے۔ تم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی ترغیب دی اور ابھارا۔ پھر فرمایا: ”دوسری میرے اہل بیت ہیں، اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔“ تین مرتبہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20335]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2408»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20336
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عنِ ابنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا ⦗١٩٥⦘ النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا: كِتَابُ اللهِ، وَسُنَّةُ نَبِيِّهِ".
عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے اندر وہ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم نے ان کو مضبوطی سے تھامے رکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہوں گے: 1 اللہ کی کتاب 2 اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20336]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20337
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي قَدْ خَلَّفْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا مَا أَخَذْتُمْ بِهِمَا، أَوْ عَمِلْتُمْ بِهِمَا، كِتَابُ اللهِ، وَسُنَّتِي، وَلَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے اندر وہ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامو گے—یا فرمایا: عمل کرو گے—کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ 1 اللہ کی کتاب 2 میری سنت۔“
”وہ ہرگز متفرق بھی نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ میرے پاس حوض پر آئیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20337]
”وہ ہرگز متفرق بھی نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ میرے پاس حوض پر آئیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20337]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20338
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْحَمَامِيِّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا"، قَالَ:" أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ". لَفْظُ حَدِيثِ الدُّورِيِّ..
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں ایسا وعظ فرمایا جس سے دل ڈر گئے، آنسو جاری ہو گئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آخری وعظ کی مانند ہے، وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارا امیر غلام بھی ہو تب بھی اس کی اطاعت کرنا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا۔ جو تم میں سے زندہ رہے گا، وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو تھام لینا، اسے داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا۔ بدعات سے بچنا؛ کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20338]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20339
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً: عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ:" كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟" قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللهِ، قَالَ:" فَإِنْ لَمْ تَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللهِ؟"، قَالَ: أَقْضِي بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَإِنْ لَمْ تَجِدْهُ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ؟"، قَالَ: أَجْتَهِدُ بِرَأْيٍ، لَا آلُو، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"..
حارث بن عمرو، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے اصحاب سے اور وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب روانہ کیا تو فرمایا: ”کیسے فیصلہ کرو گے جب فیصلہ آیا؟“ کہنے لگے: اللہ کی کتاب سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کی کتاب میں نہ پائے؟“ عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں نہ پائے؟“ تو کہنے لگے: اپنی رائے سے لیکن کچھ کمی نہ کروں گا۔ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر پھیرا اور فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق بخشی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20339]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20340
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ بِمَعْنَاهُ.
حارث بن عمرو رحمہ اللہ جو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کیا۔ اس کے ہم معنی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20340]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20341
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ:" كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا وَرَدَ عَلَيْهِ خَصْمٌ نَظَرَ فِي كِتَابِ اللهِ، فَإِنْ وَجَدَ فِيهِ مَا يَقْضِي بِهِ قَضَى بِهِ بَيْنَهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فِي الْكِتَابِ، نَظَرَ: هَلْ كَانَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ سُنَّةٌ؟ فَإِنْ عَلَمِهَا قَضَى بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ خَرَجَ فَسَأَلَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ:" أَتَانِي كَذَا وَكَذَا، فَنَظَرْتُ فِي كِتَابِ اللهِ، وَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، فَهَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي ذَلِكَ بِقَضَاءٍ؟"، فَرُبَّمَا قَامَ إِلَيْهِ الرَّهْطُ فَقَالُوا:" نَعَمْ، قَضَى فِيهِ بِكَذَا وَكَذَا"، فَيَأْخُذُ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ جَعْفَرٌ وَحَدَّثَنِي غَيْرُ مَيْمُونٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِينَا مَنْ يَحْفَظُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَإِنْ أَعْيَاهُ ذَلِكَ دَعَا رُءُوسَ الْمُسْلِمِينَ وَعَلَمَاءَهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى الْأَمْرِ قَضَى بِهِ"، قَالَ جَعْفَرٌ: وَحَدَّثَنِي مَيْمُونٌ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، فَإِنْ أَعْيَا أَنْ يَجِدَ فِي الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ، نَظَرَ: هَلْ كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ قَضَاءٌ؟ فَإِنْ وَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ قَضَى فِيهِ بِقَضَاءٍ قَضَى بِهِ، وَإِلَّا دَعَا رُءُوسَ الْمُسْلِمِينَ وَعُلَمَاءَهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعُوا عَلَى الْأَمْرِ قَضَى بَيْنَهُمْ".
میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی فیصلہ آتا تو اللہ کی کتاب میں دیکھتے۔ اگر کتاب اللہ میں موجود ہوتا تو اس کے ذریعہ فیصلہ فرما دیتے۔ اگر کتاب اللہ میں نہ پاتے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو دیکھتے۔ اگر جان لیتے تو اس کے مطابق فیصلہ فرماتے۔ اگر معلوم نہ ہوتا تو مسلمانوں کی طرف نکلتے اور فرماتے کہ میرے پاس فلاں فیصلہ آیا ہے، میں نے کتاب اللہ اور سنتِ رسول میں کچھ نہیں پایا، کیا تمہارے علم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ کیا ہو؟ بعض دفعہ کوئی جماعت ان کی طرف جاتی اور کہتی کہ ہاں اس بارے میں یہ فیصلہ ہوا تھا تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کر دیتے۔
جعفر فرماتے ہیں: میمون کے علاوہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت فرماتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے توفیق دی کہ ہم میں سے بعض اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اگر کسی کو یاد نہ ہوتا تو تمام لوگوں کو سامنے بلا کر علماء وغیرہ سے مشورہ کرتے۔ ان کی رائے متفق علیہ ہوتی تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔
(ب) جعفر فرماتے ہیں: حضرت میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کرتے تھے۔ اگر اس کی اصل قرآن و سنت میں پاتے تو ٹھیک وگرنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فیصلہ جات دیکھتے۔ اگر کوئی فیصلہ پاتے تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے، وگرنہ مسلمانوں کے سردار اور علماء سے مشورہ فرما کر اس کے مطابق فیصلہ فرماتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20341]
جعفر فرماتے ہیں: میمون کے علاوہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت فرماتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے توفیق دی کہ ہم میں سے بعض اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اگر کسی کو یاد نہ ہوتا تو تمام لوگوں کو سامنے بلا کر علماء وغیرہ سے مشورہ کرتے۔ ان کی رائے متفق علیہ ہوتی تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔
(ب) جعفر فرماتے ہیں: حضرت میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کرتے تھے۔ اگر اس کی اصل قرآن و سنت میں پاتے تو ٹھیک وگرنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فیصلہ جات دیکھتے۔ اگر کوئی فیصلہ پاتے تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے، وگرنہ مسلمانوں کے سردار اور علماء سے مشورہ فرما کر اس کے مطابق فیصلہ فرماتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20341]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20342
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، كُوفِيٌّ،، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنِ فُضَيْلٍ، وَأَسْبَاطٌ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَيْهِ:" إِذَا جَاءَكُمْ أَمْرٌ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاقْضِ بِهِ، وَلَا يَلْفِتَنَّكَ عَنْهُ الرِّجَالُ، فَإِنْ أَتَاكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، فَانْظُرْ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْضِ بِهَا، فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَخُذْ بِهِ، فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ قَبْلَكَ، فَاخْتَرْ أِيَّ الْأَمْرَيْنِ شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْتَهِدَ بِرَأْيِكَ، ثُمَّ تُقَدِّمَ فَتُقَدِّمَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُأَخِّرَ فَتُأَخِّرَ، وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ". رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ بِمَعْنَاهُ.
امام شعبی رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا: جب کسی معاملے کا حکم قرآن میں موجود ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرنا، لوگ آپ کو اس سے ہٹا نہ سکیں۔ اگر قرآن میں موجود نہ ہو تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھو، اگر اسے پالو تو اس کے مطابق فیصلہ کر دو۔ اگر قرآن و سنت میں موجود نہ ہو تو جس پر لوگوں کا اجماع ہو اس کے مطابق فیصلہ کر دو۔ اگر قرآن و سنت اور لوگوں کی رائے بھی موجود نہ ہو تو جس معاملے کو پسند کرو؛ اگر آپ چاہیں تو اپنی رائے سے اجتہاد کریں، پھر چاہے فوراً عمل کر لیں یا مؤخر کر دیں، لیکن مؤخر کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20342]