🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4029. -- باب: عدد المزكين
-- باب: تزکیہ کرنے والوں کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20391
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢١١⦘ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ الْكِنْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ، فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَرَّتْ عَلَيْهِ جِنَازَةٌ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، قَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ فَقُلْتُ: مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ" قَالَ: قُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ:" وَثَلَاثَةٌ" قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ:" وَاثْنَانِ"، ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
ابواسود دیلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں مدینہ آیا، وہاں ایک وبا پھیل چکی تھی جس کی وجہ سے موتیں جلد ہو رہی تھیں۔ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا۔ ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی تعریف کی گئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا، اس کی بھی تعریف کی گئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی کی گئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ ابواسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہوگئی؟ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کی چار آدمی اچھائی کی گواہی دے دیں، اللہ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔“ راوی فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: تین؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین۔“ ہم نے کہا: دو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بھی۔“ پھر ہم نے ایک کے بارے میں سوال نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20391]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1368۔ 2643»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4030. -- باب:: لا يقبل الجرح فيمن ثبتت عدالته إلا بأن يقفه على ما يجرحه به
-- باب: جس شخص کی عدالت ثابت ہو اس پر جرح قبول نہیں کی جائے گی سوائے اس کے کہ وہ ان اسباب پر مطلع کرے جن کی بنیاد پر وہ جرح کر رہا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20392
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عنِ ابنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، وَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللهُ"، قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَقَالَ لِي:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟"، قَالَ: فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، قَالَ: فَثَابَ فِي الْبَيْتَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ، ذَوُو عَدَدٍ، وَاجْتَمَعُوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ، لَا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ وَقَدْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ؟"، قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ ⦗٢١٢⦘ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ كَانَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنِ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْبَلْ قَوْلَ الْوَاقِعِ فِي مَالِكِ بْنِ الدُّخْشُنِ بِأَنَّهُ مُنَافِقٌ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؛ ثُمَّ لَمَّا بَيَّنَهُ، لَمْ يَرَهُ نِفَاقًا، فَرَدَّ عَلَيْهِ قَوْلَهُ.
محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نابینا ہوں اور اپنی قوم کا امام ہوں۔ جب بارش ہوتی ہے تو میرے اور ان کے درمیان وادی بہہ پڑتی ہے اور میں مسجد میں نہیں آسکتا کہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائیں اور نماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو اپنی نماز کی جگہ مقرر کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میں ایسا کر لوں گا۔“ عتبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبح کے وقت دن کے بلند ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مانگی، میں نے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا: ”کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنالیں، آپ نے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیرا۔ ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا اس کے لیے روکا۔ گھر کے افراد کو بلایا اور وہ جمع ہوگئے۔ کہنے والے نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ بعض نے کہا: یہ منافق ہے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے نہ کہو، کیا اس نے کلمہ اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں پڑھا؟“ اس نے کہا: اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔ کہتے ہیں: ہم تو اس کی خوشنودی اور خیر خواہی منافقین کی طرف دیکھتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے کلمہ پڑھا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کردی ہے۔“ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں نے حصین بن محمد انصاری رحمہ اللہ سے سوال کیا جو بنو سالم کے ایک آدمی ہیں اور ان کے سردار ہیں تو انھوں نے بھی محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تصدیق کی۔
(ب) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن دخشن کے بارے میں کہنے والے کی یہ بات قبول نہ کی کہ وہ منافق ہے، یہاں تک کہ وضاحت ہوگئی کہ وہ کس بنیاد پر کہہ رہا ہے، پھر جب اس نے وضاحت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نفاق نہ سمجھا اور اس کا قول رد کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20392]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ:" الْعَدْلُ فِي الْمُسْلِمِينَ مَنْ لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُ رِيبَةٌ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَهَذَا عِنْدَنَا فِيمَنْ ثَبَتَتْ عَدَالَتُهُ فَهُوَ عَلَى أَصْلِ الْعَدَالَةِ مَا لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُ رِيبَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کو عادل ہی شمار کریں گے جب تک اس میں شک نہ پیدا ہو جائے
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک بھی جب تک عدالت ثابت ہے تو وہ عادل ہی ہے جب تک شک پیدا نہ ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20393]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4031. -- باب: ما يقول في لفظ التعديل
-- باب: تعدیل (کسی کو عادل قرار دینے) کے الفاظ میں کیا کہا جائے گا اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20394
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا، فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ إِلَى آلِ عُمَرَ فَاشْتَرَى نَصِيبَهُ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" هُوَ جَائِزُ الشَّهَادَةِ لَهُ وَعَلَيْهِ". وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَأَنْتَ عِنْدَنَا الْعَدْلُ الرِّضَا فَمَاذَا سَمِعْتَ؟.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں زمین فراہم کی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ آلِ عمر رضی اللہ عنہم کے پاس گئے، ان سے ان کا حصہ خرید لیا۔ پھر وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ فرماتے ہیں: ”عبدالرحمن بن عوف کا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اتنی زمین اس کو دی ہے۔“ وہ کہنے لگے: ”ان کی گواہی جائز ہے۔“
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”آپ ہمارے نزدیک عادل انسان ہیں، آپ نے کیا سنا؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20394]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20395
وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ، فِي الْمَرَاسِيلِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَيَزِيدَ عَنِ الصَّعْقِ بْنِ حَزْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سُئِلَ الرَّجُلُ عَنْ أَخِيهِ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ سَكَتَ، وَإِنْ شَاءَ قَالَ، فَصَدَقَ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ السُّلَيْمَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ. قَالَ: وَقَالَ أَحَدُهُمَا: عَنِ الرَّجُلِ.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی سے اس کے بھائی کے بارے میں پوچھا جائے تو اسے اختیار ہے چاہے تو خاموش رہے، چاہے کچھ کہہ دے اور سچ بولے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20395]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4032. -- باب: من يرجع إليه في السؤال، يجب أن تكون معرفته باطنة متقادمة
-- باب: جس شخص سے (گواہوں کے بارے میں) دریافت کیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی واقفیت اندرونی اور پرانی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20396
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَعْلَمُ إِذَا أَحْسَنْتُ، وَإِذَا أَسَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ: قَدْ أَحْسَنْتَ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ أَسَأْتَ، فَقَدْ أَسَأْتَ".
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیسے جان سکتا ہوں کہ میں نے اچھا یا برا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ہمسائے کو سن لو، اگر وہ کہے کہ آپ نے اچھا کیا تو اچھا ہے اور جب آپ ان سے سنیں کہ وہ کہتے ہیں: آپ نے برا کیا تو آپ نے برا ہی کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20396]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه معمر في جامعه 19749»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20397
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ أَنِّي قَدْ أَحْسَنْتُ، وَإِذَا أَسَأْتُ أَنِّي قَدْ أَسَأْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَالَ لَكَ جِيرَانُكَ: قَدْ أَحْسَنْتَ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ، وَإِذَا قَالَ لَكَ جِيرَانُكَ: قَدْ أَسَأْتَ، فَقَدْ أَسَأْتَ".
کلثوم خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اچھا یا برا کروں تو اس کی پہچان کیسے کرسکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیرے ہمسائے کہہ دیں کہ تو نے اچھا یا برا کیا ہے تو واقعتاً تو نے اچھا یا برا کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20397]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20398
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عَبَّادٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عنْ ابنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ رَجُلٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ:" كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللهِ، أَتَعْرِفُهُ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا اسْمُهُ؟"، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ:" فَأَيْنَ مَنْزِلُهُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ:" فَلَيْسَ هَذِهِ بِمَعْرِفَةٍ"، كَذَا قَالَ..
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! کیا تو اس کو جانتا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کا گھر کہاں ہے؟“ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہچان نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20398]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20399
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عنِ ابنِ عُيَيْنَةَ عنِ ابنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ يَعْرِفُهُ"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَعْرِفُهُ بِوَجْهِهِ، وَلَا أَعْرِفُهُ بِاسْمِهِ، قَالَ:" لَيْسَتْ تِلْكَ بِمَعْرِفَةٍ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا، وَهُوَ الصَّحِيحُ.
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کو کون پہچانتا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں اس کے چہرے سے پہچانتا ہوں، لیکن اس کا نام نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہچان نہیں ہے۔“
یہ مرسل روایت ہی صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20399]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20400
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ: شَهِدَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَهَادَةٍ، فَقَالَ لَهُ:" لَسْتُ أَعْرِفُكَ، وَلَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا أَعْرِفَكَ، ائْتِ بِمَنْ ⦗٢١٤⦘ يَعْرِفُكَ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا أَعْرِفُهُ، قَالَ:" بِأِيِّ شَيْءٍ تَعْرِفُهُ؟" قَالَ: بِالْعَدَالَةِ وَالْفَضْلِ، فَقَالَ:" فَهُوَ جَارُكَ الْأَدْنَى الَّذِي تَعْرِفُ لَيْلَهَ وَنَهَارَهَ، وَمَدْخَلَهُ وَمَخْرَجَهُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَمُعَامِلُكَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ اللَّذَيْنِ بِهِمَا يُسْتَدَلُّ عَلَى الْوَرَعِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَرَفيِقُكَ فِي السَّفَرِ الَّذِي يُسْتَدَلُّ عَلَى مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" لَسْتَ تَعْرِفُهُ"، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ:" ائْتِ بِمَنْ يَعْرِفُكَ".
خرشہ بن حر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گواہی کے لیے آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: میں تجھے پہچانتا نہیں ہوں، لیکن یہ بات تجھے کچھ بھی نقصان نہ دے گی جب تو اپنے کسی پہچاننے والے کو لے آئے گا۔ قوم کے ایک فرد نے کہا: میں اسے جانتا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کس چیز کے ذریعے اسے پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: عدالت اور فضیلت کی وجہ سے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا وہ تیرا قریبی ہمسایہ ہے کہ تم اس کے لیل و نہار کو جانتے ہو اور اس کے نکلنے اور داخل ہونے کی جگہ کو پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا درہم و دینار کی بنا پر تقویٰ پر استدلال کرتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا یہ سفر میں تمہارا ساتھی تھا کہ تم اس کے اچھے اخلاق پر استدلال کر رہے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم اسے نہیں جانتے، کسی ایسے کو لاؤ جو تمہیں جانتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20400]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں