السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4095. -- باب:: كيف يحلف أهل الذمة والمستأمنون
-- باب: اہل ذمہ اور پناہ گزین (مستأمنین) کس طرح قسم اٹھائیں گے۔
حدیث نمبر: 20718
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ،: أَنَّ كَعْبَ بْنَ سُورٍ، أَدْخَلَ يَهُودِيًّا الْكَنِيسَةَ وَوَضَعَ التَّوْرَاةَ عَلَى رَأْسِهِ وَاسْتَحْلَفَهُ بِاللهِ وَيُذْكَرُ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" يُسْتَحْلَفُ الْيَهُودِيُّ فِي الْكَنِيسَةِ.
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کعب بن سور رحمہ اللہ نے ایک یہودی کو کنیسہ میں داخل کیا اور اس کے سر پر تورات رکھی، اس سے اللہ کی قسم اٹھوائی۔ اشعری رضی اللہ عنہ سے مذکور ہے کہ یہودی کنیسہ میں قسم اٹھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20718]
4096. -- باب:: يحلف المدعى عليه في حق نفسه على البت، وفيما غاب عنه على نفي العلم
-- باب: مدعا علیہ اپنے ذاتی فعل کے بارے میں قطعی قسم کھائے اور جو اس کے سامنے نہ ہوا ہو اس کے بارے میں علم نہ ہونے کی قسم کھائے۔
حدیث نمبر: 20719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ:" احْلِفْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ" يَعْنِي لِلْمُدَّعِي.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے کہا جس نے قسم اٹھائی: ”اس ذات کی قسم اٹھاؤ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کہ مدعی کی کوئی چیز آپ کے پاس نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20719]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ الثَّعْلَبِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، فَقَالَ لِلْكِنْدِيِّ:" مَا تَقُولُ؟"، فَقَالَ: أَقُولُ: إِنَّهَا أَرْضِي، وَفِي يَدِي، وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي، فَقَالَ لِلْحَضْرَمِيِّ:" هَلْ لَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ؟"، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ يَحْلِفُ يَا رَسُولَ اللهِ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضٌ اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، قَالَ: فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالًا بِيَمِينِهِ إِلَّا لَقِيَ اللهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ أَجْذَمُ" فَرَدَّهَا الْكِنْدِيُّ. لَفْظُ حَدِيثِ الْحَافِظِ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبْدَانَ قَرِيبٌ مِنْهُ.
سیدنا اشعث بن قیس الکندی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرمی اور کندی آدمی کے درمیان جھگڑا تھا۔ دونوں زمین کا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ حضرمی نے کہا: ”میری زمین پر اس کے باپ نے قبضہ کر لیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندی سے پوچھا: ”تم کیا کہتے ہو؟“ اس نے کہا: ”میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے، میرے باپ کی وراثت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: ”آپ کے پاس دلیل ہے؟“ کہنے لگا: ”نہیں، لیکن اے اللہ کے رسول! یہ اس اللہ کی قسم اٹھائے جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ وہ زمین ہے جس پر اس کے باپ نے مجھ سے قبضہ کیا تھا۔“ کندی قسم کے لیے تیار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم اٹھا کر مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کر لیا، جب وہ قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا وہ کوڑھی ہوگا“ تو کندی نے واپس کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20720]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4097. -- باب:: ما جاء في قول الله عز وجل: وأتيناه الحكمة وفصل الخطاب ومن رضي بحكم الله عز وجل في ذلك
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں وارد شدہ بیان: ”اور ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا کی“ اور جو اس معاملے میں اللہ عزوجل کے فیصلے پر راضی ہو گیا۔
حدیث نمبر: 20721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُرَيْحٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَأَتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ} قَالَ:" الْأَيْمَانُ وَالشُّهُودُ". وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ.
قاضی شریح رحمہ اللہ اللہ کے اس حکم کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ﴾ [سورة ص: 20] سے مراد قسمیں اور گواہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20721]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ ⦗٣٠٥⦘ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، أَنَّ دَاوُدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالْقَضَاءِ، فَقُطِعَ بِهِ، فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ: أَنِ اسْتَحْلِفْهُمْ بِاسْمِي، وَسَلْهُمُ الْبَيِّنَاتِ، قَالَ:" فَذَلِكَ فَصْلُ الْخِطَابِ".
ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ داود علیہ السلام کو فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا، وہ گھبرا گئے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی: ”ان سے میرے نام کی قسم اور دلائل کا سوال کرو۔“ فرماتے ہیں: یہ ﴿فَصْلَ الْخِطَابِ﴾ [سورة ص: 20] ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20722]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ حَلَفَ بِاللهِ فَلْيَصْدُقْ، وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللهِ فَلْيَرْضَ، وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللهِ فَلَمْ يَرْضَ فَلَيْسَ مِنَ اللهِ". تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ أَسْبَاطٍ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا وہ اپنے باپ کی قسم اٹھا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپوں کی قسمیں نہ اٹھاؤ، جو قسم اٹھائے تو سچی قسم اٹھائے، جس کو اللہ کی قسم دے دی جائے وہ راضی ہو جائے اور جس کو اللہ کی قسم دی گئی اور وہ راضی نہ ہوا تو وہ اللہ کی جانب سے نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20724
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنَّ أَحَدَهُمَا تَهَاوَنَ بِبَعْضِ حُجَّتِهِ لَمْ يُبْلِغْ فِيهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآخَرِ، فَقَالَ الْمُتَهَاوِنُ بِحُجَّتِهِ: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" يُحَرِّكُ يَدَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ:" اطْلُبْ حَقَّكَ حَتَّى تَعْجِزَ، فَإِذَا عَجَزْتَ فَقُلْ: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَإِنَّمَا يُقْضَى بَيْنَكُمْ عَلَى حُجَّتِكُمْ". هَذَا مُنْقَطِعٌ..
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک دلائل کے اعتبار سے کمزور تھا اپنی بات واضح نہ کر سکا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کے حق میں فیصلہ کر دیا تو کمزور دلیل والا کہنے لگا: مجھے اللہ ہی کافی ہے، وہ کارساز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو دو یا تین بار حرکت دیتے ہوئے فرمایا: ” «حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ”مجھے اللہ ہی کافی ہے، وہ کارساز ہے“ اپنا حق طلب کر عاجز آنے تک، جب عاجز آ جائے تب کہہ: «حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ”مجھے اللہ ہی کافی ہے، وہ کارساز ہے“ کیونکہ فیصلہ تمہارے دلائل کی بنیاد پر کیا جائے گا۔“
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20724]
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20724]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20725
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، قَالَا: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بُحَيْرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ".
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا وہ کہنے لگا: ”مجھے اللہ کافی ہے وہ بہترین کارساز ہے“، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عاجزی پر ملامت کرتا ہے، لیکن تم دانائی کو اختیار کرو، جب معاملہ غالب آ جائے پھر کہو: «حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ”مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20725]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4098. -- باب:: من بدأ فحلف عند الحاكم أعاد الحاكم عليه اليمين حتى تكون يمينه بعد خروج الحكم بها
-- باب: جس نے از خود حاکم (قاضی) کے سامنے قسم کھا لی، حاکم اس سے دوبارہ قسم لے گا تاکہ اس کی قسم حاکم کے حکم صادر کرنے کے بعد واقع ہو۔
حدیث نمبر: 20726
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، فِي آخَرِينَ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ:" الْحُجَّةُ فِيهِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، أَخْبَرَنَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِيَ الْبَتَّةَ، وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا ⦗٣٠٦⦘ وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟"، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ".
نافع بن عجیر بن عبد یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو «الْبَتَّةَ» ”طلاقِ بتہ“ دے دی ہے، اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک کا ارادہ کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «آللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟» اللہ کی قسم! کیا تو نے صرف ایک کا ارادہ کیا تھا؟“ تو رکانہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! صرف ایک کا ارادہ کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی ان کو لوٹا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20726]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ تقدم برقم 149910»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
4099. -- باب:: اليمين في الطلاق والعتاق وغيرهما
-- باب: طلاق، غلام آزاد کرنے اور ان کے علاوہ دیگر امور میں قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20727
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِذَا أَحْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكَانَةَ فِي الطَّلَاقِ فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْيَمِينَ فِي الطَّلَاقِ كَمَا هِيَ فِي غَيْرِهِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے طلاق کے معاملے میں قسم لی، تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ طلاق میں بھی قسم اسی طرح ہے جس طرح دوسرے معاملات میں ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20727]