السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4103. -- جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين
-- آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20766
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَبِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رب العزت رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن کا گناہ گار توبہ کرلے اور دن کو اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں، تاکہ رات کا پاپی توبہ کرلے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2759»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللهِ يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ، أَحَدُهُمَا: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ ⦗٣١٨⦘ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ"، قَالَ:" بِأَرْضِ فَلَاةٍ دَوِيَّةٍ وَمَهْلَكَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَنَزَلَ فِيهَا، فَنَامَ وَرَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ، فَذَهَبَ فِي طَلَبِهَا، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ: وَاللهِ لَأَرْجِعَنَّ فَلَأَمُوتَنَّ حَيْثُ كَانَ رَحْلِي، فَرَجَعَ فَنَامَ وَاسْتَيْقَظَ، وَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ".
حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے ہمیں دو احادیث بیان کیں: ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع بیان کی اور دوسری اپنی جانب سے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بڑھ کر خوش ہوتا ہے، جو جنگلی سفر میں ہلاکت کی جگہ پر تھا۔ اس کی سواری پر کھانا پینا موجود تھا۔ وہ قیام کی غرض سے اترا، آرام کرنے کے بعد بیدار ہوا تو سواری غائب تھی۔ تلاش کرنے پر اس کو پا نہ سکا۔ اس کو پیاس نے تنگ کیا۔ اس نے کہا: میں اپنی سواری والی جگہ واپس پلٹ جاؤں گا یہاں تک کہ موت آ جائے۔ وہ اس جگہ پر آ کر سو گیا۔ جب بیدار ہوا، اس کی سواری موجود تھی اور اس کا کھانا پینا بھی تھا۔“ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مومن بندہ جب گناہ دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو پہاڑ کے نیچے تصور کرتا ہے کہ کہیں اس کے اوپر نہ گر جائے اور گناہ گار اپنے گناہ کو اس طرح خیال کرتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی ہو، وہ اپنی ناک پر ہاتھ پھیر دیتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: فرح کی نسبت اللہ کی جانب ہے۔ اس سے مراد اللہ کی رضا و قبولیت ہے جیسے ﴿كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 53] ”ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر راضی ہے۔“ جو دارالسلام کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور گناہوں میں مصروف ہو جاتا ہے، اللہ کی مشیت پر ہے کہ معاف کرے یا سزا دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20767]
شیخ فرماتے ہیں: فرح کی نسبت اللہ کی جانب ہے۔ اس سے مراد اللہ کی رضا و قبولیت ہے جیسے ﴿كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 53] ”ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر راضی ہے۔“ جو دارالسلام کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور گناہوں میں مصروف ہو جاتا ہے، اللہ کی مشیت پر ہے کہ معاف کرے یا سزا دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20767]
حدیث نمبر: 20768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا وَاللهِ أَبُو ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْشِي فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، فَاسْتَقْبَلْنَا أُحُدًا، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ لِي ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيْهِ لَيْلَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللهِ هَكَذَا وَهَكَذَا"، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَلَا إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا ⦗٣١٩⦘ وَهَكَذَا"، ثُمَّ قَالَ لِي:" مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ"، قَالَ: وَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ:" لَا تَبْرَحْ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لَكَ ذَاكَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ فَأَقَمْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ جِبْرَائِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ..
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جو ربذہ میں تھے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام کے وقت مدینہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہا تھا۔ ہم احد پہاڑ کے سامنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! مجھے یہ پسند نہیں کہ یہ احد پہاڑ میرے لیے سونا بن جائے اور اس پر ایک رات بھی ایسی گزرے کہ اس میں سے ایک دینار میرے پاس ہو، سوائے اس دینار کے جو میں قرض کے لیے رکھ لوں، مگر یہ کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح اور اس طرح تقسیم کر دوں۔“ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”اے ابوذر!“ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں، حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! زیادہ مال والے ہی (اجر میں) کم ہوں گے، سوائے اس کے جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے ابوذر! اپنی جگہ رہنا، میں تیرے پاس آتا ہوں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، مجھ سے چھپ گئے، میں نے آواز سنی تو میں ڈرا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی معاملہ پیش نہ آ جائے، میں نے ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: ”ابوذر! اپنی جگہ رہنا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آواز سنی تھی، میں ڈرا کہ کوئی معاملہ پیش نہ آئے۔ پھر آپ کی بات یاد آ گئی تو میں ٹھہر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل ہیں، اس نے مجھے خبر دی کہ میری امت کا جو فرد فوت ہو گیا اور اللہ کے ساتھ اس نے شرک نہ کیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، نَحْوَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مُرْسَلٌ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ"، قَالَ الْبُخَارِيُّ:" وَقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، فَذَكَرَ مَا.
سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوصالح کی ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اور صحیح ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20769]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوصالح کی ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اور صحیح ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20769]
حدیث نمبر: 20770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ السَّدِيرِيُّ الْبَيْهَقِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَسُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ". قَالَ سُلَيْمَانُ يَعْنِي لِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ: إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ.
زید بن وہب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے خوشخبری دی کہ جو امتی فوت ہو گیا اور اس نے شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اگرچہ اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ، مَنْ كُنْتَ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا، فَقَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ فَقَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَقُلْتُ:" يَا جِبْرِيلُ، وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَا، قُلْتُ:" وَإِنْ سَرَقَ وَزَنَا؟"، قَالَ: وَإِنْ سَرَقَ وَزَنَا وَشَرِبَ الْخَمْرَ".. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ.
زید بن وہب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ایک رات نکلا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی انسان نہ تھا۔ حدیث کو ذکر کیا۔ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے کہہ دیا: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے پتھریلے علاقے میں کس سے بات چیت کر رہے تھے؟ میں نے کسی چیز کو آپ کی طرف آتے ہوئے نہیں دیکھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے جو آئے تھے، انہوں نے کہا: اپنی امت کو بشارت دے دو جو شرک کیے بغیر فوت ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ میں نے کہا: اے جبرائیل! اگرچہ اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ اگرچہ وہ زانی، چور اور شرابی ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20771]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَيُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ فَيُقَالُ: عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ بِمَكَانِ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَهُنَا"، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ.
معرور بن سوید سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہونے والے آخری آدمی کو جانتا ہوں اور جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے کو بھی جانتا ہوں۔ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا، کہا جائے گا: اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کرو اور کبیرہ پیش نہ کرنا۔ پس صغیرہ گناہ پیش کیے جائیں گے، تو کہا جائے گا: تو نے یہ یہ کام کیے فلاں فلاں دن؟ تو وہ اعتراف کرے گا۔ انکار کی جرات نہ ہوگی، وہ کبیرہ گناہوں سے خوف کھائے گا کہ وہ پیش نہ کر دیے جائیں تو اس کو کہہ دیا جائے گا: ہر برائی کے بدلے نیکی تجھے ملے گی، پھر وہ کہے گا: اے اللہ! میں نے بہت سارے اعمال کیے تھے جو مجھے یہاں نظر نہیں آ رہے۔“ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھ مبارک نظر آنے لگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20772]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 190»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20773
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِكَعْبِ الْأَحْبَارِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا"، قَالَ كَعْبٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، وَبِهَذَا اللَّفْظِ أَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک قبول ہونے والی دعا ہوتی ہے، تو ہر نبی نے اپنی دعا میں جلدی کی۔ لیکن میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لیے قیامت کے لیے باقی رکھی ہے، یہ اس کو قیامت کے دن ملے گی، جو بغیر شرک کے مر گیا۔“ کعب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20773]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ ⦗٣٢١⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کبیرہ گناہ کے مرتکب افراد کے لیے یہ سفارش ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20774]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20775
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ رَوْحٍ..
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے دعا ہوتی ہے جو اس نے اپنی امت کے لیے کی ہے اور میں نے قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20775]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح