السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4128. -- باب:: الرجل يغني فيتخذ الغناء صناعة يؤتى عليه، ويأتي له، ويكون منسوبا إليه، مشهورا به معروفا، أو المرأة
-- باب: جو مرد گانا گائے اور اسے پیشہ بنا لے جس کے لیے اس کے پاس آیا جائے اور وہ اس کے لیے دوسروں کے پاس جائے، اور وہ اس کی طرف منسوب ہو کر اسی حوالے سے مشہور اور معروف ہو جائے، یا کوئی عورت ایسا کرے۔
حدیث نمبر: 21006
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گانا بجانا دل میں نفاق کو پیدا کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21006]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21007
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ كَعْبٍ الْمُرَادِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ، وَالذِّكْرُ يُنْبِتُ الْإِيمَانَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ".
محمد بن عبدالرحمن بن یزید سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”گانا بجانا دل میں نفاق کو پیدا کرتا ہے، جیسے پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے، اور ذکر دل میں ایمان کو پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21007]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21008
أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي ⦗٣٧٨⦘ عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا شَيْخٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ، كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الْبَقْلَ".
ابو وائل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانا بجانا دل میں نفاق کو پیدا کرتا ہے، جیسے پانی بوٹیوں کو پیدا کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21008]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21009
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِجَارِيَةٍ صَغِيرَةٍ تُغَنِّي، فَقَالَ:" لَوْ تَرَكَ الشَّيْطَانُ أَحَدًا تَرَكَ هَذِهِ"..
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک چھوٹی بچی کے پاس سے گزرے جو گا رہی تھی، وہ فرمانے لگے: اگر شیطان نے کسی ایک کو چھوڑا تو اس کو چھوڑے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21009]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21010
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ عَلْقَمَةَ مَوْلَاةَ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَنَاتَ أَخِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خُفِضْنَ فَأَلِمْنَ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا نَدْعُو لَهُنَّ مِنْ يُلَهِّيهِنَّ؟ قَالَتْ:" بَلَى، قَالَتْ: فَأُرْسِلَ إِلَى فُلَانٍ الْمُغَنِّي فَأَتَاهُمْ، فَمَرَّتْ بِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْبَيْتِ، فَرَأَتْهُ يَتَغَنَّى، وَيُحَرِّكُ رَأْسَهُ طَرَبًا، وَكَانَ ذَا شَعْرٍ كَثِيرٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" أُفٍّ، شَيْطَانٌ أَخْرِجُوهُ، أَخْرِجُوهُ"، فَأَخْرَجُوهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی ام علقمہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھتیجیوں کا ختنہ ہوا تو انہیں اس سے تکلیف ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: اے ام المومنین! کیا ہم ان کے لیے کسی کو نہ بلا لیں جو ان کا دل بہلائے؟ فرمانے لگیں: کیوں نہیں۔ چنانچہ فلاں گانے والے کو بلایا گیا تو وہ ان کے پاس آیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گھر میں اس کے پاس سے گزریں تو دیکھا کہ وہ گا رہا ہے اور مستی میں سر ہلا رہا ہے، اور اس کے بال گھنے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اف! یہ شیطان ہے، اس کو نکال دو، نکال دو۔ تو انہوں نے اسے نکال دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21010]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21011
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ إِنْسَانٌ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْغِنَاءِ، فَقَالَ:" أَنْهَاكَ عَنْهُ، وَأَكْرَهُهُ"، قَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ:" انْظُرْ يَا ابْنَ أَخِي، إِذَا مَيَّزَ اللهُ الْحَقَّ مِنَ الْبَاطِلِ، فِي أَيِّهِمَا يُجْعَلُ الْغِنَاءُ؟".
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے گانے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس سے منع بھی کرتا ہوں اور اسے ناپسند بھی کرتا ہوں۔ اس نے کہا: کیا یہ حرام ہے؟ کہنے لگے: اے بھتیجے! جب اللہ تعالیٰ حق و باطل میں تمیز کرے گا تو گانے کو کس پلڑے میں رکھے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21011]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4129. -- باب:: الرجل لا ينسب نفسه إلى الغناء ولا يؤتى لذلك، ولا يأتي عليه، وإنما يعرف بأنه يطرب في الحال فيترنم فيها
-- باب: ایسا شخص جو خود کو گانے کی طرف منسوب نہ کرے اور نہ اس کے پاس اس غرض سے آیا جائے اور نہ وہ خود اس کے لیے جائے، بلکہ وہ اس بات سے معروف ہو کہ وہ حالتِ وجد میں گنگنانے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: Q21012
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يُسْقِطْ هَذَا شَهَادَتَهُ، وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس (بات) نے اس کی گواہی ساقط نہیں کی، اور عورت کا بھی یہی حکم ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21012]
حدیث نمبر: 21012
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِيِّ الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ، أَوْ بُغَاثٍ، شَكَّ الْحَارِثِيُّ قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَذَلِكَ يَوْمُ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَقَالَا: يَوْمَ بُعَاثٍ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور میرے پاس دو انصاری بچیاں گا رہی تھیں۔ وہ انصار کی وہ باتیں کر رہی تھیں، جو جنگِ بعاث میں ان کو پیش آئیں اور وہ دونوں گانے والیاں نہ تھیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کے باجے؟ اور یہ عید کا دن تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے، یہ ہماری عید کا دن ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21012]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21013
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُنَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَ:" دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ"، وَتِلْكَ أَيَّامُ مِنًى، وَرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِثَوْبِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِيَةٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے پاس سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور منیٰ کے ایام میں ان کے پاس دو گانے والی بچیاں تھیں، وہ دونوں دف بجا رہی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹ پلائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! چھوڑو، یہ عید کے ایام ہیں۔“ اور یہ منیٰ کے ایام تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کپڑے سے چھپا رکھا تھا اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کا کھیل دیکھ رہی تھی، میں اس وقت بچی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21013]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21014
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوبَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي طَرِيقِ الْحَجِّ وَنَحْنُ نَؤُمُّ مَكَّةَ اعْتَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الطَّرِيقَ، ثُمَّ قَالَ لِرَبَاحِ بْنِ الْمُغْتَرِفِ: غَنِّنَا يَا أَبَا حَسَّانَ، وَكَانَ يُحْسِنُ النَّصْبَ، فَبَيْنَا رَبَاحٌ يُغَنِّيهِ أَدْرَكَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا بَأْسٌ بِهَذَا، نَلْهُو وَنَقْصُرُ عَنَّا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَإِنْ كُنْتَ آخِذًا فَعَلَيْكَ بِشِعْرِ ضِرَارِ بْنِ الْخَطَّابِ"، وَضِرَارٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ فِهْرٍ. قَالَ الشَّيْخُ:" وَالنَّصْبُ ضَرْبٌ مِنْ أَغَانِي الْأَعْرَابِ، وَهُوَ يُشْبِهُ الْحُدَاءَ، قَالَهُ أَبُو عُبَيْدٍ الْهَرَوِيُّ وَرُوِّينَا فِيهِ قِصَّةً أُخْرَى، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ خَبِيرٍ، عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي كِتَابِ الْحَجِّ، قَالَ فِيهَا خَوَّاتٌ: فَمَا زِلْتُ أُغَنِّيهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ.
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے راستے میں تھے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ راستے کی ایک طرف ہو گئے اور رباح بن مغترف رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: گانا سناؤ۔ وہ اچھی آواز والے تھے، تو رباح ان کو گانا سنا رہے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ان کو پکڑ لیا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، ہم دل بہلاتے ہیں اور اپنا سفر مختصر کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ نے شعر ہی یاد کرنے ہیں تو پھر ضرار بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اشعار یاد کرو اور ضرار یہ قبیلہ بنو محارب بن فہر کا آدمی تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21014]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح