السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4242. -- باب:: لا تجوز هبة المكاتب حتى يبتدئها بإذن السيد.
-- باب: مکاتب کا ہبہ کرنا (تحفہ دینا) جائز نہیں یہاں تک کہ وہ آقا کی اجازت سے اس کی ابتدا کرے۔
حدیث نمبر: 21718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ:" الْمُكَاتَبُ لَا يَعْتِقُ، وَلَا يَهَبُ إِلَّا بِإِذْنِ مَوْلَاهُ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: كَانُوا يَقُولُونَ:" الْمُكَاتَبُ لَا يَعْتِقُ وَلَا يَهَبُ إِلَّا بِإِذْنِ مَوْلَاهُ".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتب آزاد اور ہبہ صرف اپنے مالک کی اجازت سے کرے گا۔ محمد بن عدی رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ مکاتب آزاد اور ہبہ صرف اپنے مالک کی اجازت سے کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21718]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4243. -- باب:: كتابة المكاتب وإعتاقه.
-- باب: مکاتب کے (کسی کو) مکاتب بنانے اور اسے آزاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَانَ لِلْمُكَاتَبِ عَبْدٌ فَكَاتَبَهُ ثُمَّ مَاتَ، لِمَنْ مِيرَاثُهُ؟ قَالَ:" كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يَقُولُونَ: هُوَ لِلَّذِي كَاتَبَهُ يَسْتَعِينُ بِهِ فِي كِتَابَتِهِ".
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ ایک مکاتب کا غلام تھا، اس نے اس سے مکاتبت کی۔ پھر وہ فوت ہو گیا تو وراثت کس کو ملے گی؟ فرمایا: پہلے لوگ کہا کرتے تھے کہ وہ اسی کی ہے جس نے اس سے مکاتبت کی، وہ اس سے اپنی مکاتبت میں مدد لے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21719]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ، وَسَالِمًا، عَنِ الْمُكَاتَبِ يَقْضِي نِصْفَ كِتَابَتِهِ ثُمَّ يُكَاتِبُ الْمُكَاتَبُ غُلَامًا لَهُ، ثُمَّ يَسْعَيَانِ جَمِيعًا، فَيَقْضِي ⦗٥٦٤⦘ غُلَامُ الْمُكَاتَبِ كِتَابَتَهُ، ثُمَّ يَعْجَزُ الْأَوَّلُ مِنْهُمَا، أَيُرَدُّ عَبْدًا أَمْ يَجُوزُ عَتَاقَهُ بِمَا أَدَّى إِلَى سَيِّدِهِ؟ قَالَا:" إِنْ كَانَ سَيِّدُهُ الْأَوَّلُ مِنْهُمَا أَذِنَ لَهُ أَنْ يُكَاتِبَهُ فَلَا سَبِيلَ عَلَيْهِ، وَإِلَّا فَهُوَ بِمَنْزِلَتِهِ.
خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم اور سالم رحمہما اللہ سے مکاتب کے بارے میں سوال کیا جو اپنی نصف کتابت ادا کر دیتا ہے، پھر وہ مکاتب اپنے ایک غلام سے مکاتبت کر لیتا ہے، پھر وہ دونوں کوشش کرتے ہیں تو مکاتب کا غلام اپنی کتابت ادا کر دیتا ہے، پھر ان میں سے پہلا عاجز آ جاتا ہے، کیا وہ (دوسرا) غلام بنا دیا جائے گا یا اس کی آزادی اس کے عوض درست ہوگی جو اس نے اپنے مالک کو ادا کر دیا؟ دونوں فرماتے ہیں کہ اگر ان میں سے پہلے کے مالک نے اس کو اجازت دی تھی کہ وہ اس سے کتابت کر لے تو اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، ورنہ وہ بھی اسی کے مرتبہ و مقام پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21720]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4244. -- باب:: المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع.
-- باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ فَقَالَ:" خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"..
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، آپ میری مدد کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اگر تیرے گھر والے پسند کریں تو قیمت میں ادا کر دیتی ہوں اور ولاء میری ہوگی۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر بات کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، وہ کہنے لگیں: میں نے ان سے بات کی، لیکن وہ نہیں مانے، وہ کہتے ہیں: ولاء ہماری ہوگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر دریافت فرمایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید لو اور ولاء کی شرط رکھو، ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں موجود نہ ہو وہ باطل ہے، چاہے وہ سو شرطیں کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی شرائط پورا کرنے کا زیادہ حق دار ہے، اور ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21721]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَرِيرَةَ، جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". ⦗٥٦٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ. أَرْسَلَهُ مَالِكٌ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، وَأَسْنَدَهُ عَنْهُ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ..
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد طلب کرنے کے لیے آئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تیرے گھر والے پسند کریں تو میں ایک بار ساری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کر دیتی ہوں، تو بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں سے بات کی۔ انہوں نے کہا: اگر ولاء ہمارے لیے ہوگی تو پھر درست ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: عمرہ بنت عبدالرحمن کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے، خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21722]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21723
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو سَبْرَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ، جَاءَتْهَا لِتَسْتَعِينَهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا..
عمرہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد طلب کرنے کے لیے آئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21724
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا الْمُزَنِيُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنِ اشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأُعْتِقَهَا، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أُعْتِقَهَا وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ فَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ"...
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے گھر والوں نے شرط لگا دی کہ آزاد کرو، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ فرماتی ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو۔ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“ پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں؟ جس نے ایسی سو شرطیں بھی لگا دیں، جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21724]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: حَدِيثُ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَأَحْسِبُهُ غَلَطَ فِي قَوْلِهِ:" وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ"، وَأَحْسِبُ حَدِيثَ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ شَرَطَتْ ذَلِكَ لَهُمْ بِغَيْرِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَرَى ذَلِكَ يَجُوزُ، فَأَعْلَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا إِنْ أَعْتَقَتْهَا فَالْوَلَاءُ لَهَا، وَقَالَ:" لَا يَمْنَعْكِ عَنْهَا مَا تَقَدَّمَ مِنْ شَرْطِكِ"، وَلَا أَرَى أَمَرَهَا تَشْتَرِطُ لَهُمْ مَا لَا يَجُوزُ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" حَدِيثُ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، فَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مَوْصُولًا..
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ کی عمرہ سے، ان کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث ہشام کی حدیث سے زیادہ ثابت ہے، اور میرا خیال ہے کہ ان سے اس جملے میں غلطی ہوئی ہے کہ ”ان کے لیے ولاء کی شرط لگا لو“۔ اور عمرہ کی حدیث سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بغیر ان کے لیے یہ شرط لگائی تھی اور وہ اسے جائز سمجھتی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ اگر وہ اسے آزاد کریں گی تو ولاء انہی کی ہوگی، اور فرمایا: ”تمہاری پہلے کی ہوئی شرط تمہیں اس سے نہ روکے“۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے لیے ایسی شرط لگانے کا حکم دیا ہو جو جائز نہیں۔
عمرہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث ثابت ہے، ایک جماعت نے اسے یحییٰ بن سعید سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21725]
عمرہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث ثابت ہے، ایک جماعت نے اسے یحییٰ بن سعید سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21725]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21726
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٥٦٦⦘ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ لَهَا: إِنْ شَاءَ مَوَالِيكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ عَنْكِ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ، قَالَتْ: فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِمَوَالِيهَا فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا الْوَلَاءَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"...
عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنی کتابت میں مدد طلب کرنے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالک چاہیں تو ایک ہی مرتبہ پوری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کر دوں۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں سے تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ولاء کی شرط کے ساتھ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدو، ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21726]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي كِتَابَتِهَا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ اپنی کتابت میں مجھ سے مدد طلب کرنے کے لیے آئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21727]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح