🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4228. -- باب:: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم
-- باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21639
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ كَاتَبَ غُلَامَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَعَجَزَ عَنْ عَشْرِ أَوَاقٍ فَهُوَ رَقِيقٌ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ: وَلَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا رَوَى هَذَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، وَعَلَى هَذَا فُتْيَا الْمُفْتِينَ..
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ ”جو آدمی سو اوقیہ کے عوض اپنے غلام سے مکاتبت کرتا ہے، اگر غلام دس اوقیے ادا کرنے سے عاجز آجائے تو وہ غلام ہی رہے گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم (مذہب) میں فرمایا: میں نہیں جانتا کہ عمرو بن شعیب کے علاوہ کسی نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو، اور مفتیوں کا فتویٰ اسی پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21639]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21640
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَتَأْذَنُ لِي فَأَكْتُبُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَتَبَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ:" لَا يَجُوزُ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ، وَلَا بَيْعٌ وَسَلَفٌ مَعًا، وَلَا بَيْعُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَمَنْ كَانَ مُكَاتَبًا عَلَى مِائَةِ دِرْهَمٍ فَقَضَاهَا كُلَّهَا إِلَّا عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَهُوَ عَبْدٌ"، أَوْ" عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَقَضَاهَا كُلَّهَا إِلَّا أُوقِيَّةً فَهُوَ عَبْدٌ". كَذَا وَجَدْتُهُ، وَلَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا..
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (احادیث) سنتے ہیں، تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں لکھ لیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ وہ کہتے ہیں کہ پہلی چیز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کی طرف لکھی، وہ یہ تھی: ”ایک بیع میں دو شرطیں جائز نہیں، بیع اور سلف اکٹھے جائز نہیں ہیں، اور نہ ایسی بیع جائز ہے جس کی ضمانت نہ دی گئی ہو، اور جس نے سو درہم پر غلام سے مکاتبت کی، اس نے تمام درہم ادا کر دیے سوائے دس درہموں کے، تو وہ غلام ہی ہے، یا سو اوقیہ پر مکاتبت کی، سارے ادا کیے لیکن ایک اوقیہ باقی تھا، تو وہ غلام ہی ہے۔“
میں نے اسے اسی طرح پایا ہے اور میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21640]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21641
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ فِي الْمُكَاتَبِ:" هُوَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مکاتب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ غلام ہی ہے، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21641]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21642
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ زَيْدٌ يَقُولُ:" الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ"..
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ مکاتب غلام کے بارے میں فرماتے تھے کہ جب تک اس کی مکاتبت سے کوئی چیز باقی ہے وہ غلام ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21642]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ:" الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ"، فَقَالَ لَهُ - يَعْنِي: الشَّعْبِيَّ: إِنَّ شُرَيْحًا كَانَ يَقْضِي فِيهَا أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى مَوَالِيهِ - يَعْنِي: إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ، مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، وَمَا بَقِيَ فَلِوَرَثَتِهِ، فَقَالَ: شُرَيْحٌ يَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ عَبْدِ اللهِ..
شعبی، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام ہی رہے گا جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو۔ پھر شعبی سے کہا گیا کہ قاضی شریح اس بارے میں یہ فیصلہ فرماتے تھے کہ جب مکاتب فوت ہو جائے تو اس کے ذمہ مکاتبت کی جو رقم باقی ہو وہ اس کے مالکوں کو ادا کی جائے اور جو باقی بچے وہ اس کے وارثوں کا ہے۔ تو شعبی نے کہا: قاضی شریح اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والا فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21643]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21644
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ".
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں، وہ کہتے تھے کہ مکاتب غلام ہی رہے گا، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21644]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ الضَّرِيرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ:" مَنْ هَذَا؟"، فَقُلْتُ: سُلَيْمَانُ، قَالَتْ:" كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ مُكَاتَبَتِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: عَشْرُ أَوَاقٍ، قَالَتْ:" ادْخُلْ، فَإِنَّكَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ".
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: سلیمان۔ پوچھا: تیری مکاتبت کی کتنی رقم باقی ہے؟ میں نے کہا: ١٠ اوقیے۔ فرمایا: آجاؤ۔ آپ غلام ہی ہیں، جب تک آپ کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21645]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21646
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا سَبْلَانَ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ يَذْكُرُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرِي عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، قَالَ: فَكَاتَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَوَقَفْتُ بِالْبَابِ، فَاسْتَأْذَنْتُ اسْتِئْذَانًا لَمْ أَكُنْ أَسْتَأْذِنُهُ، فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ وَقَالَتْ:" يَا بُنِيَّ، مَا لَكَ لَا تَدْخُلُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كَاتَبْتُ، قَالَتْ:" فَادْخُلْ عَلَيَّ مَا كَانَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ، فَإِنَّكَ لَا تَزَالُ مَمْلُوكًا مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكَ دِرْهَمٌ"..
سعید بن مسلم مدنی فرماتے ہیں کہ میں نے نصریوں کے آزاد کردہ غلام سالم سبلان سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ وہ حج اور عمرہ کے سفر میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سواری کرایہ پر دیا کرتے تھے، کہتے ہیں کہ میں نے مکاتبت کر لی، پھر میں دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور اس طرح اجازت طلب کی جس طرح پہلے نہیں کیا کرتا تھا، تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور کہنے لگیں: اے بیٹے! تم داخل کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کہا: اے ام المومنین! میں نے مکاتبت کر لی ہے، فرمانے لگیں: آپ گھر میں آیا کریں، جب تک آپ کے ذمے ایک درہم بھی باقی ہے، آپ غلام ہی رہیں گے جب تک آپ کی مکاتبت سے ایک درہم بھی باقی رہے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21646]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21647
قَالَ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" إِنْ كُنَّ أُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ لَيَكُونُ لِبَعْضِهِنَّ الْمُكَاتَبُ فَتَكْشِفُ لَهُ الْحِجَابَ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ، فَإِذَا قَضَى أَرْخَتْهُ دُونَهُ".
عبدالرحمٰن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن اپنے مکاتب غلام سے پردہ نہیں کرتی تھیں، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی ہو۔ جب وہ پیسے ادا کر لیتا تو پردہ شروع کر دیتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21647]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21648
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ:" كَانَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْتَجِبْنَ مِنْ مُكَاتَبٍ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِينَارٌ". وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرُوِيَ عَنْهُ كَمَا:.
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رضی اللہ عنہن اپنے مکاتب غلام سے پردہ نہیں کرتی تھیں، جب تک ایک دینار بھی ان کے ذمہ باقی رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21648]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں