مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا نُهِيَ عَنِ التَّخَلِّي فِيهِ .
کس جگہ قضائے حاجت کرنے کی ممانعت ہے
حدیث نمبر: 1003
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: يُكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ ; لِأَنَّ الْوَسْوَاسَ يَعْرِضُ مِنْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آدمی کے لیے یہ بات مکروہ ہے کہ وہ اپنے غسل کی جگہ پر پیشاب کرے، کیونکہ اس طرح اُسے وسوسے لاحق ہوں گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صلہ بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1003]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صلہ بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1003]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
4. بَابٌ فِيهِ وَفِي أَدَبِ الْخَلَاءِ .
اس بارے میں اور قضائے حاجت کے آداب کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 1004
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَ قَوْمَهُ وَعَلَّمَهُمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَوْمًا وَهُوَ كَأَنَّهُ يَلْعَبُ: مَا بَقِيَ لِسُرَاقَةَ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَكُمْ كَيْفَ التَّغَوُّطُ. قَالَ سُرَاقَةُ: إِذَا ذَهَبْتُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَاتَّقُوا الْمَجَالِسَ عَلَى الظِّلِّ وَالطَّرَائِقِ، خُذُوا النَّبَلَ، وَاسْتَنْشِبُوا عَلَى سُوقِكُمْ، وَاسْتَجْمِرُوا، وَأَوْتِرُوا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے (اپنے علاقے میں واپس) تشریف لائے، تو انہوں نے اپنی قوم کو باتیں بتائیں، اور انہیں (شرعی احکام کی) تعلیم دی، ایک دن ایک شخص نے اُن کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہا: سراقہ کا اب بس یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تمہیں یہ تعلیم دے کہ پاخانہ کیسے کرنا ہے؟ تو سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو سائے، یا راستے میں بیٹھنے سے بچو، پھر استعمال کرو اور طاق تعداد میں استعمال کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1004]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1004]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1005
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي لَأَحْسَبُ صَاحِبَكُمْ قَدْ عَلَّمَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ، حَتَّى عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَأْتُونَ الْخَلَاءَ. قَالَ: إِنْ كُنْتَ مُسْتَهْزِئًا فَقَدْ عَلَّمَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِنَا - وَأَحْسَبُهُ قَالَ: - وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالرَّجِيعِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالْعَظْمِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
علقمہ بیان کرتے ہیں: مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے آقا کے بارے میں، میں یہ گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے تمہیں ہر چیز کی تعلیم دی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں یہ بھی تعلیم دی ہے، کہ قضائے حاجت کے لیے تم نے کیسے جانا ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو تم مذاق اُڑا رہے ہو (تو میں تمہیں بتاتا ہوں) انہوں نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم نے اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں کرنا ہے، راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: تھا اور ہم نے اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء نہیں کرنا ہے اور ہم نے مینگنی کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے، اور ہم نے ہڈی کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے، اور ہم نے تین سے کم پتھروں کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1005]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1005]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
5. بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْخَلَاءِ .
قضائے حاجت کے وقت کیا پڑھا جائے؟
حدیث نمبر: 1006
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا وَضَعُوا ثِيَابَهُمْ - أَنْ يَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا فِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا فِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنات کی آنکھوں اور بنی نوع انسان کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یوں ہو سکتا ہے کہ جب انسان کپڑے کو ہٹانے لگے، تو بسم اللہ پڑھ لے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ اموی ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ ابن حبان اور ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1006]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ اموی ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ ابن حبان اور ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «المعجم الأوسط للطبراني باب الالف، باب من اسمه إبراهيم 2554»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
6. بَابُ التَّسَتُّرِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ .
قضائے حاجت کے وقت پردہ کر لینا
حدیث نمبر: 1007
عَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَأَمَرَ وَدْيَتَيْنِ، فَانْضَمَّتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ أَمَرَهُمَا، فَرَجَعَتَا إِلَى مَنَابِتِهِمَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَلَكِنَّ طُرُقَهُ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ عَلَى خِلَافٍ فِي بَعْضِهِمْ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَلَكِنَّ طُرُقَهُ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ عَلَى خِلَافٍ فِي بَعْضِهِمْ.
سیدنا یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک سفر میں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے قضائے حاجت کرنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے دو درختوں کو حکم دیا، تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے (قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد) آپ نے انہیں حکم دیا، تو وہ دونوں اپنی، اپنی جگہ پر واپس چلے گئے، جہاں وہ اگے تھے۔
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے، اس کے مختلف طرق، نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئیں گے، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1007]
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے، اس کے مختلف طرق، نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئیں گے، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند الشاميين حديث يعلى بن مرة الثقفى عن النبى صلى الله عليه وسلم 17246 معجم الصحابة لابن قانع يعلى بن سيابة بن غنم بن جزى بن ربيعة بن سعد، 1931»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
7. بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ الْحَاجَةِ .
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا
حدیث نمبر: 1008
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَنْتَ رَسُولٌ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ، وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ: لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ، وَإِذَا تَخَلَّيْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعْرَةٍ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اہل مکہ کی طرف پیغام رساں ہو! تم یہ بتا دینا: بے شک اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو سلام کہا: ہے، اور تمہیں تین باتوں کا حکم دیا ہے، تم لوگ غیر اللہ کے نام پر حلف نہ اٹھانا، جب تم قضائے حاجت کرو، تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرنا اور پیٹھ نہ کرنا، اور تم ہڈی کے ذریعے، یا مینگنی کے ذریعے استنجاء نہ کرنا
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1008]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1008]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1009
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم پیشاب، یا پاخانہ کرتے ہوئے، دونوں قبلوں (میں سے کسی) کی طرف رخ کریں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1009]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1009]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1010
وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الْعَجْلَانِيَّ حَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُسْتَقْبَلَ شَيْءٌ مِنَ الْقِبْلَتَيْنِ فِي الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
نافع بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عمرو عجلانی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے (یا شاید ان کے) والد کے حوالے سے یہ بات بیان کی: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پیشاب، یا پاخانہ کرتے ہوئے، دونوں کے قبلوں میں سے کسی کی طرف رخ کیا جائے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1010]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1010]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1011
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے، تو وہ قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1011]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني من اسمه سهل ومما اسند سهل بن سعد العباس بن سهل بن سعد عن ابيه 5600»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف بوجہ محمد بن عمر الواقدی۔
حدیث نمبر: 1012
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزَّبِيدِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُولُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِكَ.
قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى النَّسْخِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى النَّسْخِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں نے لوگوں کو اس بارے میں سب سے پہلے بیان کیا۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے ان صحابی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے: کہ یہ صحابی وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز سے منع کرتے ہوئے سنا، تو یہ چیز اس کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1012]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1012]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف