صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1315. ألم تروا إلى الإنسان إذا مات شخص بصره فذاك حين ....
أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْإِنْسَانِ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ فَذَاكَ حِينَ ....
حدیث نمبر: 1313
«ألم تروا إلى الإنسان إذا مات شخص بصره فذاك حين يتبع بصره نفسه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
” «أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْإِنْسَانِ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ فَذَاكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ» (ترجمہ: کیا تم نے انسان کو نہیں دیکھا کہ جب وہ مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی اور پھٹی رہ جاتی ہیں، یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی نگاہ اس کے جسم سے نکلنے والی جان کا پیچھا کر رہی ہوتی ہے۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1313]
” «أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْإِنْسَانِ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ فَذَاكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ» (ترجمہ: کیا تم نے انسان کو نہیں دیکھا کہ جب وہ مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی اور پھٹی رہ جاتی ہیں، یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی نگاہ اس کے جسم سے نکلنے والی جان کا پیچھا کر رہی ہوتی ہے۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1313]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1316. ألم تروا ما قال ربكم؟ قال: ما أنعمت على عبادي ....
أَلَمْ تَرَوْا مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي ....
حدیث نمبر: 1314
«ألم تروا ما قال ربكم؟ قال: ما أنعمت على عبادي من نعمة إلا أصبح فريق منهم بها كافرين يقولون: الكواكب وبالكواكب»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
” «أَلَمْ تَرَوْا مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ: الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ» (ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جب بھی اپنے بندوں پر کوئی انعام کیا (جیسے بارش برسائی) تو ان میں سے ایک گروہ اس کا ناشکرا بن گیا، وہ کہنے لگے: فلاں ستارہ ہے اور فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی ہے۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1314]
” «أَلَمْ تَرَوْا مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ: الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ» (ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جب بھی اپنے بندوں پر کوئی انعام کیا (جیسے بارش برسائی) تو ان میں سے ایک گروہ اس کا ناشکرا بن گیا، وہ کہنے لگے: فلاں ستارہ ہے اور فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی ہے۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م ن] عن أبي هريرة [ن] عن زيد بن خالد الجهني.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1317. ألم تعلموا ما لقي صاحب بني إسرائيل؟ كانوا إذا أصابهم ....
أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ ....
حدیث نمبر: 1315
«ألم تعلموا ما لقي صاحب بني إسرائيل؟ كانوا إذا أصابهم البول قطعوا ما أصابه البول منهم فنهاهم عن ذلك فعذب في قبره»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
” «أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ» (ترجمہ: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو کیا انجام دیکھنا پڑا؟ ان (بنی اسرائیل) کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کے جسم یا کپڑے کے کسی حصے پر پیشاب لگ جاتا تو وہ پیشاب لگنے والی جگہ کو کاٹ ڈالتے تھے۔ اس شخص نے انہیں اس عمل سے منع کیا، جس کی وجہ سے اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1315]
” «أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ» (ترجمہ: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو کیا انجام دیکھنا پڑا؟ ان (بنی اسرائیل) کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کے جسم یا کپڑے کے کسی حصے پر پیشاب لگ جاتا تو وہ پیشاب لگنے والی جگہ کو کاٹ ڈالتے تھے۔ اس شخص نے انہیں اس عمل سے منع کیا، جس کی وجہ سے اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [د ن هـ حب ك هق] عن عبد الرحمن بن حسنة. صحيح أبي داود 16، صحيح الترغيب156.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1318. أليس قد مكث هذا بعده سنة فأدرك رمضان فصامه وصلى ....
أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً فَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ وَصَلَّى ....
حدیث نمبر: 1316
«أليس قد مكث هذا بعده سنة فأدرك رمضان فصامه وصلى كذا وكذا سجدة في السنة؟ فلما بينهما أبعد مما بين السماء والأرض»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
” «أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً فَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا سَجْدَةً فِي السَّنَةِ؟ فَلَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» (ترجمہ: کیا یہ دوسرا شخص پہلے والے شخص (جو شہید ہو گیا تھا) کے بعد ایک سال مزید زندہ نہیں رہا، اور اس نے رمضان کا مہینہ پا کر اس کے روزے رکھے، اور سال بھر میں اتنے اتنے سجدے (نمازیں) ادا کیے؟ تو ان دونوں کے درجات کے درمیان آسمان اور زمین کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ فرق ہے۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1316]
” «أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً فَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا سَجْدَةً فِي السَّنَةِ؟ فَلَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» (ترجمہ: کیا یہ دوسرا شخص پہلے والے شخص (جو شہید ہو گیا تھا) کے بعد ایک سال مزید زندہ نہیں رہا، اور اس نے رمضان کا مہینہ پا کر اس کے روزے رکھے، اور سال بھر میں اتنے اتنے سجدے (نمازیں) ادا کیے؟ تو ان دونوں کے درجات کے درمیان آسمان اور زمین کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ فرق ہے۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هـ حب هق] عن طلحة. صحيح الترغيب 368: حم, الطحاوي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1319. أما إن ابنك هذا لا يجني عليك ولا تجني عليه
أَمَا إِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ ....
حدیث نمبر: 1317
«أما إن ابنك هذا لا يجني عليك ولا تجني عليه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
” «أَمَا إِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» (ترجمہ: خبردار! بیشک تمہارا یہ بیٹا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار نہیں ہے، اور نہ ہی تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار ہو۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1317]
” «أَمَا إِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» (ترجمہ: خبردار! بیشک تمہارا یہ بیٹا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار نہیں ہے، اور نہ ہی تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار ہو۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1317]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم د ن ك] عن أبي رمثة. الإرواء 2367.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1320. أما إنك لو قلت حين أمسيت: أعوذ بكلمات الله التامات ....
أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ ....
حدیث نمبر: 1318
«أما إنك لو قلت حين أمسيت: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم تضرك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
” «أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ» (ترجمہ: سن لو! اگر تم شام کے وقت یہ دعا پڑھ لیتے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» "میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے"، تو یہ (بچھو کا ڈسنا) تمہیں نقصان نہ پہنچاتا۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1318]
” «أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ» (ترجمہ: سن لو! اگر تم شام کے وقت یہ دعا پڑھ لیتے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» "میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے"، تو یہ (بچھو کا ڈسنا) تمہیں نقصان نہ پہنچاتا۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1318]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م د] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1321. أما إنك لو لم تعطه شيئا كتب عليك كذبة
أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَ عَلَيْكَ كِذْبَةٌ (ترجمہ: ....
حدیث نمبر: 1319
«أما إنك لو لم تعطه شيئا كتب عليك كذبة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
” «أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَ عَلَيْكَ كِذْبَةٌ» (ترجمہ: خبردار! اگر تم اس (بچے) کو کچھ نہ دیتیں، تو تمہارے نامہ اعمال میں ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1319]
” «أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَ عَلَيْكَ كِذْبَةٌ» (ترجمہ: خبردار! اگر تم اس (بچے) کو کچھ نہ دیتیں، تو تمہارے نامہ اعمال میں ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔)“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [حم د] عن عبد الله بن عامر بن ربيعة. الصحيحة 748.»
قال الشيخ الألباني: حسن
1322. أما إنها ستكون لكم الأنماط
خبردار! عنقریب تمہارے پاس (بہتر اور کشادہ رہائش کے لیے) ....
حدیث نمبر: 1320
«أما إنها ستكون لكم الأنماط»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”خبردار! عنقریب تمہارے پاس (بہتر اور کشادہ رہائش کے لیے) غالیچے اور گدے ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1320]
”خبردار! عنقریب تمہارے پاس (بہتر اور کشادہ رہائش کے لیے) غالیچے اور گدے ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق د ت] عن جابر. مختصر مسلم 748.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1323. أما إنه لئن حلف على ماله ليأكله ظلما ليلقين الله ....
سن لو! اگر اس نے (کسی کے) مال کو ناحق ....
حدیث نمبر: 1321
«أما إنه لئن حلف على ماله ليأكله ظلما ليلقين الله وهو عنه معرض»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سن لو! اگر اس نے (کسی کے) مال کو ناحق ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض اور منہ پھیرے ہوئے ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1321]
”سن لو! اگر اس نے (کسی کے) مال کو ناحق ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض اور منہ پھیرے ہوئے ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م د ت] عن وائل بن حجر. ش 4/248.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1324. أما إنه لم تهلك الأمم قبلكم حتى وقعوا في مثل ....
سن لو! تم سے پہلی امتیں اسی وقت ہلاک ہوئیں ....
حدیث نمبر: 1322
«أما إنه لم تهلك الأمم قبلكم حتى وقعوا في مثل هذا يضربون القرآن بعضه ببعض ما كان من حلال فأحلوه وما كان من حرام فحرموه وما كان من متشابه فآمنوا به»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سن لو! تم سے پہلی امتیں اسی وقت ہلاک ہوئیں جب وہ اس جیسی گمراہی میں مبتلا ہوئیں کہ وہ اللہ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے ٹکرانے (اور تضاد پیدا کرنے) لگیں۔ تمہارے لیے ضروری ہے کہ جو حلال ہے اسے حلال جانو، جو حرام ہے اسے حرام مانو، اور جو متشابہ (جس کا مفہوم پوری طرح واضح نہ ہو) ہے اس پر فقط ایمان لاؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1322]
”سن لو! تم سے پہلی امتیں اسی وقت ہلاک ہوئیں جب وہ اس جیسی گمراہی میں مبتلا ہوئیں کہ وہ اللہ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے ٹکرانے (اور تضاد پیدا کرنے) لگیں۔ تمہارے لیے ضروری ہے کہ جو حلال ہے اسے حلال جانو، جو حرام ہے اسے حرام مانو، اور جو متشابہ (جس کا مفہوم پوری طرح واضح نہ ہو) ہے اس پر فقط ایمان لاؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أل م/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن ابن عمرو. الصحيحة 1522: ابن سعد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح