صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1448. أنا ابن العواتك من سليم
میں قبیلہ بنو سلیم کی عواتک (یعنی عاتکہ نامی خواتین) ....
حدیث نمبر: 1446
«أنا ابن العواتك من سليم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں قبیلہ بنو سلیم کی عواتک (یعنی عاتکہ نامی خواتین) کا بیٹا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1446]
”میں قبیلہ بنو سلیم کی عواتک (یعنی عاتکہ نامی خواتین) کا بیٹا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [ص طب] عن سبابة بن عاصم. الصحيحة 1569.»
قال الشيخ الألباني: حسن
1449. أنا أبوالقاسم الله يعطي وأنا أقسم
میں ابوالقاسم ہوں، دینے والا تو (اصل میں) اللہ ہی ....
حدیث نمبر: 1447
«أنا أبوالقاسم الله يعطي وأنا أقسم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں ابوالقاسم ہوں، دینے والا تو (اصل میں) اللہ ہی ہے جبکہ میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1447]
”میں ابوالقاسم ہوں، دینے والا تو (اصل میں) اللہ ہی ہے جبکہ میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1447]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة 1628.»
قال الشيخ الألباني: حسن
1450. أنا أتقاكم لله وأعلمكم بحدود الله
میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور ....
حدیث نمبر: 1448
«أنا أتقاكم لله وأعلمكم بحدود الله»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے بڑھ کر اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1448]
”میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے بڑھ کر اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1448]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن رجل من الأنصار. الصحيحة 329.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1451. إناء كإناء وطعام كطعام
برتن کے بدلے برتن ہے اور کھانے کے بدلے کھانا ....
حدیث نمبر: 1449
«إناء كإناء وطعام كطعام»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”برتن کے بدلے برتن ہے اور کھانے کے بدلے کھانا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1449]
”برتن کے بدلے برتن ہے اور کھانے کے بدلے کھانا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ن] عن عائشة. الروض النضير 93: حم، د، ت، طص، - أنس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1452. أنا أكثر الأنبياء تبعا يوم القيامة وأنا أول من يقرع ....
قیامت کے دن تمام انبیاء کرام میں سب سے زیادہ ....
حدیث نمبر: 1450
«أنا أكثر الأنبياء تبعا يوم القيامة وأنا أول من يقرع باب الجنة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”قیامت کے دن تمام انبیاء کرام میں سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے اور سب سے پہلے میں ہی جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1450]
”قیامت کے دن تمام انبیاء کرام میں سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے اور سب سے پہلے میں ہی جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1450]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن أنس. الصحيحة 1570: أبوعوانة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1453. أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب
میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب ....
حدیث نمبر: 1451
«أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1451]
”میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق ن] عن البراء. مختصر مسلم 1189.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1454. أنا أولى الناس بعيسى بن مريم في الدنيا والآخرة ليس ....
میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) ....
حدیث نمبر: 1452
«أنا أولى الناس بعيسى بن مريم في الدنيا والآخرة ليس بيني وبينه نبي والأنبياء أولاد علات أمهاتهم شتى ودينهم واحد»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں، میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں گزرا۔ تمام انبیاء کرام علاتی بھائی (یعنی ایک باپ اور مختلف ماؤں کی اولاد) ہیں، ان کی مائیں (شریعتیں) مختلف ہیں جبکہ ان سب کا دین (توحید) ایک ہی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1452]
”میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں، میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں گزرا۔ تمام انبیاء کرام علاتی بھائی (یعنی ایک باپ اور مختلف ماؤں کی اولاد) ہیں، ان کی مائیں (شریعتیں) مختلف ہیں جبکہ ان سب کا دین (توحید) ایک ہی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1452]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 1618.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1455. أنا أولى بالمؤمنين في كتاب الله فأيكم ما ترك دينا ....
کتاب اللہ کی رو سے میں مومنوں کے ان کی ....
حدیث نمبر: 1453
"أنا أولى بالمؤمنين في كتاب الله فأيكم ما ترك دينا أو ضيعة فادعوني فأنا وليه وأيكم ما ترك مالا فليؤثر بماله عصبته
من كان"
من كان"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”کتاب اللہ کی رو سے میں مومنوں کے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس تم میں سے جو کوئی مرتے وقت قرض یا کمزور و بے سہارا اہل و عیال چھوڑ جائے تو مجھے بلاؤ، کیونکہ میں اس کا سرپرست ہوں۔ اور جو شخص کوئی مال چھوڑ کر مرے تو اس کا مال اس کے ورثاء کو دیا جائے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1453]
”کتاب اللہ کی رو سے میں مومنوں کے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس تم میں سے جو کوئی مرتے وقت قرض یا کمزور و بے سہارا اہل و عیال چھوڑ جائے تو مجھے بلاؤ، کیونکہ میں اس کا سرپرست ہوں۔ اور جو شخص کوئی مال چھوڑ کر مرے تو اس کا مال اس کے ورثاء کو دیا جائے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1453]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن أبي هريرة. الإرواء 1416، 1433.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1456. أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي من المؤمنين فترك ....
میں مومنوں کے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ ....
حدیث نمبر: 1454
«أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي من المؤمنين فترك دينا فعلي قضاؤه ومن ترك مالا فهو لورثته»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں مومنوں کے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس مومنوں میں سے جو کوئی وفات پا جائے اور اپنے ذمے کوئی قرض چھوڑے تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے ورثاء کا حق ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1454]
”میں مومنوں کے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس مومنوں میں سے جو کوئی وفات پا جائے اور اپنے ذمے کوئی قرض چھوڑے تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے ورثاء کا حق ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق ن هـ] عن أبي هريرة. المصدر السابق.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1457. أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فمن ترك دينا أو ....
میں ہر مومن کے اس کی اپنی جان سے بھی ....
حدیث نمبر: 1455
«أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فمن ترك دينا أو ضيعة فإلي ومن ترك مالا فلورثته وأنا مولى من لا مولى له أرث ماله وأفك عانيه والخال مولى من لا مولى له يرث ماله ويعقل عنه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں ہر مومن کے اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس جو کوئی قرض یا کمزور اہل و عیال چھوڑے تو ان کی ذمہ داری مجھ پر ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثاء کا حق ہے۔ اور جس کا کوئی وارث (سرپرست) نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، میں ہی اس کے مال کا وارث ہوں گا اور اس کے قیدی کا فدیہ ادا کروں گا۔ اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہوتا ہے اور اس کی طرف سے دیت (خون بہا) ادا کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1455]
”میں ہر مومن کے اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس جو کوئی قرض یا کمزور اہل و عیال چھوڑے تو ان کی ذمہ داری مجھ پر ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثاء کا حق ہے۔ اور جس کا کوئی وارث (سرپرست) نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، میں ہی اس کے مال کا وارث ہوں گا اور اس کے قیدی کا فدیہ ادا کروں گا۔ اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہوتا ہے اور اس کی طرف سے دیت (خون بہا) ادا کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أنا/حدیث: 1455]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [د] عن المقدام. الإرواء 1700، المشكاة 3052: حم، سعيد بن منصور، ابن ماجه، الطحاوي، حب، ابن الجارود، هق.»
قال الشيخ الألباني: حسن