🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1928. إن الماء طهور لا ينجسه شيء
بیشک پانی پاک کرنے والا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1925
«إن الماء طهور لا ينجسه شيء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک پانی پاک کرنے والا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1925]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم 3 قط هق1] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود 225، المشكاة 288.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1929. إن الماء ليس عليه جنابة ولا ينجسه شيء
بیشک پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوتی اور اسے کوئی ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1926
«إن الماء ليس عليه جنابة ولا ينجسه شيء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوتی اور اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1926]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن ميمونة. صحيح أبي داود 61: قط.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1930. إن الماء لا يجنب
بیشک پانی کو جنابت نہیں لگتی (یعنی وہ جنبی کے ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1927
«إن الماء لا يجنب»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک پانی کو جنابت نہیں لگتی (یعنی وہ جنبی کے استعمال سے ناپاک نہیں ہوتا)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1927]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [د ت هـ حب ك هق] عن ابن عباس. المشكاة 457، صحيح أبي داود 61.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1931. إن الماء لا ينجسه شيء
بیشک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1928
«إن الماء لا ينجسه شيء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1928]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هـ] عن جابر [حم ن] عن ابن عباس. التعليق على إزالة الدهش رقم 2: الضياء.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1932. إن المؤذن يغفر له مدى صوته ويصدقه كل رطب ويابس ....
بیشک مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1929
«إن المؤذن يغفر له مدى صوته ويصدقه كل رطب ويابس سمع صوته والشاهد عليه خمس وعشرون درجة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اور ہر خشک و تر چیز جو اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کی تصدیق کرتی ہے، اور اس پر گواہی دینے والے (یعنی اس کے ساتھ نماز میں حاضر ہونے والے) کے لیے پچیس درجات کا ثواب ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1929]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [حم] عن أبي هريرة. تخريج الترغيب 2/107: حب.»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1933. إن المؤمن إذا وضع في قبره أتاه ملك فيقول له: ....
بیشک جب مومن کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1930
"إن المؤمن إذا وضع في قبره أتاه ملك فيقول له:
ما كنت تعبد؟ فإن الله هداه قال: كنت أعبد الله فيقول له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: هو عبد الله ورسوله فما يسأل عن شيء غيرها فينطلق به إلى بيت كان في النار فيقال له: هذا بيتك كان في النار ولكن الله عصمك ورحمك فأبدلك به بيتا في الجنة فيقول: دعوني حتى أذهب فأبشر أهلي فيقال له: اسكن; وإن الكافر إذا وضع في قبره أتاه ملك فينتهره فيقول له: ما كنت تعبد؟ فيقول: لا أدري فيقال له: لا دريت ولا تليت فيقال: فما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: كنت أقول ما تقول الناس فيضربه بمطراق من حديد بين أذنيه فيصيح صيحة يسمعها الخلق غير الثقلين"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک جب مومن کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ اگر اللہ نے اسے ہدایت دی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا۔ پھر فرشتہ اس سے پوچھتا ہے: تو اس شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پس اس کے علاوہ اس سے کسی اور چیز کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔ پھر اسے آگ میں موجود ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ جہنم میں تیرا ٹھکانہ تھا، لیکن اللہ نے تجھے بچا لیا اور تجھ پر رحم فرمایا، پس اس نے تیرے لیے اسے جنت کے ایک گھر سے بدل دیا ہے۔ تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑو تاکہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو یہ خوشخبری سناؤں۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو یہیں سکون سے رہ۔ اور بیشک جب کافر کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اسے جھڑک کر پوچھتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے خود جانا اور نہ ہی پڑھنے والوں کے پیچھے چلا۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ وہ کہتا ہے: میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ پس فرشتہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کا ایک ہتھوڑا مارتا ہے جس سے وہ ایسی چیخ مارتا ہے جسے جنوں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوقات سنتی ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1930]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [د] عن أنس. الصحيحة 1344: حم.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1934. إن المؤمن تخرج نفسه من بين جنبيه وهو يحمد الله ....
بیشک مومن کی روح اس کے پہلوؤں کے درمیان سے ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1931
«إن المؤمن تخرج نفسه من بين جنبيه وهو يحمد الله تعالى»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک مومن کی روح اس کے پہلوؤں کے درمیان سے اس حال میں پرواز کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر رہا ہوتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1931]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هب] عن ابن عباس. الصحيحة 1632: حم، ن، الضياء.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1935. إن المؤمن ليدرك بحسن الخلق درجة القائم الصائم
بیشک مومن اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے مسلسل روزہ رکھنے ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1932
«إن المؤمن ليدرك بحسن الخلق درجة القائم الصائم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک مومن اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے مسلسل روزہ رکھنے والے اور رات بھر قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1932]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [د حب] عن عائشة. المشكاة 5082.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1936. إن المؤمن لا ينجس
بیشک مومن ناپاک نہیں ہوتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1933
«إن المؤمن لا ينجس»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک مومن ناپاک نہیں ہوتا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1933]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق 4] عن أبي هريرة [حم م د ن هـ] عن حذيفة [ن] عن ابن مسعود [طب] عن أبي موسى. صحيح أبي داود 225، الإرواء 174.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1937. إن المؤمن يجاهد بسيفه ولسانه
بیشک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان (دونوں) سے جہاد ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1934
«إن المؤمن يجاهد بسيفه ولسانه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان (دونوں) سے جہاد کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم طب] عن كعب بن مالك. المشكاة 4795، الصحيحة 163: ابن عساكر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں