صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2756. الآخذ والمعطي سواء في الربا
سود لینے والا اور سود دینے والا (گناہ میں) دونوں ....
حدیث نمبر: 2751
«الآخذ والمعطي سواء في الربا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سود لینے والا اور سود دینے والا (گناہ میں) دونوں برابر ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2751]
”سود لینے والا اور سود دینے والا (گناہ میں) دونوں برابر ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2751]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [قط ك] عن أبي سعيد. أحاديث البيوع: حم، م، ابن الجارود.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2757. الآن حمي الوطيس
اب تنور گرم ہوا ہے (یعنی اب جنگ نے خوب ....
حدیث نمبر: 2752
«الآن حمي الوطيس»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اب تنور گرم ہوا ہے (یعنی اب جنگ نے خوب شدت اختیار کر لی ہے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2752]
”اب تنور گرم ہوا ہے (یعنی اب جنگ نے خوب شدت اختیار کر لی ہے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2752]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م] عن العباس [ك] عن جابر [طب] عن شيبة. فقه السيرة 424.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2758. الآن حين بردت عليه جلده
اب اس کی کھال اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے (یعنی ....
حدیث نمبر: 2753
«الآن حين بردت عليه جلده»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اب اس کی کھال اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے (یعنی میت کا قرض ادا ہونے پر اب اسے عذاب سے راحت ملی ہے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2753]
”اب اس کی کھال اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے (یعنی میت کا قرض ادا ہونے پر اب اسے عذاب سے راحت ملی ہے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2753]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [حم قط ك] عن جابر. شرح الطحاوي 645، الإرواء 1416، أحكام الجنائز 16: الطيالسي، هق.»
قال الشيخ الألباني: حسن
2759. الآن نغزوهم ولا يغزونا
اب ہم ان پر حملہ کریں گے اور وہ ہم ....
حدیث نمبر: 2754
«الآن نغزوهم ولا يغزونا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اب ہم ان پر حملہ کریں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے (غزوہ احزاب میں کفار کی پسپائی کے بعد فرمایا)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2754]
”اب ہم ان پر حملہ کریں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے (غزوہ احزاب میں کفار کی پسپائی کے بعد فرمایا)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2754]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم خ] عن سليمان بن صرد. فقه السيرة 334.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2760. الآيات خرزات منظومات في سلك فانقطع السلك فيتبع بعضها بعضا
قیامت کی نشانیاں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے موتیوں کی ....
حدیث نمبر: 2755
«الآيات خرزات منظومات في سلك فانقطع السلك فيتبع بعضها بعضا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”قیامت کی نشانیاں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں، پس جب دھاگا ٹوٹ جائے گا تو وہ ایک دوسرے کے پیچھے پے در پے گرنے لگیں گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2755]
”قیامت کی نشانیاں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں، پس جب دھاگا ٹوٹ جائے گا تو وہ ایک دوسرے کے پیچھے پے در پے گرنے لگیں گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2755]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ك] عن ابن عمرو. الصحيحة 1762: ك - أنس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2761. الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأهما في ليلة كفتاه
سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں ایسی ہیں کہ ....
حدیث نمبر: 2756
«الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأهما في ليلة كفتاه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو شخص انہیں کسی رات میں پڑھ لے تو وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2756]
”سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو شخص انہیں کسی رات میں پڑھ لے تو وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2756]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق هـ] عن ابن مسعود.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2762. الأئمة من قريش أبرارها أمراء أبرارها وفجارها أمراء فجارها وإن ....
امام (یعنی حکمران) قریش میں سے ہوں گے، ان کے ....
حدیث نمبر: 2757
"الأئمة من قريش أبرارها أمراء أبرارها وفجارها أمراء فجارها وإن أمرت عليكم قريش عبدا حبشيا مجدعا فاسمعوا له وأطيعوا ما لم يخير أحدكم بين إسلامه وضرب عنقه فإن خير بين
إسلامه وضرب عنقه فليقدم عنقه"
إسلامه وضرب عنقه فليقدم عنقه"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”امام (یعنی حکمران) قریش میں سے ہوں گے، ان کے نیک لوگ نیکوں کے امیر ہوں گے اور ان کے بدکار بدکاروں کے امیر ہوں گے، اور اگر قریش کسی ایسے حبشی غلام کو بھی تم پر امیر بنا دیں جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا، جب تک کہ تم میں سے کسی کو اس کے اسلام یا اس کی گردن اڑائے جانے کے درمیان اختیار نہ دیا جائے، پس اگر اسے اپنے اسلام یا گردن کٹوانے کے درمیان اختیار دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی گردن آگے کر دے (مگر دین نہ چھوڑے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2757]
”امام (یعنی حکمران) قریش میں سے ہوں گے، ان کے نیک لوگ نیکوں کے امیر ہوں گے اور ان کے بدکار بدکاروں کے امیر ہوں گے، اور اگر قریش کسی ایسے حبشی غلام کو بھی تم پر امیر بنا دیں جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا، جب تک کہ تم میں سے کسی کو اس کے اسلام یا اس کی گردن اڑائے جانے کے درمیان اختیار نہ دیا جائے، پس اگر اسے اپنے اسلام یا گردن کٹوانے کے درمیان اختیار دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی گردن آگے کر دے (مگر دین نہ چھوڑے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2757]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ك هق] عن علي. الروض النضير 674، الإرواء 1520.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2763. الأئمة من قريش ولهم عليكم حق ولكم مثل ذلك ما ....
امام قریش میں سے ہوں گے، ان کا تم پر ....
حدیث نمبر: 2758
«الأئمة من قريش ولهم عليكم حق ولكم مثل ذلك ما إن استرحموا رحموا وإن استحكموا عدلوا وإن عاهدوا وفوا فمن لم يفعل ذلك منهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”امام قریش میں سے ہوں گے، ان کا تم پر حق ہے اور اسی طرح تمہارا ان پر ویسا ہی حق ہے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، اور جب انہیں حاکم بنایا جائے تو وہ انصاف کریں، اور جب وہ کوئی عہد کریں تو اسے پورا کریں، پس ان میں سے جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، اس کی کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ نفل۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2758]
”امام قریش میں سے ہوں گے، ان کا تم پر حق ہے اور اسی طرح تمہارا ان پر ویسا ہی حق ہے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، اور جب انہیں حاکم بنایا جائے تو وہ انصاف کریں، اور جب وہ کوئی عہد کریں تو اسے پورا کریں، پس ان میں سے جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، اس کی کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ نفل۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2758]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ن الضياء] عن أنس. تخريج فضائل الشام 32، الإرواء 520.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2764. الأبعد فالأبعد من المسجد أعظم أجرا
جو مسجد سے جتنا زیادہ دور ہوگا، اس کا اجر ....
حدیث نمبر: 2759
«الأبعد فالأبعد من المسجد أعظم أجرا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جو مسجد سے جتنا زیادہ دور ہوگا، اس کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ عظیم ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2759]
”جو مسجد سے جتنا زیادہ دور ہوگا، اس کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ عظیم ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2759]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم د هـ ك هق] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود 565.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2765. الإبل عز لأهلها والغنم بركة والخير معقود في نواصي الخيل ....
اونٹ اپنے مالکوں کے لیے باعثِ عزت ہیں، اور بکریاں ....
حدیث نمبر: 2760
«الإبل عز لأهلها والغنم بركة والخير معقود في نواصي الخيل إلى يوم القيامة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اونٹ اپنے مالکوں کے لیے باعثِ عزت ہیں، اور بکریاں سراپا برکت ہیں، اور قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر و بھلائی باندھ دی گئی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2760]
”اونٹ اپنے مالکوں کے لیے باعثِ عزت ہیں، اور بکریاں سراپا برکت ہیں، اور قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر و بھلائی باندھ دی گئی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 2760]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هـ] عن عروة البارقي. الصحيحة 1763: ع.»
قال الشيخ الألباني: صحيح