صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3013. التائب من الذنب كمن لا ذنب له
گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے ....
حدیث نمبر: 3008
«التائب من الذنب كمن لا ذنب له»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3008]
”گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3008]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [هـ] عن ابن مسعود [الحكيم] عن أبي سعيد. الضعيفة 615، 616.»
قال الشيخ الألباني: حسن
3014. التؤدة في كل شيء خير إلا في عمل الآخرة
ہر کام میں سکون و اطمینان سے کام لینا بہتر ....
حدیث نمبر: 3009
«التؤدة في كل شيء خير إلا في عمل الآخرة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”ہر کام میں سکون و اطمینان سے کام لینا بہتر ہے سوائے آخرت کے عمل کے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3009]
”ہر کام میں سکون و اطمینان سے کام لینا بہتر ہے سوائے آخرت کے عمل کے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3009]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [د ك هب] عن سعد. الصحيحة 1794.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3015. التؤدة والاقتصاد والسمت الحسن جزء من أربعة وعشرين جزءا من ....
سکون و اطمینان، میانہ روی اور اچھی سیرت نبوت کے ....
حدیث نمبر: 3010
«التؤدة والاقتصاد والسمت الحسن جزء من أربعة وعشرين جزءا من النبوة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سکون و اطمینان، میانہ روی اور اچھی سیرت نبوت کے چوبیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3010]
”سکون و اطمینان، میانہ روی اور اچھی سیرت نبوت کے چوبیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [عبد بن حميد طب الضياء] عن عبد الله بن سرجس. المشكاة 5059: ت.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3016. التأني من الله والعجلة من الشيطان
سکون و تحمل اللہ کی طرف سے ہے اور جلد ....
حدیث نمبر: 3011
«التأني من الله والعجلة من الشيطان»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سکون و تحمل اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3011]
”سکون و تحمل اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3011]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [هب] عن أنس. الصحيحة 1795: ع.»
قال الشيخ الألباني: حسن
3017. التثاؤب في الصلاة من الشيطان فإذا تثاءب أحدكم فليكظم ما ....
نماز میں جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہے، پس ....
حدیث نمبر: 3012
«التثاؤب في الصلاة من الشيطان فإذا تثاءب أحدكم فليكظم ما استطاع»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”نماز میں جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہے، پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اسے حسبِ استطاعت روکے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3012]
”نماز میں جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہے، پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اسے حسبِ استطاعت روکے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3012]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ت حب] عن أبي هريرة. حم 2/397، م 8/225.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3018. التثاؤب من الشيطان فإذا تثاءب أحدكم فليرده ما استطاع فإن ....
جمائی شیطان کی طرف سے ہے، پس جب تم میں ....
حدیث نمبر: 3013
«التثاؤب من الشيطان فإذا تثاءب أحدكم فليرده ما استطاع فإن أحدكم إذا قال: ها ضحك منه الشيطان»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جمائی شیطان کی طرف سے ہے، پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اسے حسبِ استطاعت روکے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتے ہوئے ”ہا“ کہتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3013]
”جمائی شیطان کی طرف سے ہے، پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اسے حسبِ استطاعت روکے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتے ہوئے ”ہا“ کہتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3013]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3019. التحدث بنعمة الله شكر وتركها كفر ومن لا يشكر القليل ....
اللہ کی نعمت کا تذکرہ کرنا شکر ہے، اور اسے ....
حدیث نمبر: 3014
"التحدث بنعمة الله شكر وتركها كفر ومن لا يشكر القليل لا يشكر الكثير ومن لا يشكر الناس لا يشكر الله والجماعة بركة والفرقة عذاب"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ کی نعمت کا تذکرہ کرنا شکر ہے، اور اسے چھپانا ناشکری ہے، اور جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا، اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا، اور اجتماعیت برکت ہے اور تفرقہ عذاب ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3014]
”اللہ کی نعمت کا تذکرہ کرنا شکر ہے، اور اسے چھپانا ناشکری ہے، اور جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا، اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا، اور اجتماعیت برکت ہے اور تفرقہ عذاب ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3014]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [هب] عن النعمان بن بشير. الصحيحة 667.»
قال الشيخ الألباني: حسن
3020. التسبيح للرجال والتصفيق للنساء
مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا ہے اور عورتوں کے ....
حدیث نمبر: 3015
«التسبيح للرجال والتصفيق للنساء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3015]
”مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3015]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن جابر. م عن جابر، مختصر مسلم 335، صحيح أبي داود 867.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3021. التفل في المسجد خطيئة وكفارته أن يواريه
مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ یہ ....
حدیث نمبر: 3016
«التفل في المسجد خطيئة وكفارته أن يواريه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے چھپا دیا جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3016]
”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے چھپا دیا جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3016]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [د] عن أنس. صحيح أبي داود 493، صحيح الترغيب 285، وزاد: البخاري، ومسلم، وأبي داود, وت، ون: بلفظ قريب، وكذلك أحمد بإسناد لا بأس به.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3022. التكبير في الفطر سبع في الأولى وخمس في الآخرة والقراءة ....
عید الفطر کی نماز میں تکبیریں پہلی رکعت میں سات ....
حدیث نمبر: 3017
«التكبير في الفطر سبع في الأولى وخمس في الآخرة والقراءة بعدهما كلتيهما»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”عید الفطر کی نماز میں تکبیریں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ ہیں، اور دونوں رکعتوں میں تکبیروں کے بعد قراءت کی جائے گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3017]
”عید الفطر کی نماز میں تکبیریں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ ہیں، اور دونوں رکعتوں میں تکبیروں کے بعد قراءت کی جائے گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3017]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [د] عن ابن عمر. صحيح أبي داود 1045، الإرواء 639.»
قال الشيخ الألباني: حسن