صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3947. الطاعم الشاكر بمنزلة الصائم الصابر
شکر کرنے والا کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار ....
حدیث نمبر: 3942
«الطاعم الشاكر بمنزلة الصائم الصابر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”شکر کرنے والا کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کے درجے میں ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3942]
”شکر کرنے والا کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کے درجے میں ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3942]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ت هـ ك] عن أبي هريرة. الصحيحة 655.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3948. الطاعم الشاكر له مثل أجر الصائم الصابر
شکر کرنے والے کھانے والے کے لیے صبر کرنے والے ....
حدیث نمبر: 3943
«الطاعم الشاكر له مثل أجر الصائم الصابر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”شکر کرنے والے کھانے والے کے لیے صبر کرنے والے روزہ دار جیسا اجر ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3943]
”شکر کرنے والے کھانے والے کے لیے صبر کرنے والے روزہ دار جیسا اجر ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم هـ] عن سنان بن سنة. الصحيحة 655: تخ، عم.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3949. الطاعون آية الرجز ابتلى الله به ناسا من عباده فإذا ....
طاعون عذاب کی ایک نشانی ہے، اللہ نے اس کے ....
حدیث نمبر: 3944
«الطاعون آية الرجز ابتلى الله به ناسا من عباده فإذا سمعتم به فلا تدخلوا عليه وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تفروا منه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”طاعون عذاب کی ایک نشانی ہے، اللہ نے اس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے کچھ لوگوں کو آزمایا ہے، پس جب تم اس کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر یہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگ کر مت نکلو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3944]
”طاعون عذاب کی ایک نشانی ہے، اللہ نے اس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے کچھ لوگوں کو آزمایا ہے، پس جب تم اس کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر یہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگ کر مت نکلو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م] عن أسامة بن زيد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3950. الطاعون بقية رجز أو عذاب أرسل على طائفة من بني ....
طاعون اس عذاب کا بچا کھچا حصہ ہے جو بنی ....
حدیث نمبر: 3945
«الطاعون بقية رجز أو عذاب أرسل على طائفة من بني إسرائيل فإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا منها فرارا منه وإذا وقع بأرض ولستم بها فلا تهبطوا عليها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”طاعون اس عذاب کا بچا کھچا حصہ ہے جو بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر بھیجا گیا تھا، پس اگر یہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے مت نکلو، اور اگر یہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں نہ ہو تو وہاں مت جاؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3945]
”طاعون اس عذاب کا بچا کھچا حصہ ہے جو بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر بھیجا گیا تھا، پس اگر یہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے مت نکلو، اور اگر یہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں نہ ہو تو وہاں مت جاؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق ت] عن أسامة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3951. الطاعون شهادة لأمتي ووخز أعدائكم من الجن غدة كغدة الإبل ....
طاعون میری امت کے لیے شہادت ہے، اور یہ تمہارے ....
حدیث نمبر: 3946
«الطاعون شهادة لأمتي ووخز أعدائكم من الجن غدة كغدة الإبل تخرج في الآباط والمراق من مات فيه مات شهيدا ومن أقام فيه كان كالمرابط في سبيل الله ومن فر منه كان كالفار من الزحف»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”طاعون میری امت کے لیے شہادت ہے، اور یہ تمہارے دشمن جنوں کی چبھن ہے، یہ اونٹ کی غدود جیسی ایک گلٹی ہے جو بغلوں اور پیٹ کے نچلے حصوں میں نکلتی ہے۔ جو اس میں مر گیا وہ شہید مرا، اور جو اس میں صبر کے ساتھ ٹھہرا رہا وہ اللہ کی راہ میں مورچہ سنبھالنے والے کی طرح ہے، اور جو اس سے بھاگا وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3946]
”طاعون میری امت کے لیے شہادت ہے، اور یہ تمہارے دشمن جنوں کی چبھن ہے، یہ اونٹ کی غدود جیسی ایک گلٹی ہے جو بغلوں اور پیٹ کے نچلے حصوں میں نکلتی ہے۔ جو اس میں مر گیا وہ شہید مرا، اور جو اس میں صبر کے ساتھ ٹھہرا رہا وہ اللہ کی راہ میں مورچہ سنبھالنے والے کی طرح ہے، اور جو اس سے بھاگا وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3946]
تخریج الحدیث: «(حسن) [طس أبو نعيم في فوائد أبي بكر بن خلاد] عن عائشة. الصحيحة 1928.»
قال الشيخ الألباني: حسن
3952. الطاعون شهادة لكل مسلم
طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے۔
حدیث نمبر: 3947
«الطاعون شهادة لكل مسلم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3947]
”طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3947]
تخریج الحدیث: «(حسن) [حم ق ك] عن أنس. مختصر مسلم 1083، أحكام الجنائز 37: الطيالسي.»
قال الشيخ الألباني: حسن
3953. الطاعون غدة كغدة البعير المقيم بها كالشهيد والفار منها كالفار ....
طاعون اونٹ کی غدود جیسی ایک گلٹی ہے، اس میں ....
حدیث نمبر: 3948
«الطاعون غدة كغدة البعير المقيم بها كالشهيد والفار منها كالفار من الزحف»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”طاعون اونٹ کی غدود جیسی ایک گلٹی ہے، اس میں ٹھہرنے والا شہید کی طرح ہے، اور اس سے بھاگنے والا میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3948]
”طاعون اونٹ کی غدود جیسی ایک گلٹی ہے، اس میں ٹھہرنے والا شہید کی طرح ہے، اور اس سے بھاگنے والا میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3948]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم] عن عائشة. الترغيب 2/204: ع، طس. الصحيحة 655.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3954. الطاعون كان عذابا يبعثه الله على من يشاء وإن الله ....
طاعون ایک عذاب تھا جسے اللہ جس پر چاہتا بھیجتا ....
حدیث نمبر: 3949
«الطاعون كان عذابا يبعثه الله على من يشاء وإن الله جعله رحمة للمؤمنين فليس من أحد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابرا محتسبا يعلم أنه لا يصيبه إلا ما كتب الله له إلا كان له مثل أجر شهيد»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”طاعون ایک عذاب تھا جسے اللہ جس پر چاہتا بھیجتا تھا، لیکن اللہ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا ہے، پس کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کے شہر میں طاعون واقع ہو اور وہ صبر و ثواب کی نیت سے وہیں ٹھہرا رہے، یہ جانتے ہوئے کہ اسے صرف وہی کچھ پہنچے گا جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، مگر اسے شہید جیسا اجر ملے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3949]
”طاعون ایک عذاب تھا جسے اللہ جس پر چاہتا بھیجتا تھا، لیکن اللہ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا ہے، پس کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کے شہر میں طاعون واقع ہو اور وہ صبر و ثواب کی نیت سے وہیں ٹھہرا رہے، یہ جانتے ہوئے کہ اسے صرف وہی کچھ پہنچے گا جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، مگر اسے شہید جیسا اجر ملے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3949]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم خ] عن عائشة. أحكام الجنائز 37: هق.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3955. الطاعون والغرق والبطن والحرق والنفساء شهادة لأمتي
طاعون، ڈوبنا، پیٹ کی بیماری، آگ سے جلنا اور زچگی ....
حدیث نمبر: 3950
«الطاعون والغرق والبطن والحرق والنفساء شهادة لأمتي»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”طاعون، ڈوبنا، پیٹ کی بیماری، آگ سے جلنا اور زچگی کی وجہ سے موت میری امت کے لیے شہادت ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3950]
”طاعون، ڈوبنا، پیٹ کی بیماری، آگ سے جلنا اور زچگی کی وجہ سے موت میری امت کے لیے شہادت ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3950]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم طب الضياء] عن صفوان بن أمية. أحكام الجنائز 38 - 39: الدارمي، ن.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3956. الطاعون وخز أعدائكم من الجن وهو لكم شهادة
طاعون تمہارے دشمن جنوں کی چبھن ہے، اور یہ تمہارے ....
حدیث نمبر: 3951
«الطاعون وخز أعدائكم من الجن وهو لكم شهادة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”طاعون تمہارے دشمن جنوں کی چبھن ہے، اور یہ تمہارے لیے شہادت ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3951]
”طاعون تمہارے دشمن جنوں کی چبھن ہے، اور یہ تمہارے لیے شہادت ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف/حدیث: 3951]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ك] عن أبي موسى. الضعيفة 186، الإرواء 1637، 1638.»
قال الشيخ الألباني: صحيح