صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4205. فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان
ایک بستر آدمی کے لیے ہے، ایک بستر اس کی ....
حدیث نمبر: 4198
«فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”ایک بستر آدمی کے لیے ہے، ایک بستر اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے، اور چوتھا شیطان کے لیے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4198]
”ایک بستر آدمی کے لیے ہے، ایک بستر اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے، اور چوتھا شیطان کے لیے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4198]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ن] عن جابر. مختصر مسلم 1353، ابن المبارك 762.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4206. فرج سقف بيتي وأنا بمكة فنزل جبريل ففرج صدري ثم ....
میرے گھر کی چھت کھول دی گئی جبکہ میں مکہ ....
حدیث نمبر: 4199
"فرج سقف بيتي وأنا بمكة فنزل جبريل ففرج صدري ثم غسله بماء زمزم ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمة وإيمانا فأفرغها في صدري ثم أطبقه. ثم أخذ بيدي فعرج بي إلى السماء الدنيا فلما جئنا السماء الدنيا قال جبريل لخازن السماء الدنيا: افتح قال من هذا؟ قال: هذا جبريل قال هل معك أحد؟ قال: نعم معي محمد قال: فأرسل إليه؟ قال نعم فافتح. فلما علونا السماء الدنيا فإذا رجل عن يمينه أسودة وعن يساره أسودة فإذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل شماله بكى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح قلت: يا جبريل من هذا؟ قال: هذا آدم وهذه الأسودة عن يمينه وعن شماله نسم بنيه فأهل اليمين أهل الجنة والأسودة التي عن شماله أهل النار فإذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل شماله بكى. ثم عرج بي جبريل حتى أتى السماء الثانية فقال لخازنها: افتح فقال له خازنها مثل ما قال خازن السماء الدنيا ففتح فلما مررت بإدريس قال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح فقلت: من هذا؟ قال: هذا إدريس ثم مررت بموسى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح فقلت: من هذا؟ قال: هذا موسى ثم مررت بعيسى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح قلت: من هذا؟ قال: هذا عيسى بن مريم ثم مررت بإبراهيم فقال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح قلت: من هذا؟ قال: هذا إبراهيم. ثم عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صريف الأقلام ففرض الله عز وجل على أمتي خمسين صلاة فرجعت بذلك حتى مررت على موسى فقال موسى: ماذا فرض ربك على أمتك؟ قلت: فرض عليهم خمسين صلاة قال لي موسى: فراجع ربك فإن أمتك لا تطيق ذلك فرجعت ربي فوضع شطرها فرجعت إلى موسى فأخبرته فقال: راجع ربك فإن أمتك لا تطيق ذلك فراجعت ربي فقال: هن خمس وهن خمسون لا يبدل القول لدي فرجعت إلى موسى فقال: راجع ربك قلت: قد استحييت من ربي. ثم انطلق بي حتى انتهى إلى سدرة المنتهى ونبقها مثل قلال هجر وورقها كآذان الفيلة تكاد الورقة تغطي هذه الأمة فغشيها ألوان لا أدري ما هي؟ ثم أدخلت الجنة فإذا فيها جنابذ اللؤلؤ وإذا ترابها المسك"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میرے گھر کی چھت کھول دی گئی جبکہ میں مکہ میں تھا، تو جبریل اترے، میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لائے اور اسے میرے سینے میں انڈیل دیا، پھر اسے بند کر دیا۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمانِ دنیا کی طرف لے چلے۔ جب ہم آسمانِ دنیا پر پہنچے تو جبریل نے آسمانِ دنیا کے داروغے سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ جبریل ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جبریل نے کہا: ہاں، میرے ساتھ محمد ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا: ہاں، تو دروازہ کھول دو۔ پس جب ہم آسمانِ دنیا پر چڑھے تو ایک آدمی دکھائی دیا جس کے دائیں طرف کچھ سائے تھے اور بائیں طرف کچھ سائے تھے، جب وہ اپنی دائیں طرف دیکھتا تو ہنستا، اور جب اپنی بائیں طرف دیکھتا تو روتا۔ اس نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آدم ہیں، اور یہ سائے جو ان کے دائیں اور بائیں ہیں، ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں طرف والے جنتی ہیں، اور بائیں طرف کے سائے جہنمی ہیں، پس جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں، اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔ پھر جبریل مجھے لے کر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے، تو انہوں نے اس کے داروغے سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس کے داروغے نے بھی وہی کہا جو آسمانِ دنیا کے داروغے نے کہا تھا، تو اس نے دروازہ کھول دیا۔ پھر جب میں ادریس کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ ادریس ہیں۔ پھر میں موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ موسیٰ ہیں۔ پھر میں عیسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم ہیں۔ پھر میں ابراہیم کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ ابراہیم ہیں۔ پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایک ایسی بلندی پر پہنچا جہاں مجھے قلموں کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں یہ لے کر واپس آیا یہاں تک کہ موسیٰ کے پاس سے گزرا۔ موسیٰ نے پوچھا: تمہارے رب نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا: ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ موسیٰ نے مجھ سے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا تو اس نے ان کا آدھا حصہ کم کر دیا۔ پھر میں موسیٰ کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ تمہاری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔ تو میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ پانچ ہیں اور اجر میں پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔ تو میں موسیٰ کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ۔ میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر مجھے لے جایا گیا یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے، ایک پتہ اس امت کو ڈھانپنے کے قریب تھا۔ اسے ایسے رنگ ڈھانپے ہوئے تھے کہ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی مشک تھی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4199]
”میرے گھر کی چھت کھول دی گئی جبکہ میں مکہ میں تھا، تو جبریل اترے، میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لائے اور اسے میرے سینے میں انڈیل دیا، پھر اسے بند کر دیا۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمانِ دنیا کی طرف لے چلے۔ جب ہم آسمانِ دنیا پر پہنچے تو جبریل نے آسمانِ دنیا کے داروغے سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ جبریل ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جبریل نے کہا: ہاں، میرے ساتھ محمد ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا: ہاں، تو دروازہ کھول دو۔ پس جب ہم آسمانِ دنیا پر چڑھے تو ایک آدمی دکھائی دیا جس کے دائیں طرف کچھ سائے تھے اور بائیں طرف کچھ سائے تھے، جب وہ اپنی دائیں طرف دیکھتا تو ہنستا، اور جب اپنی بائیں طرف دیکھتا تو روتا۔ اس نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آدم ہیں، اور یہ سائے جو ان کے دائیں اور بائیں ہیں، ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں طرف والے جنتی ہیں، اور بائیں طرف کے سائے جہنمی ہیں، پس جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں، اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔ پھر جبریل مجھے لے کر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے، تو انہوں نے اس کے داروغے سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس کے داروغے نے بھی وہی کہا جو آسمانِ دنیا کے داروغے نے کہا تھا، تو اس نے دروازہ کھول دیا۔ پھر جب میں ادریس کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ ادریس ہیں۔ پھر میں موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ موسیٰ ہیں۔ پھر میں عیسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم ہیں۔ پھر میں ابراہیم کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ ابراہیم ہیں۔ پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایک ایسی بلندی پر پہنچا جہاں مجھے قلموں کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں یہ لے کر واپس آیا یہاں تک کہ موسیٰ کے پاس سے گزرا۔ موسیٰ نے پوچھا: تمہارے رب نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا: ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ موسیٰ نے مجھ سے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا تو اس نے ان کا آدھا حصہ کم کر دیا۔ پھر میں موسیٰ کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ تمہاری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔ تو میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ پانچ ہیں اور اجر میں پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔ تو میں موسیٰ کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ۔ میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر مجھے لے جایا گیا یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے، ایک پتہ اس امت کو ڈھانپنے کے قریب تھا۔ اسے ایسے رنگ ڈھانپے ہوئے تھے کہ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی مشک تھی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4199]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق] عن أبي ذر إلا قوله: ثم عرج بي حتى ظهرت بمستوى اسمع فيه صريف الأقلام فإنه عن ابن عباس وأبي حبة البدري.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4207. فرغ إلى ابن آدم من أربع: الخلق والخلق والرزق والأجل
ابن آدم کے بارے میں چار چیزوں کا فیصلہ ہو ....
حدیث نمبر: 4200
«فرغ إلى ابن آدم من أربع: الخلق والخلق والرزق والأجل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”ابن آدم کے بارے میں چار چیزوں کا فیصلہ ہو چکا ہے: تخلیق، اخلاق، رزق اور موت کا وقت۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4200]
”ابن آدم کے بارے میں چار چیزوں کا فیصلہ ہو چکا ہے: تخلیق، اخلاق، رزق اور موت کا وقت۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4200]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [طس] عن ابن مسعود. السنة 304.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4208. فرغ الله عز وجل إلى كل عبد من خمس: من ....
اللہ عزوجل ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا ....
حدیث نمبر: 4201
«فرغ الله عز وجل إلى كل عبد من خمس: من أجله ورزقه وأثره ومضجعه وشقي أو سعيد»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ عزوجل ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اس کے نقشِ قدم، اس کی آرام گاہ اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4201]
”اللہ عزوجل ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اس کے نقشِ قدم، اس کی آرام گاہ اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4201]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم طب] عن أبي الدرداء. المشكاة 113، السنة 303 - 309: ابن أبي عاصم، حب، تمام، ابن عساكر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4209. فرغ الله إلى كل عبد من خمس: من عمله وأجله ....
اللہ ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ ....
حدیث نمبر: 4202
«فرغ الله إلى كل عبد من خمس: من عمله وأجله ورزقه وأثره ومضجعه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اس کے نقشِ قدم اور اس کی آرام گاہ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4202]
”اللہ ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اس کے نقشِ قدم اور اس کی آرام گاہ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4202]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [طب] عن أبي الدرداء. السنة 303 - 309.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4210. فرغ الله من أربع: من الخلق والخلق والرزق والأجل
اللہ چار چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: تخلیق، اخلاق، ....
حدیث نمبر: 4203
«فرغ الله من أربع: من الخلق والخلق والرزق والأجل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ چار چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: تخلیق، اخلاق، رزق اور موت کا وقت۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4203]
”اللہ چار چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: تخلیق، اخلاق، رزق اور موت کا وقت۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4203]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ابن عساكر] عن أنس. يشهد له ما قبله.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4211. فرغ الله من المقادير وأمور الدنيا قبل أن يخلق السموات ....
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ....
حدیث نمبر: 4204
" فرغ الله من المقادير وأمور الدنيا قبل أن يخلق السموات والأرض بخمسين ألف سنة"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیروں اور دنیا کے معاملات کا فیصلہ کر دیا تھا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4204]
”اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیروں اور دنیا کے معاملات کا فیصلہ کر دیا تھا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4204]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [طب] عن ابن عمرو. الطحاوية 80: البيهقي في الأسماء.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4212. فسطاط المسلمين يوم الملحمة الكبرى بأرض يقال لها: الغوطة فيها ....
بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کا مرکزی خیمہ اس زمین ....
حدیث نمبر: 4205
«فسطاط المسلمين يوم الملحمة الكبرى بأرض يقال لها: الغوطة فيها مدينة يقال لها دمشق خير منازل المسلمين يومئذ»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کا مرکزی خیمہ اس زمین میں ہو گا جسے غوطہ کہا جاتا ہے، اس میں ایک شہر ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، وہ اس دن مسلمانوں کی بہترین قیام گاہ ہو گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4205]
”بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کا مرکزی خیمہ اس زمین میں ہو گا جسے غوطہ کہا جاتا ہے، اس میں ایک شہر ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، وہ اس دن مسلمانوں کی بہترین قیام گاہ ہو گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4205]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم] عن أبي الدرداء. فضائل الشام 15.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4213. فصل ما بين الحلال والحرام ضرب الدف والصوت في النكاح
حلال اور حرام کے درمیان فرق نکاح میں دف بجانا ....
حدیث نمبر: 4206
«فصل ما بين الحلال والحرام ضرب الدف والصوت في النكاح»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”حلال اور حرام کے درمیان فرق نکاح میں دف بجانا اور آواز کرنا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4206]
”حلال اور حرام کے درمیان فرق نکاح میں دف بجانا اور آواز کرنا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4206]
تخریج الحدیث: «(حسن) [حم ت ن هـ ك] عن محمد بن حاطب. الإرواء 1994.»
قال الشيخ الألباني: حسن
4214. فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر
ہمارے روزے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان فرق ....
حدیث نمبر: 4207
«فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”ہمارے روزے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کا کھانا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4207]
”ہمارے روزے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کا کھانا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4207]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م 4] عن عمروبن العاص.»
قال الشيخ الألباني: صحيح