صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5034. لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع إلا ....
میں یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے ضرور نکال ....
حدیث نمبر: 5026
«لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع إلا مسلما»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے ضرور نکال دوں گا، یہاں تک کہ صرف مسلمان ہی باقی چھوڑوں گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5026]
”میں یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے ضرور نکال دوں گا، یہاں تک کہ صرف مسلمان ہی باقی چھوڑوں گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5026]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م د ت] عن عمر. الصحيحة 924.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5035. لأذودن عن حوضي رجالا كما تذاد الغريبة من الإبل
میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو ضرور دھتکار دوں ....
حدیث نمبر: 5027
«لأذودن عن حوضي رجالا كما تذاد الغريبة من الإبل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو ضرور دھتکار دوں گا جیسے اجنبی اونٹنی کو ریوڑ سے دھتکارا جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5027]
”میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو ضرور دھتکار دوں گا جیسے اجنبی اونٹنی کو ریوڑ سے دھتکارا جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5027]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م] عن أبي هريرة. م 7/70.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5036. لأعلمن أقواما من أمتي يأتون يوم القيامة بحسنات أمثال جبال ....
میں اپنی امت کے کچھ لوگوں کو ضرور جانتا ہوں ....
حدیث نمبر: 5028
«لأعلمن أقواما من أمتي يأتون يوم القيامة بحسنات أمثال جبال تهامة بيضاء فيجعلها الله هباء منثورا أما إنهم إخوانكم ومن جلدتكم ويأخذون من الليل كما تأخذون ولكنهم قوم إذا خلوا بمحارم الله انتهكوها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں اپنی امت کے کچھ لوگوں کو ضرور جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے سفید پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ انہیں بکھرا ہوا غبار بنا دے گا۔ سن لو! وہ تمہارے بھائی اور تمہاری ہی جنس میں سے ہوں گے، وہ رات کو اسی طرح عبادت کریں گے جیسے تم کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ جب اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے ساتھ تنہا ہوں گے تو ان کی حرمت پامال کر دیں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5028]
”میں اپنی امت کے کچھ لوگوں کو ضرور جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے سفید پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ انہیں بکھرا ہوا غبار بنا دے گا۔ سن لو! وہ تمہارے بھائی اور تمہاری ہی جنس میں سے ہوں گے، وہ رات کو اسی طرح عبادت کریں گے جیسے تم کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ جب اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے ساتھ تنہا ہوں گے تو ان کی حرمت پامال کر دیں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5028]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [هـ] عن ثوبان. الترغيب 3/178.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5037. لألقين الله من قبل أن أعطي أحدا من مال أحد ....
میں اللہ سے اس حال میں ملوں گا کہ میں ....
حدیث نمبر: 5029
«لألقين الله من قبل أن أعطي أحدا من مال أحد شيئا بغير طيب نفس إنما البيع عن تراض»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں اللہ سے اس حال میں ملوں گا کہ میں نے کسی کے مال میں سے کسی کو اس کی دلی رضامندی کے بغیر کچھ نہیں دیا، بیع تو صرف باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5029]
”میں اللہ سے اس حال میں ملوں گا کہ میں نے کسی کے مال میں سے کسی کو اس کی دلی رضامندی کے بغیر کچھ نہیں دیا، بیع تو صرف باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5029]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [هق] عن أبي سعيد. أحاديث البيوع: هـ، حب، المخلص.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5038. لله أشد فرحا بتوبة عبده حين يتوب إليه من أحدكم ....
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے، جب وہ اس ....
حدیث نمبر: 5030
«لله أشد فرحا بتوبة عبده حين يتوب إليه من أحدكم كان على راحلته بأرض فلاة فانفلتت منه وعليها طعامه وشرابه فأيس منها فأتى شجرة فاضطجع في ظلها قد أيس من راحلته فبينما هوكذلك إذ هوبها قائمة عنده فأخذ بخطامها ثم قال من شدة الفرح: اللهم أنت عبدي وأنا ربك! أخطأ من شدة الفرح»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے، جب وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے، تم میں سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی سنسان زمین میں اپنی سواری پر تھا کہ وہ اس سے چھوٹ کر بھاگ گئی، جس پر اس کا کھانا پینا لدا ہوا تھا، وہ اس سے مایوس ہو گیا، پھر ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا، اپنی سواری سے مایوس ہو چکا تھا کہ اچانک وہ سواری اس کے پاس کھڑی نظر آئی، اس نے اس کی نکیل پکڑ لی، پھر خوشی کی شدت سے کہنے لگا: اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں! اس نے خوشی کی شدت سے یہ غلطی کر دی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5030]
”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے، جب وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے، تم میں سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی سنسان زمین میں اپنی سواری پر تھا کہ وہ اس سے چھوٹ کر بھاگ گئی، جس پر اس کا کھانا پینا لدا ہوا تھا، وہ اس سے مایوس ہو گیا، پھر ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا، اپنی سواری سے مایوس ہو چکا تھا کہ اچانک وہ سواری اس کے پاس کھڑی نظر آئی، اس نے اس کی نکیل پکڑ لی، پھر خوشی کی شدت سے کہنے لگا: اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں! اس نے خوشی کی شدت سے یہ غلطی کر دی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5030]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م] عن أنس. المشكاة 2332، م 8/91.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5039. لله أشد فرحا بتوبة عبده من أحدكم إذا سقط عليه ....
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے ....
حدیث نمبر: 5031
«لله أشد فرحا بتوبة عبده من أحدكم إذا سقط عليه بعيره قد أضله بأرض فلاة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ مل جائے جسے وہ کسی سنسان زمین میں کھو چکا تھا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5031]
”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ مل جائے جسے وہ کسی سنسان زمین میں کھو چکا تھا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5031]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق] عن أنس. مختصر مسلم 1917 عن الحارث بن سويد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5040. لله أفرح بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها
اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے تم ....
حدیث نمبر: 5032
«لله أفرح بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے تم میں سے اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کی گم شدہ چیز مل جائے جب وہ اسے پا لے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5032]
”اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے تم میں سے اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کی گم شدہ چیز مل جائے جب وہ اسے پا لے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5032]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت هـ] عن أبي هريرة. م 8/91.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5041. لله أفرح بتوبة العبد من رجل نزل منزلا وبه مهلكه ....
اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ سے اس آدمی کی نسبت ....
حدیث نمبر: 5033
«لله أفرح بتوبة العبد من رجل نزل منزلا وبه مهلكه ومعه راحلته عليها طعامه وشرابه فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ وقد ذهبت راحلته فطلبها حتى إذا اشتد عليه الحر والعطش قال: أرجع إلى مكاني الذي كنت فيه فأنام حتى أموت ثم رفع رأسه فإذا راحلته عنده عليها زاده: طعامه وشرابه! فالله أشد فرحا بتوبة العبد المؤمن من هذا براحلته وزاده»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ سے اس آدمی کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی ایسی جگہ اترا جہاں اس کی ہلاکت کا خطرہ تھا، اس کے ساتھ اس کی سواری تھی جس پر اس کا کھانا پینا لدا ہوا تھا، اس نے اپنا سر رکھا اور سو گیا، پھر جب بیدار ہوا تو اس کی سواری جا چکی تھی، وہ اسے تلاش کرتا رہا یہاں تک کہ جب گرمی اور پیاس اس پر شدید ہو گئی تو اس نے کہا: میں اپنی اسی جگہ واپس چلا جاتا ہوں جہاں پہلے تھا اور وہیں سو جاتا ہوں یہاں تک کہ مر جاؤں، پھر اس نے اپنا سر اٹھایا تو اس کی سواری اس کے پاس کھڑی تھی جس پر اس کا زادِ راہ، اس کا کھانا اور پینا موجود تھا! تو اللہ تعالیٰ مومن بندے کی توبہ سے اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اپنی سواری اور زادِ راہ مل گیا ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5033]
”اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ سے اس آدمی کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی ایسی جگہ اترا جہاں اس کی ہلاکت کا خطرہ تھا، اس کے ساتھ اس کی سواری تھی جس پر اس کا کھانا پینا لدا ہوا تھا، اس نے اپنا سر رکھا اور سو گیا، پھر جب بیدار ہوا تو اس کی سواری جا چکی تھی، وہ اسے تلاش کرتا رہا یہاں تک کہ جب گرمی اور پیاس اس پر شدید ہو گئی تو اس نے کہا: میں اپنی اسی جگہ واپس چلا جاتا ہوں جہاں پہلے تھا اور وہیں سو جاتا ہوں یہاں تک کہ مر جاؤں، پھر اس نے اپنا سر اٹھایا تو اس کی سواری اس کے پاس کھڑی تھی جس پر اس کا زادِ راہ، اس کا کھانا اور پینا موجود تھا! تو اللہ تعالیٰ مومن بندے کی توبہ سے اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اپنی سواری اور زادِ راہ مل گیا ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5033]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق ت] عن ابن مسعود.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5042. لله أقدر عليك منك عليه
اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے کہیں زیادہ قادر ہے ....
حدیث نمبر: 5034
«لله أقدر عليك منك عليه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے کہیں زیادہ قادر ہے جتنا تو اس پر قادر ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5034]
”اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے کہیں زیادہ قادر ہے جتنا تو اس پر قادر ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5034]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ت] عن أبي مسعود. م 5/92.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
5043. لأن أطأ على جمرة أحب إلي من أن أطأ على ....
میرے نزدیک انگارے پر قدم رکھنا اس سے زیادہ پسندیدہ ....
حدیث نمبر: 5035
«لأن أطأ على جمرة أحب إلي من أن أطأ على قبر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میرے نزدیک انگارے پر قدم رکھنا اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی قبر پر قدم رکھوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5035]
”میرے نزدیک انگارے پر قدم رکھنا اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی قبر پر قدم رکھوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف اللام./حدیث: 5035]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [خط] عن أبي هريرة. الضعيفة 966: عد، حل.»
قال الشيخ الألباني: صحيح