🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3. ابن كعب بن مالك، عن أبيه الزهري، عن ابن كعب
ابن کعب بن مالک کی اپنے والد سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات؛ زہری کی ابن کعب سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16147
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: فَذَكَرَ حَدِيثَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: «وَلَيْسَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ هَذَا الْكَلَامُ الَّذِي فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ» ، قَالَ أَحْمَدُ: «وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّ الزُّهْرِيَّ سَمِعَ هَذَا الْكَلَامَ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ مُخْتَصَرًا، وَسَمِعَ الْحَدِيثَ بِسِيَاقِهِ مِنْ أَبِيهِ عَنْهُ»
عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ - جو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے ان کے نابینا ہونے پر ان کے رہنما تھے - کہتے ہیں: میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنا۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: پھر (راوی نے) تین پیچھے رہ جانے والوں کی حدیث بیان کی۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: اس روایت کے آخر میں وہ بات نہیں ہے جو پہلی روایت کے آخر میں ہے۔ احمد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ زہری نے یہ بات عبداللہ بن کعب سے مختصراً سنی، اور پوری حدیث اس کے سیاق کے ساتھ ان (عبدالرحمٰن) کے والد کے واسطے سے ان (کعب رضی اللہ عنہ) سے سنی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16147]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 56، حدیث 97»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكُرَيْزِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: «لَقَدْ بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ بَايَعْنَاهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَلَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا بَدْرًا، وَإِنْ كَانَتْ لَهِيَ أَكْثَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا، وَكَانَتْ غَزْوَةً لَمْ يُعَاتِبِ اللهُ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْعِيرَ، حَتَّى جَمَعَ اللهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَدُوِّهِ عَلَى غَيْرِ مَوْعِدٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ وَجْهًا كُنَّا نُغَيِّرُهُ حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكٍ، غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فِي حَدِيثِ زَيْدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ کی رات، جب ہم نے اسلام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، بیعت کی تھی۔ میں بدر میں شریک نہ ہو سکا، اور مجھے یہ پسند نہیں کہ اس کے بدلے مجھے بدر کی شرکت مل جائے، اگرچہ لوگوں میں بدر کا ذکر زیادہ ہے۔ اور وہ ایسا غزوہ تھا کہ اللہ نے اس سے پیچھے رہنے والے کسی کو ملامت نہیں کی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تجارتی قافلے کے ارادے سے نکلے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کے درمیان بغیر کسی وعدے کے ملاقات کرا دی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سمت جانے کا ارادہ کرتے تو ہم اسے چھپا دیتے، یہاں تک کہ غزوہ تبوک ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا غزوہ کیا - زید کی روایت میں یوں ہے - پھر (راوی نے) آگے پورا واقعہ بیان کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16148]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 57، حدیث 98»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16149
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ? عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، حِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَنْجَانِيَ اللهُ بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ كَذِبًا، وَأَنْ أَتَخَلَّى مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكَ» ، قَالَ كَعْبٌ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ"
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی ہے، اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں آئندہ کبھی جھوٹ نہ بولوں، اور اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے خیبر کا اپنا حصہ اپنے پاس رکھ لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16149]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 57، حدیث 99»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16150
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ فِي تَخَلُّفِهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے پر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، عرض کیا: یا رسول اللہ! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16150]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 57، حدیث 100»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16151
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَخَلَّفُوا ثُمَّ تَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ كَعْبٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ جَمِيعِ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ» .
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے - جو ان تین لوگوں میں سے ایک تھے جو پیچھے رہ گئے تھے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں سچ کے سوا کچھ نہ بولوں، اور اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ لو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16151]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 58، حدیث 101»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16152
حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ بِطُولِهِ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ان کی توبہ کی مکمل حدیث اسی طرح مروی ہے جیسی اوپر گزری۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16152]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 58، حدیث 102»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16153
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ الْبَخْتَرِيُّ الطَّائِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ لَيْلَةً كَعْبًا، وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، يَقُولُ: «لَمَّا بُشِّرْتُ بِالتَّوْبَةِ أَقْبَلَتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ النَّاسُ يَتَلَقَّوْنَنِي فَوْجًا فَوْجًا يُهَنِّئُونَنِي بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيَّ، حَتَّى إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ قَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ حَتَّى صَافَحَنِي»
عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک رات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو - جو ان تین لوگوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی - یہ کہتے سنا: ”جب مجھے توبہ کی خوشخبری دی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑا، تو لوگ فوج در فوج مجھ سے ملتے اور اللہ کی مجھ پر توبہ قبول ہونے پر مبارکباد دیتے رہے، یہاں تک کہ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ میری طرف اٹھے اور مجھ سے مصافحہ کیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16153]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 58، حدیث 103»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16154
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي، وَأَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُجْزِئُ عَنْكَ مِنْ ذَلِكَ الثُّلُثُ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنا سارا مال چھوڑ دوں، اور اپنی قوم کا وہ گھر بھی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ گناہ ہوا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اس میں سے تہائی چھوڑنا تمہارے لیے کافی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16154]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 59، حدیث 104»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16155
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ: «أَنَّهُ لَمَّا» بُشِّرَ بِتَوْبَتِهِ سَجَدَ، وَأَعْطَى الَّذِي بَشَّرَهُ ثَوْبَيْهِ"
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب انہیں ان کی توبہ کی خوشخبری دی گئی تو وہ سجدے میں گر پڑے، اور جس نے انہیں خوشخبری دی اسے اپنے دونوں کپڑے دے دیے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16155]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 59، حدیث 105»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب (أحاديث 16156–16221)
باب (احادیث 16156 تا 16221)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16156
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدُمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمُّ جَلَسَ فِيهِ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس نہیں آتے تھے مگر دن کے وقت، چاشت میں، اور جب واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے، اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر اس میں بیٹھ جاتے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16156]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 59، حدیث 106»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں