🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

جامع الکامل میں ترقیم دار ابن بشیر سے تلاش کل احادیث (16547)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5400. 5- باب قوله: أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ (77) وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ (78) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (79) الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنْتُمْ مِنْهُ تُوقِدُونَ (80) أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ (81) إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (82) فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (83)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر وہ اچانک صریح جھگڑا کرنے والا بن گیا، اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا کہ ”ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب کہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی؟“ آپ فرما دیجیے کہ ”انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، اور وہ ہر طرح کی تخلیق کا بخوبی جاننے والا ہے، وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی تو تم اس سے آگ سلگاتے ہو، کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کر دے؟ کیوں نہیں! اور وہی تو اصل پیدا کرنے والا اور بڑا علم رکھنے والا ہے، اس کا حکم تو بس یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کہتا ہے کہ ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے، پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13157
13157- عن بسر بن جحاش القرشي أن النبي صلى الله عليه وسلم بزق يوما في كفه، فوضع عليها أصبعه، ثم قال: قال الله: ابن آدم! أنى تعجزني، وقد خلقتك من مثل هذه، حتى إذا سويتك وعدلتك مشيت بين بردين وللأرض منك وئيد، فجمعت ومنعت، حتى إذا بلغت التراقي، قلتَ: أتصدق، وأنى أوان الصدقة.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه ابن ماجه (2707)، وأحمد (17842) واللفظ له، وصحّحه الحاكم (2/502) كلهم من طرق عن حريز بن عثمان، عن عبد الرحمن بن ميسرة، عن جبير بن نفير، عن بسر بن جحاش القرشي، قال: فذكره.»

الحكم على الحديث: صحيح

الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13157 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه ابن ماجه (2707)، وأحمد (17842) واللفظ له، وصحّحه الحاكم (2/502) كلهم من طرق عن حريز بن عثمان، عن عبد الرحمن بن ميسرة، عن جبير بن نفير، عن بسر بن جحاش القرشي، قال: فذكره.
0
وإسناه صحيح، وعبد الرحمن بن ميسرة الحضرمي الحمصي، وثّقه ابن حبان والعجلي، وقال أبو داود: شيوخ حريز كلهم ثقات، وصحّحه الحافظ ابن حجر في الإصابة (644).
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13157 in Urdu