الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5531. 2- باب قوله: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (9) فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى (10) مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى (11) أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى (12) وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى (13) عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى (14) عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى (15) إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى (16) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (17) لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى (18)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کے بیان میں کہ ”پھر وہ (جبرائیل اور نبی کریم ﷺ) دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کم نزدیک ہو گئے، پس اللہ نے اپنے بندے کی طرف وہ وحی بھیجی جو اسے بھیجنی تھی، جو کچھ (ان کی) آنکھوں نے دیکھا دل نے اس کی تکذیب نہیں کی، تو کیا تم ان سے اس بات پر جھگڑتے ہو جو وہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھتے ہیں؟ اور یقیناً انہوں نے اسے (جبرائیل کو) ایک اور مرتبہ بھی دیکھا تھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، جس کے پاس ہی جنت الماویٰ ہے، جب کہ اس بیری کے درخت پر وہ چیز چھا رہی تھی جو (اس پر) چھا رہی تھی، (نبی ﷺ کی) نگاہ نہ تو کج ہوئی اور نہ ہی حد سے بڑھی، بلاشبہ انہوں نے اپنے رب کی عظیم الشان نشانیاں دیکھیں۔“
حدیث نمبر: 13419
13419- عن أبي هريرة: وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى قال: رأى جبريل.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الإيمان (175) عن أبي بكر بن أبي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن عبد الملك، عن عطاء، عن أبي هريرة، فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13419 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه مسلم في الإيمان (175) عن أبي بكر بن أبي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن عبد الملك، عن عطاء، عن أبي هريرة، فذكره.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13419 in Urdu