الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5607. 1- باب قوله: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا (1)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے (آغاز کے) وقت طلاق دیا کرو اور عدت کا پوری طرح حساب رکھو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے، (ایامِ عدت میں) نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس صورت کے کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کریں، اور یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، اور جو کوئی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو بلاشبہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تمہیں نہیں معلوم شاید اللہ اس کے بعد (صلح و رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے۔“
حدیث نمبر: 13575
13575- عن عبد الله بن عمر أنه طلق امرأته وهي حائض، فذكر عمر لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فتغَيَّظَ فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال: ليراجعها، ثم يمسكها حتى تطهر، ثم تحيض فتطهر، فإن بدا له أن يطلقها فَلْيُطَلِّقْهَا طاهرا قبل أن يَمَسَّها، فتلك العدة كما أمر الله.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4908) ومسلم في الطلاق (1471: 4) كلاهما من طريق ابن شهاب الزهري، قال: أخبرني سالم بن عبد الله، أن عبدالله بن عمر قال: فذكره، واللفظ للبخاري، ولفظ مسلم نحوه.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13575 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4908) ومسلم في الطلاق (1471: 4) كلاهما من طريق ابن شهاب الزهري، قال: أخبرني سالم بن عبد الله، أن عبدالله بن عمر قال: فذكره، واللفظ للبخاري، ولفظ مسلم نحوه.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13575 in Urdu