🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

جامع الکامل میں ترقیم دار ابن بشیر سے تلاش کل احادیث (16547)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4649. 25- باب قوله: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (67) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا فَارِضٌ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ (68) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُهَا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ (69) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ (70) قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَا شِيَةَ فِيهَا قَالُوا الْآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ (71) وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ (72) فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِ اللَّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (73)
اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: ”اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں مذاق کا نشانہ بناتے ہیں؟ موسیٰ نے جواب دیا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نادانوں میں شامل ہو جاؤں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب سے ہمارے لیے التجا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے واضح فرما دے کہ وہ گائے کیسی ہو؟ موسیٰ نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو جو نہ تو بوڑھی ہو اور نہ ہی بالکل کم عمر بچھیا، بلکہ ان دونوں کے مابین اوسط عمر کی ہو، پس اب تم وہی کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب سے ہمارے لیے عرض کیجیے کہ وہ ہمارے لیے بیان فرما دے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ موسیٰ نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ گہرے زرد رنگ کی ایسی گائے ہو جس کی رنگت نہایت شوخ ہو اور دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بھلی لگتی ہو۔ انہوں نے پھر کہا کہ آپ اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں صاف صاف بتا دے کہ وہ کیسی ہو؟ کیونکہ ایسی گائیں ہم پر مشتبہ ہو گئی ہیں اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور ہدایت پا لیں گے۔ موسیٰ نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو جو نہ تو محنت مشقت کی عادی ہو کہ زمین جوتتی ہو اور نہ ہی کھیتی کو پانی دیتی ہو، وہ ہر عیب سے پاک اور صحیح سالم ہو جس میں کسی دوسرے رنگ کا کوئی نشان نہ ہو، وہ بول اٹھے کہ اب آپ نے اصل حقیقت واضح کی ہے، پھر انہوں نے اسے ذبح کر دیا حالانکہ وہ (اپنی حجت بازیوں کی بنا پر) ایسا کرتے دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا پھر اس کے متعلق ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگے تھے، اور اللہ اس بات کو ظاہر کرنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے۔ پس ہم نے حکم دیا کہ اس (مقتول کے جسم) کو اس (ذبح شدہ گائے) کے ایک حصے سے مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ فرماتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل و دانش سے کام لو۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A342
في هذه الآيات إشارة واضحة إلى قصة وقعت في بني إسرائيل في عهد موسى عليه السلام، وقد روي عن بعض الصحابة والتابعين ما سمعوا من اليهود، ومن أصحها إسنادا ما روي عن عبيدة بن عمرو السلماني المخضرم المتوفى سنة (70هـ) قال: كان رجل في بني إسرائيل عقيم لا يولد له، وكان له مال كثير، وكان ابن أخيه وارثه، فقتله ثم احتمله ليلاً فوضعه على باب رجل منهم، ثم أصبح يدعيه عليهم، حتى تسلحوا وركب بعضهم إلى بعض، فقال ذوو الرأي والنُّهى: علام يقتل بعضكم بعضا، وهذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فيكم؟ فأتوا موسى فذكروا ذلك له فقال: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً فقالوا: أتتخذونا هزوا؟ قال: أعوذ بالله أن أكون من الجاهلين.قال: فلو لم يعترضوا البقرة، لأجزت عنهم أدنى بقرة، ولكنهم شدّدوا فشدّد عليهم حتى انتهوا إلى البقرة التي أمروا بذبحها فوجدوها عند رجل ليس له بقرة غيرها، فقال: والله لا أنقصها من ملء جلدها ذهباً، فأخذوها بملء جلدها ذهباً فذبحوها فضربوه ببعضها فقام، فقالوا: من قتلك؟ فقال: هذا، لابن أخيه، ثم مال ميتاً، فلم يعط من ماله شيء، ولم يورث قاتل بعده.

الجامع الكامل کی حدیث نمبر A342 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
رواه ابن أبي حاتم في تفسيره (1/136) عن الحسن بن محمد بن الصباح، ثنا يزيد بن هارون، أنبا هشام بن حسان، عن محمد بن زيد، عن عبيدة، فذكره.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 0 in Urdu