السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3806. -- باب: ما جاء في أفضل الضحايا
-- باب: بہترین قربانی کے جانوروں کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: Q19081
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِذَا كَانَتِ الضَّحَايَا إِنَّمَا هُوَ دَمٌ يُتَقَرَّبُ بِهِ فَخَيْرُ الدِّمَاءِ أَحَبُّ إِلِيَّ، وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ أَنَّ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ} [الحج: 32] اسْتِسْمَانُ الْهَدْيِ وَاسْتِحْسَانُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا"..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب قربانیاں محض ایک خون ہیں جس کے ذریعے (اللہ کا) قرب حاصل کیا جاتا ہے، تو بہترین خون (یعنی عمدہ جانور) مجھے زیادہ پسند ہے، اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ﴾ ’یہ (حکم) ہے، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے۔‘ [سورة الحج: 32] سے مراد قربانی کے جانور کو فربہ (موٹا تازہ) اور عمدہ بنانا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا غلام (آزاد کرنا) افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جو قیمت میں سب سے مہنگا ہو اور اپنے مالکوں کے نزدیک سب سے زیادہ نفیس (اور پسندیدہ) ہو۔‘“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19081]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا غلام (آزاد کرنا) افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جو قیمت میں سب سے مہنگا ہو اور اپنے مالکوں کے نزدیک سب سے زیادہ نفیس (اور پسندیدہ) ہو۔‘“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19081]
حدیث نمبر: 19081
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ". قُلْتُ: أِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا". قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے پوچھا: کون سا غلام (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی قیمت زیادہ ہو اور گھر والوں کے نزدیک پسندیدہ ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاریگر کی مدد کر یا کسی اناڑی کا کام کر دے۔“ میں نے کہا: اگر یہ نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، اس کے ذریعے اپنے اوپر صدقہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19081]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19081 in Urdu