🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
854. -- باب: من قال بطهارة شعر الآدمي، وأن النهي عن الوصل به لمعنى آخر لا لنجاسته
-- باب: اس قول کا بیان جس نے انسانی بالوں کے پاک ہونے کا کہا ہے، اور یہ کہ انہیں جوڑنے کی ممانعت کسی اور وجہ سے ہے نہ کہ ان کی نجاست کی وجہ سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4232
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِنًى فَدَعَا بِذِبْحٍ فَذُبِحَ، ثُمَّ دَعَا بِالْحَلَّاقِ فَأَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَجَعَلَ يَقْسِمُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ الشَّعْرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ، ثُمَّ أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ قَالَ:" هَاهُنَا أَبُو طَلْحَةَ؟" فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو قربانی والے دن پتھر مارے، پھر اپنی جگہ پر منیٰ میں واپس آئے، قربانی منگوا کر ذبح کی، پھر سر مونڈنے والے کو بلایا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے دائیں جانب سے بال اتار دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس بیٹھنے والوں میں ایک ایک، دو دو بال کر کے تقسیم کر دیے، پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کے بال اتارے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہاں ابوطلحہ ہے؟“ وہ بال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4232]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5920»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4232 in Urdu