السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1757. -- باب: من كره السواك بالعشي إذا كان صائما لما يستحب من خلوف فم الصائم
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8331
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْهَرَوِيُّ فِي الرَّوْضَةِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي عَلِيٍّ الرَّفَّاءِ قُلْتُ لَهُ أَخْبَرَكُمْ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللهُ: الصَّوْمُ لِي ⦗٤٥٤⦘ وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى اللهَ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا کہ وہ اپنی خواہش کو ترک کر دیتا ہے، کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے میری وجہ سے اور روزہ ڈھال ہے اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب کی ملاقات کے وقت ہو گی اور اس کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی عمدہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8331]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ قريباً»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8331 in Urdu