السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1991. -- باب: المفرد والقارن يكفيهما طواف واحد وسعي واحد بعد عرفة فإن كانا قد سعيا بعد طواف القدوم اقتصرا على الطواف بالبيت بعد عرفة وتحللا
-- باب: حجِ افراد اور حجِ قران کرنے والوں کے لیے عرفہ کے بعد ایک طواف اور ایک سعی ہی کافی ہے، پس اگر انہوں نے طوافِ قدوم کے بعد سعی کر لی تھی تو وہ عرفہ کے بعد صرف بیت اللہ کے طواف پر اکتفا کریں اور حلال ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 9422
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالُوا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَجَاءَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَسَعْكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ" فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ، عَنْ وُهَيْبٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا اور وہ آئیں، ابھی بیت اللہ کا طواف بھی نہ کیا تھا کہ حائضہ ہو گئیں تو انہوں نے تمام تر مناسک ادا کیے اور حج کا تلبیہ کہا تو ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا طواف تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے۔“ تو انہوں نے انکار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ تنعیم بھیجا تو انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9422]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9422 in Urdu