مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. بَابٌ .
بلا عنوان
حدیث نمبر: 14257
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" ادْعُوا لِي بِصَحِيفَةٍ وَدَوَاةٍ أَكْتُبْ لَكَمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدِي أَبَدًا". فَكَرِهْنَا ذَلِكَ أَشَدَّ الْكَرَاهَةِ، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُوا لِي بِصَحِيفَةٍ أَكْتُبْ لَكَمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا". فَقَالَ النِّسْوَةُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: أَلَا يَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: إِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، إِذَا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَصَرْتُنَّ أَعْيُنَكُنَّ، وَإِذَا صَحَّ رَكِبْتُنَّ رَقَبَتَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" دَعُوهُنَّ ; فَإِنَّهُنَّ خَيْرٌ مِنْكُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: فِي حَدِيثِهِ نَظَرٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: فِي حَدِيثِهِ نَظَرٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ نے فرمایا: میرے پاس ایک صحیفہ اور دوات لے کر آؤ، تاکہ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں، کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، راوی کہتے ہیں: تو ہمیں یہ بات بہت گراں گزری، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس صحیفہ لے کر آؤ، تاکہ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے، تو پردے کے پیچھے سے خواتین نے کہا: کیا یہ لوگ وہ بات نہیں سن رہے؟ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں، تو میں نے کہا: تم لوگ سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے، تو تم نے اپنی آنکھیں نچوڑ لی تھیں، تو اب جب وہ تندرست ہو رہے ہیں، تو تم ان کی گردن پر سوار ہو رہی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو رہنے دو! کیونکہ یہ تم لوگوں سے بہتر ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن ابراہیم جعفری ہے، عقیلی کہتے ہیں: اس کی نقل کردہ روایت میں غور و فکر کی گنجائش ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14257]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن ابراہیم جعفری ہے، عقیلی کہتے ہیں: اس کی نقل کردہ روایت میں غور و فکر کی گنجائش ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14257]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 14257 in Urdu