🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
74. بَابٌ .
بلا عنوان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14282
وَعَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: إِنِّي لَأَذْكُرُ مَا قَالَهُ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:
أَلَا لِيَ الْوَيْلُ عَلَى مُحَمَّدِ قَدْ كُنْتُ فِي حَيَاتِهِ بِمَرْصَدِ أَنَامُ لَيْلِي آمِنًا إِلَى الْغَدِ
.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ بِشْرِ بْنِ آدَمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا غنیمم بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یاد آتا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا، تو اس دن میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہا: تھا (انہوں نے یہ اشعار کہے تھے:) ”خبردار! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے، میرے لئے بربادی ہے، آپ کی زندگی میں، میں ایک گھات میں تھا اور میں رات بھر صبح ہونے تک سویا رہتا تھا۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف بشر بن آدم کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14282]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (854)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح

Majma al-Zawa'id Hadith 14282 in Urdu