مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. بَابٌ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ .
عشاء کی نماز اور صبح کی نماز باجماعت ادا کرنا
حدیث نمبر: 2146
وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَشْهَدُهُمَا مُنَافِقٌ"، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعَشَاءِ قَالَ أَبُو بِشْرٍ: يَعْنِي لَا يُوَاظِبُ عَلَيْهِمَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو عُمَيْرِ بْنُ أَنَسٍ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ أَبِي بَشِيرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو عُمَيْرِ بْنُ أَنَسٍ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ أَبِي بَشِيرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
ابوعمیر بن انس نے اپنے چچاؤں کے حوالے سے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، یہ بات نقل کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ان دونوں (یعنی عشاء اور فجر کی باجماعت نمازوں) میں کوئی منافق شریک نہیں ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء اور صبح کی نمازیں تھیں ابوبشر کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان دونوں کو باقاعدگی سے ادا نہیں کرے گا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعمیر بن انس ہے ابوبشیر جعفر بن ابووحشیہ کے علاوہ اور کسی کو میں نے اس راوی سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2146]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعمیر بن انس ہے ابوبشیر جعفر بن ابووحشیہ کے علاوہ اور کسی کو میں نے اس راوی سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2146]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 2146 in Urdu