مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. بَابٌ فِيمَا يُعْفَى عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ .
نماز میں کس چیز کی معافی ہے؟
حدیث نمبر: 2274
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْقَوْسِ وَالْقَرْنِ فَقَالَ:" صَلِّ فِي الْقَوْسِ وَاطْرَحِ الْقَرْنَ" يَعْنِي الْكِنَانَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کمان اور قرن میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ نے ارشاد فرمایا: کمان میں نماز ادا کر لو لیکن قرن کو پرے کر دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ترکش تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے: اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2274]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے: اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2274]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 2274 in Urdu