مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
140. بَابُ لَا يَخُصُّ الْإِمَامُ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ .
امام اپنی ذات کو دعا کے لئے مخصوص نہ کرے
حدیث نمبر: 2423
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَأْتِ أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ، وَلَا يَؤُمَّنَّ أَحَدُكُمْ فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ:" وَلَا يُدْخِلُ عَيْنَيْهِ بَيْتًا حَتَّى يَسْتَأْذِنَ".
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ:" لَا يَأْتِ أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ".
وَفِيهِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ:" وَلَا يُدْخِلُ عَيْنَيْهِ بَيْتًا حَتَّى يَسْتَأْذِنَ".
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ:" لَا يَأْتِ أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ".
وَفِيهِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لئے اس وقت نہ آئے جب وہ پیشاب یا پاخانہ کو روکے ہوئے ہو اور جو شخص امامت کر رہا ہو وہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعا نہ کرے اگر وہ ایسا کرے گا، تو وہ ان کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہو گا“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ان صحابی کے حوالے سے یہ الفاظ منقول ہیں: ”آدمی اپنی آنکھیں (یعنی نگاہ) کسی گھر میں داخل نہ کرے جب تک وہ اجازت نہیں لے لیتا“۔ میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس روایت کا صرف یہ حصہ نقل کیا ہے: ”کوئی بھی شخص نماز ادا کرنے کے لئے اس وقت آئے جب وہ پاخانہ یا پیشاب روکے ہوئے ہو“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سفر بن نسیر ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2423]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ان صحابی کے حوالے سے یہ الفاظ منقول ہیں: ”آدمی اپنی آنکھیں (یعنی نگاہ) کسی گھر میں داخل نہ کرے جب تک وہ اجازت نہیں لے لیتا“۔ میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس روایت کا صرف یہ حصہ نقل کیا ہے: ”کوئی بھی شخص نماز ادا کرنے کے لئے اس وقت آئے جب وہ پاخانہ یا پیشاب روکے ہوئے ہو“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سفر بن نسیر ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2423]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 2423 in Urdu