مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
143. بَابُ الضَّحِكِ وَالتَّبَسُّمِ فِي الصَّلَاةِ .
نماز کے دوران ہنس پڑنا یا مسکرا دینا
حدیث نمبر: 2442
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ رِئَابٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَرَّ بِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَنَا أُصَلِّي فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْوَازِعُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْوَازِعُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا جابر بن رکاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جبرائیل علیہ السلام میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز ادا کر رہا تھا وہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑے اور میں انہیں دیکھ کر مسکرا دیا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی وازع ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2442]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی وازع ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2442]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
Majma al-Zawa'id Hadith 2442 in Urdu