مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
189. بَابٌ فِي بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ .
بسم اللہ الرحمن الرحیم کا بیان
حدیث نمبر: 2626
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَهْرِ بِبَسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ: كُنَّا نَقُولُ هِيَ قِرَاءَةُ الْأَعْرَابِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے (نماز کے دوران تلاوت کرتے ہوئے) بلند آواز میں بسم الله الرحمنِ الرَّحِیمِ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ہم یہ سمجھے تھے کہ یہ دیہاتیوں کا تلاوت کا طریقہ ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے وہ ”ثقہ“ ہے، لیکن تدلیس کرنے والا ہے، اس نے یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2626]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے وہ ”ثقہ“ ہے، لیکن تدلیس کرنے والا ہے، اس نے یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2626]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس میں ابو سعد البقال مدلس ہے اور اس نے عنعنہ سے روایت کی ہے، جبکہ بقیہ رجال صحیح ہیں۔
Majma al-Zawa'id Hadith 2626 in Urdu