🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
192. بَابٌ التَّأْمِينِ .
آمین کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2663
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ أَزْوَاجِهِ وَعَائِشَةُ، عِنْدَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ:" وَعَلَيْكُمْ"، فَجَلَسُوا فَتَحَدَّثُوا وَقَدْ فَهِمَتْ عَائِشَةُ تَحِيَّتَهُمُ الَّتِي حَيَّوْا بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَجْمَعَتْ غَضَبًا وَتَبَصَّرَتْ فَلَمْ تَمْلِكْ غَيْظَهَا فَقَالَتْ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ بِهَذَا تُحَيُّونَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجُوا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا قُلْتِ؟" قَالَتْ: أَوَ لَمَ تَسْمَعْ كَيْفَ حَيَّوْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَاللَّهِ مَا مَلَكْتُ نَفْسِي حِينَ سَمِعْتُ تَحِيَّتَهُمْ إِيَّاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا جَرَمَ كَيْفَ رَأَيْتِ رَدَدْتِ عَلَيْهِمْ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ سَئِمُوا دِينَهُمْ وَهُمْ قَوْمُ حَسَدٍ، وَلَمْ يَحْسُدُوا الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَفْضَلِ مِنْ ثَلَاثٍ: رَدُّ السَّلَامِ، وَإِقَامَةُ الصُّفُوفِ، وَقَوْلُهُمْ خَلْفَ إِمَامِهِمْ فِي الْمَكْتُوبَةِ: آمِينَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے کسی ایک کے گھر میں موجود تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں کچھ یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو موت آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بھی آئے وہ لوگ بیٹھ گئے اور بات چیت کرنے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے سلام کرنے کے طریقے کی سمجھ آ گئی جن الفاظ کے ذریعے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو شدید غصہ آیا وہ دیکھتی رہیں پھر انہیں اپنے اوپر ق ابونہیں رہا تو انہوں نے کہا: بلکہ تم لوگوں کو موت آئے اللہ کا غضب اور اس کی لعنت تم پر ہو تم لوگ اس طریقے سے اللہ کے نبی کو سلام کرتے ہو پھر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم نے جو کچھ کہا: تھا وہ کیوں کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کس طریقے سے آپ کو سلام کیا تھا۔ اللہ کی قسم! جب میں نے ان کے اس سلام کو سنا تو میں خود پر ق ابونہیں رکھ سکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مسئلہ نہیں ہے تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے انہیں کیسے جواب دیا تھا: یہودی ایسے لوگ ہیں جو اپنے دین سے اکتاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں، اور یہ حسد کرنے والے لوگ ہیں یہ تین چیزوں سے زیادہ اور کسی چیز کے حوالے سے مسلمانوں کے ساتھ حسد نہیں رکھتے سلام کا جواب دینا صفیں قائم کرنا اور ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) کا فرض نماز میں امام کے پیچھے آمین کہنا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2663]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔

Majma al-Zawa'id Hadith 2663 in Urdu