مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابٌ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ .
عاشوراء کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 5129
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: لَيْسَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ بِالْيَوْمِ الَّذِي يَقُولُهُ النَّاسُ إِنَّمَا كَانَ يَوْمٌ تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ وَتَقْلِسُ فِيهِ الْحَبَشَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَدُورُ فِي السَّنَةِ وَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَ فُلَانًا الْيَهُودِيَّ فَيَسْأَلُونَهُ فَلَمَّا مَاتَ الْيَهُودِيُّ أَتَوْا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلُوهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عاشوراء کے دن سے مراد وہ دن نہیں ہے، جس کے بارے میں لوگ یہ کہتے ہیں: یہ ایک ایسا دن ہے، جس دن میں خانہ کعبہ کو غلاف پہنایا گیا اور حبشیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس دن کرتب دکھائے تھے، وہ قحط سالی میں گھوما کرتے تھے، پہلے لوگ فلاں یہودی کے پاس جا کر اس سے سوال کرتے (یعنی مانگتے) تھے، جب وہ یہودی مر گیا، تو وہ لوگ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے سوال کیا (یا کچھ مانگا)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصيام/حدیث: 5129]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصيام/حدیث: 5129]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4876)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 5129 in Urdu