مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 53
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے، جب وہ یہ پڑھ لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے، جس سے استدلال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 53]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے، جس سے استدلال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6465»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
Majma al-Zawa'id Hadith 53 in Urdu