مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ عَرْضِ الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ عَلَى أَهْلِ الْخِيرَةِ .
آدمی کا، اپنی زیر پرورش لڑکی کے رشتہ کی، نیک لوگوں کو پیش کش کرنا
حدیث نمبر: 7459
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ لَقِيَ عُمَرُ عُثْمَانَ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُثْمَانُ: مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ وَسَأَنْظُرُ. فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَوَجَدَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَطَبَهَا فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ عُمَرُ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ فَرَدَّنِي، وَإِنِّي عَرَضْتُهَا عَلَيْكَ فَسَكَتَّ عَنِّي فَلَا أَنَا عَلَيْكَ كُنْتُ أَشُدَّ غَضَبًا مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، وَقَدْ رَدَّنِي. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ سِرٌّ فَكَرِهْتُ أَنْ أُفْشِيَ السِّرَّ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ نَفْسِهِ، وَهُوَ هُنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَزَادَ: قَالَ عُمَرُ: فَشَكَوْتُ عُثْمَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تَزَوَّجَ حَفْصَةَ خَيْرٌ مِنْ عُثْمَانَ وَيُزَوَّجُ عُثْمَانَ خَيْرٌ مِنْ حَفْصَةَ" فَزَوَّجَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ.
وَفِي إِسْنَادِهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ نَفْسِهِ، وَهُوَ هُنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَزَادَ: قَالَ عُمَرُ: فَشَكَوْتُ عُثْمَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تَزَوَّجَ حَفْصَةَ خَيْرٌ مِنْ عُثْمَانَ وَيُزَوَّجُ عُثْمَانَ خَيْرٌ مِنْ حَفْصَةَ" فَزَوَّجَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ.
وَفِي إِسْنَادِهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا، خنیس بن حذافہ کے حوالے سے بیوہ ہو گئیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ دیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خواتین کی ضرورت نہیں ہے البتہ میں اس بارے میں غور کروں گا، پھر اُن کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے اس بارے میں پیشکش کی، تو وہ خاموش رہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے الجھن محسوس ہوئی، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دے دیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عثمان کو پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے جواب دے دیا، میں نے آپ کو پیشکش کی لیکن آپ خاموش رہے، مجھے آپ پر عثمان سے زیادہ غصہ آیا، کیونکہ اس نے مجھے جواب تو دے دیا تھا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایک راز تھا، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اس راز کو ظاہر کروں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے، اور یہاں یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے اور وہ ثقہ ہے، زہری سے اس کے حدیث نقل کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حفصہ کے ساتھ وہ شادی کرے گا، جو عثمان سے زیادہ بہتر ہے، اور عثمان کی شادی اس سے ہو گی، جو حفصہ سے زیادہ بہتر ہے“۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کی شادی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کروا دی۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7459]
یہ روایت ”صحیح“ میں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے، اور یہاں یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے اور وہ ثقہ ہے، زہری سے اس کے حدیث نقل کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حفصہ کے ساتھ وہ شادی کرے گا، جو عثمان سے زیادہ بہتر ہے، اور عثمان کی شادی اس سے ہو گی، جو حفصہ سے زیادہ بہتر ہے“۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کی شادی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کروا دی۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7459]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (12/1)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 7459 in Urdu