🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
41. بَابُ الِاسْتِئْمَارِ .
مرضی معلوم کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7463
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خُطِبَ بَعْضُ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى الْخِدْرِ فَقَالَ:" إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةً". فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ كَانَ سُكُوتُهَا رِضَاهَا، وَإِنْ هِيَ كَرِهَتْ طَعَنَتْ فِي الْحِجَابِ فَكَانَ ذَلِكَ مِنْهَا كَرَاهِيَةً.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا گیا، تو آپ پردے کے پیچھے تشریف فرما ہوئے، آپ نے فرمایا: فلاں شخص نے فلاں خاتون کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے، اگر وہ صاحبزادی خاموش رہیں، تو ان کی خاموشی ان کی رضامندی شمار ہوئی، اور اگر انہیں ناگوار گزرا، تو انہوں نے پردے کو کھٹکھٹا دیا، تو یہ چیز ان کی طرف سے ناگواری کا اظہار شمار ہوا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7463]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف

Majma al-Zawa'id Hadith 7463 in Urdu