مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلِيِّ وَالشُّهُودِ .
ولی اور گواہوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7514
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ:" وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ:" وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں: ”سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7514]
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں: ”سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7514]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11298) اخرجه احمد فى المسند (2260)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 7514 in Urdu