🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4. باب (أحاديث 16156–16221)
باب (احادیث 16156 تا 16221)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16190
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَغَيْرِهِ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ، الَّذِي يُدْعَى مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْرِكٌ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامَ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ»
فَقَالَ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ: ابْعَثْ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ شِئْتَ مِنْ رُسُلِكَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِيهِمْ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو السَّاعِدِيُّ، يُقَالُ لَهُ: أَعْنَقَ لِيَمُوتَ عَيْنًا فِي أَهْلِ نَجْدٍ، فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَاسْتَنْفَرَ لَهُمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَنَفَرُوا مَعَهُ فَقَتَلُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَخَذَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَأَرْسَلَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ، وَكَانَ فِيهِمْ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، فَزَعَمَ لِي عُرْوَةُ أَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُوجَدْ جَسَدُهُ حِينَ دَفَنُوهُ، يَقُولُ عُرْوَةُ: «وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ هِيَ دَفَنَتْهُ» ، فَقَالَ حَسَّانٌ: يُحَرِّضُ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ:
[البحر الوافر]
بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ... وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ
تَهَكُّمِ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ... لِيَخْفِرُهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ
فَطَعَنَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ فِي خَفْرَتِهِ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ فِي فَخِذِهِ طَعْنَةً فَقَدَّهُ? «وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ»
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ وغیرہ سے روایت ہے کہ عامر بن مالک بن جعفر، جسے ملاعب الاسنہ کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ وہ مشرک تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔“
تو عامر بن مالک نے کہا: یا رسول اللہ! اپنے قاصدوں میں سے جسے چاہیں بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت بھیجی جن میں منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ بھی تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا: ”وہ موت کی طرف تیزی سے بڑھے“، انہیں اہلِ نجد میں خبر لانے والا بنا کر بھیجا گیا تھا۔ تو عامر بن طفیل کو ان کی خبر ملی، اس نے ان کے خلاف بنی سلیم سے مدد طلب کی، وہ اس کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو بئرِ معونہ پر قتل کر دیا۔ عامر بن طفیل نے انہیں پکڑ کر بعد میں چھوڑ دیا۔ جب وہ ان سب میں سے واحد بچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے - اور ان میں عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، مجھے عروہ نے بتایا کہ وہ اسی دن قتل ہوئے تھے مگر جب انہیں دفن کرنے کے لیے تلاش کیا تو ان کی لاش نہ ملی، عروہ کہتے ہیں: لوگوں کا خیال تھا کہ فرشتوں نے ہی انہیں دفن کر دیا تھا - تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عامر بن طفیل کے خلاف ابھارتے ہوئے یہ اشعار کہے:
[بحرِ وافر میں]
”اے ام البنین کے بیٹو! کیا تمہیں یہ بات ہلا نہیں دیتی، جبکہ تم اہلِ نجد کے سرداروں میں سے ہو؟ عامر کا ابوبراء کی دی ہوئی پناہ کو حقیر جاننا، تاکہ اس کا عہد توڑے - یہ خطا نہیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئی بات تھی۔“
چنانچہ ربیعہ بن عامر بن مالک نے عامر بن طفیل کو، اس کے عامر بن مالک کی پناہ توڑنے کے بدلے، اس کی ران میں ایسا نیزہ مارا کہ اسے چیر ڈالا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے اپنی روایت میں والد کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16190]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 71، حدیث 140»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 16190 in Urdu